ہمیں بھی جینے کا حق چاہیے


زندگی کا ہر دن اس قدر مشکل اور درد ناک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ جبر مسلسل ہے جو ہم برداشت کر رہے ہیں۔ اس قدر مجبور اور بے یار و مددگار ہم ٹھہرے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ثابت ہوتی ہے کہ ہم پہلے بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ہیں۔ ہم اپنی زندگی کو رواں رکھنے اور بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے لیے حلال رزق کی خاطر اپنی زندگی کے عظیم لمحات سے بے گھر ہوتے ہیں۔ اور شاید زندگی کے آ خری دن، وہ بھی کسی بری تکلیف میں مبتلا ہو کر، گھر واپس لوٹتے ہیں۔

اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے ہمارے لیے۔ اسی کی مد میں مجھے کل کا قصہ بتلانے میں کوئی عار نہیں بلکہ مجھے فکر ہے کہ میں بھی اس معاشرے کا حصہ ہو جن کے ساتھ لوئر میڈیم کلاس کا لفظ لگتا ہے۔ میں جب بہاول پور سے نکلا تو ایسے لگ رہا تھا میں کسی جنت کی ٹکرے کی طرف گامزن ہو کیونکہ جو اپنی جائے پیدائش ہوتی ہے وہ انسان کو دنیا کے تمام خوبصورت مقامات سے افضل لگتی ہے۔ بڑی مشکل سے اللّٰہ اللّٰہ کر کے ٹرانسپورٹ والوں کے مظالم برداشت کیے۔ جو کچھ کرائے نامے کی صورت میں تھا اور کچھ ان کا رویہ جو ہر وقت مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آزادی کیا ہے۔

چلو یہ ایک سفر تھا جو کٹ گیا مگر اصلی سفر تو یہ ہے نہ جو اپنے گاؤں کے قریب پہنچ کر بندہ اپنے گھر کی دہلیز پر نہ پہنچ پائے اور کسی رئیس اور وڈیرے، آنا پرست، لینڈ لارڈ، زمیندار کے جوان بیٹوں اور ان بیٹوں کے دوستوں کے ہتھے چڑھ جائے۔ ہائے یہ غریبی اور مفلسی تیرے وار جو ہمیشہ ہم سہتے رہیں گے۔ مجھے بڑا دکھ ہوا کہ میں اس دن گھر سورج کی روشنی میں نہ پہنچ پایا وہ بھی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے۔ مجھے تقریباً نو بجے چک نمبر 123 / 7 ای آر کے قریب پہنچتے میں لگ گئے جیسے ہی میں نے اس جگہ کو موٹر بائیک پر کراس کیا تو سامنے ایک بڑی سی گاڑی جس کی لائٹ اتنی تیز تھی اور اس قدر آنکھوں میں لگ رہی تھی شاید چند منٹ کے لیے آپ کو کچھ نظر ہی نہ آئے۔

میری غلطی یہی تھی۔ ان چار نوجوانوں کو جو اس بڑی اور لمبی گاڑی پر سوار تھے میں بولا اشارہ کیا کہ اپنی گاڑی کی ہائی لائٹ کو مدہم کرو یعنی لو لائٹ کرو انہوں نے فوری اپنی گاڑی کو روکا میں نے بھی موٹر بائیک روکی اور وہ جوان لڑکے اترتے ہی میرے گلے آن پڑے کہ آپ کون ہوتے ہیں ہمیں یہ بات کرنے والے انہوں نے مجھے کافی برا بھلا بولا جو میں نے سن لیا۔ مگر میں نے ان کو بڑے ادب کے دائرے میں بتایا کہ میرے بھائی یہ ون وے روڈ ہے اس پر جتنا آپ کا حق ہے اتنا ہی میرا ہے۔

مگر شاید یہ بات کرتے وقت میں بھول چکا تھا کہ میں ایک مزدور کا بیٹا ہوں اور وہ ایک بڑے زمیندار اور علاقے کے کسی وڈیرے کے صاحبزادگان ہیں۔ مجھے دکھ ہوا کچھ کر نہ پانے کی وجہ سے میں نے ان کو فریاد کی بھائی صاحب آپ اپنے الفاظ پر دھیان دیں۔ تاکہ آپ لوگوں کو اندازہ ہو کہ ہم بھی اسی زمین پر رہتے ہیں۔ اور ہمارے ساتھ بھی اشرف المخلوقات کا لفظ لگتا ہے۔ مگر وہ فقط ہمیں اس دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں۔ اور ہمارے لیے ان کا نظریہ ایک غلیظ کم تر اور ادنیٰ انسان کے سوا کچھ نہیں۔

شاید یہ جوان لڑکے اس تبدیلی کے خواب کا حتمی نتیجہ ہیں جو چند سال پہلے کسی ایسے انسان نے دیکھا جو آج اس سارے نقصان سے خود کو بری الذمہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں، لیڈر کوئی بھی ہو، پارٹی کوئی بھی ہو، ہمیں کسی سے کوئی تکلیف نہیں مگر خداوند عالم کی عزت کی قسم تم لوگوں کو، ان بچوں کی اخلاقیات کا جنازہ نہ نکالا جائے اور ان کو معاشرے میں ایسا رویہ برتنے سے روکا جائے۔ تاکہ ایک اچھے روشن پاکستان کے لیے جو ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا اس خواب کو پورا کیا جا سکے۔

 

Facebook Comments HS