قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (9)


6

اس موضوع پر گزشتہ تحریر اس سوال تک پہنچی تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی قیادت کے دعوے دار گروہ کا قائداعظم کی سیاست سے کیا تعلق تھا۔ 1906ء میں قائم ہونے والی مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کے خالص سیاسی تحفظات کی روشنی میں قائم ہوئی تھی اور اس کا محرک 1905ء میں ہونے والی تقسیم بنگال کی آل انڈیا کانگرس کی طرف سے مخالفت تھی۔ مسلم لیگ کی طرف سے یکم اکتوبر 1906ء کو وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کرنے والے 35 مسلم زعما کی فہرست دیکھ کر بتائیے کہ اس میں کونسے روایتی مذہبی پیشوا شامل تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس وفد میں نواب سلیم اللہ خان، آغا خان سوم اور سر محمد شفیع پیش پیش تھے۔ جداگانہ انتخاب کے سوال پر 1916ء میں میثاق لکھنو طے پایا تو مسلم وفد کی قیادت محمد علی جناح کر رہے تھے ۔ تحریک خلافت میں مسلم لیگ شامل نہیں ہوئی۔ یہ بھی دیکھ لیجئے کہ 1946ء میں مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی میں جماعت علی شاہ، پیر آف مانکی شریف یا شبیر احمد عثمانی میں سے کوئی شامل تھا؟ دو مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ منتخب ہونے والے اللہ بخش سومرو نے 1940ء میں آزاد مسلم کانفرنس قائم کی تو اپریل کے دہلی کنونشن میں آل انڈیا جمعیت علما، آل انڈیا مومن کانفرنس، مجلس احرار، شیعہ پولیٹیکل کانفرنس، خدائی خدمت گار، کرشک پرجا پارٹی، انجمن وطن بلوچستان، آل انڈیا مسلم مجلس اور جمعیت اہلحدیث جیسی مسلم تنظیمیں شامل ہوئیں۔ آزاد مسلم کانفرنس کے ذکر سے صرف یہ وضاحت مطلوب ہے کہ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم نہیں تھی۔ مسلم لیگ کا پہلا دور تو مارچ 1929ء کے اس دہلی اجلاس میں ختم ہو گیا تھا جس میں قائداعظم مسلم زعما کو نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے چودہ نکاتی ردعمل پر قائل نہیں کر سکے تھے۔ وہ وقتی طور پر مسلم لیگ کو خیرباد کہہ کے برطانیہ چلے گئے اور 1934ء میں ہندوستان واپس لوٹے۔ 1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔ پنجاب میں 75 مسلم نشستوں میں سے یونینسٹ پارٹی نے 73 نشستیں جیتیں۔ بنگال میں کرشک پرجا پارٹی کے رہنما فضل الحق نے وزارت عظمیٰ سنبھالی ۔ باقی نو صوبوں میں کانگرس نے حکومتیں بنائیں۔ گن جائیے کہ اس وقت مسلم لیگ میں کون سے روایتی علما شامل تھے۔ اس موضوع کی تفصیل جاننا ہو تو اپنے محدود علم کے مطابق تین کتابیں تجویز کرتا ہوں۔ 1965ء میں چودھری حبیب احمدنے ’تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علما ‘شائع کی تھی۔ دہلی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر شمس الاسلام نے 2015ء میں Muslims against Partition کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کو جدید بھارت کا کوئی ٹوڈی مسلمان نہیں سمجھئے گا۔ ڈاکٹر صاحب راشٹریہ سیوک سنگھ کی ہندو نواز سیاست کے خلاف درجن بھر کتابوں کے مصنف ہیں۔ 2017ء میں علی عثمان قاسمی اور Megan Eaton Robb نے Muslims against Muslim League کے عنوان سے ایک جامع کتاب مرتب کی تھی ۔ مسلم لیگ اور ہندوستانی علما کے تعلق پر ایک گواہی سردار شوکت حیات سے بھی لے لیتے ہیں۔ سردار صاحب کی تحریر کو کسی قدر مختصر کرکے پیش کر رہا ہوں ۔ تفصیل کے لیے A Nation that lost its Soul دیکھی جا سکتی ہے۔
’ ہمارے ساتھ صرف وہ علما تھے جو نواب صاحب آف محمود آباد کے دوست اور فرنگی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ مسجد لاہور کے خطیب مولانا غلام مرشد ہمارے ساتھ اس وقت شامل ہوئے جب مجھے پنجاب وزارت سے برطرف کیا گیا (1944)۔ مولانا عبدالحامد بدایونی مسلم لیگ کے حامی تھے۔ ان کے علاوہ 1946 تک کسی معروف عالم دین نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا۔ پنجاب کے پیروں میں سے صرف چند ایک نے تحریک پاکستان میں مدد کی۔ پیر صاحب آف تونسہ شریف نواب ممدوٹ کے سسرالی رشتہ دار تھے۔ ان کے خلیفہ پیر قمر الدین آف سیال شریف اور پیر صاحب آف گولڑہ شریف نے ان کی تقلید میں تحریک میں شمولیت کی۔ پیر جلال پور والے راجہ غضنفر علی سے قرابت کے ناتے تحریک میں حصہ دار بنے۔ ان کے علاوہ پیر جماعت علی شاہ، پیر مانکی شریف اور پیر صاحب آف زکوڑی شریف نے ہماری حمایت کی‘۔ سردار صاحب مزید لکھتے ہیں۔ ’ آج یہ کہنا کہ پاکستان کو اسلامی بنیاد پرستی کے لیے بنایا گیا تھا۔ قائداعظم پر جھوٹا الزام دھرنا ہے۔ اس لیے کہ باقی سب صاحبان مذہب، کیا پیر کیا عالم دین، قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب لوگ بڑھ چڑھ کر اس تحریک کی مخالفت کر رہے تھے۔ آج وہ بچوں کے لگائے گئے نعروں کو (پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الاللہ) کو نعرہ پاکستان کہہ رہے ہیں۔ یہ نعرہ قائداعظم یا ہم میں سے کسی نے نہیں لگایا‘۔
پیر مانکی شریف کے مسلم لیگ میں شامل ہونے کا قصہ بھی پہلو دار ہے۔ ارلینڈ جینسن (Erland Jansson) نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ میں لکھا ہے کہ ”پیر مانکی شریف کی تنظیم انجمن آصفیہ نے اس شرط پر مسلم لیگ کی حمایت کا وعدہ کیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ کی جائے گی۔ جناح نے اس مطالبے سے اتفاق کر لیا۔ اس پر پیر مانکی شریف نے اپنی تنظیم کو 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کرنے کا حکم دیا۔ “
قائد اعظم جناح کا پیر مانکی شریف کے نام وہ خط جس میں انہوں نے پیر صاحب کا مطالبہ تسلیم کیا تھا، پاکستان دستور ساز اسمبلی کے مباحث (جلد پنجم) میں شامل ہے۔ جناح صاحب نے خالص قانونی زبان میں لکھا تھا۔ Shariah will be applied to the affairs of the Muslim community (مسلمانوں کے امور میں شریعت کا اطلاق کیا جائے گا۔) ’مسلمانوں کے امور میں‘ شریعت کا اطلاق کرنے اور ’پاکستان میں شریعت نافذ‘ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مسلمانوں کے امور میں اسلامی اصول و ضوابط کے اطلاق سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں شریعت نافذ کرنے کا مطلب تو اسے مذہبی ریاست بنانا ہو گا۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS

One thought on “قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (9)

  • 09/07/2024 at 7:02 صبح
    Permalink

    MAJ address to Karachi Bar Association on 25 January 1948, is one of irrefutable evidence about the Islamic posture of the future constitution, in his eye.
    Jinnah said, "I could not understand a section of people who deliberately wanted to create mischief and made propaganda that the constitution of Pakistan would not be made on the basis of Sharia
    Islamic principles have no parallels. Today, these principles are as applicable to life as they were 1,300 years ago.

    On on 14 February 1948, at Sibi Durbar, he reiterated his ideology of Pakistan, saying, "It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by our great lawgiver, the Prophet (PBUH) of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles

Comments are closed.