تاش کھیلنا بھی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے
غالباً 2017 کے وسط میں، میں اپنے مرحوم بھائی کے ساتھ ایران جاتے ہوئےرستے میں لیٹ ہو گیا اور تفتان بارڈر پر شام تقریباً 5 بجے پہنچا جب ایرانی امیگریشن کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ مجبوراً رات بارڈر پر پاکستان ہاؤس میں گزارنا پڑی۔
پاکستان ہاؤس بلوچستان لیویز کے زیر انتظام تین چار وسیع و عریض ہالوں اور کافی وسیع صحن پر مشتمل ہے جہاں ایران آنے اور جانے والے زائرین و سیاح اپنی مرضی یا بعض اوقات جبری قیام کرتے ہیں۔
اندر بستر کرائے پر ملتے ہیں اور کینٹین میں کھانا اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگے ملتے ہیں۔ بعض اوقات سینکڑوں زائرین کو سیکیورٹی خدشات کا کہہ کر دس دس پندرہ پندرہ دن بھی قیام کروایا جاتا ہے جس سے گلشن کا کاروبار خوب چلتا ہے۔
بہرکیف جناب ہم اپنے بیگ لئے پاکستان ہاؤس کے اندر ایک بڑے ہال کے کونے میں فرش پر جا بیٹھے۔ اندر بلاشبہ ہزاروں مرد و زن موجود تھے۔
میں نے بیگ سے ایک چادر نکال کر بچھا لی تھی۔ کرائے والے بستر تو سمجھ سے باہر تھے۔
تھوڑی دیر موبائل فون پر ضروری کالز کر کے فون سوئچ آف کر لئے کہ بیٹری بچانا اہم تھا
اب شب بسری کیسے ہو؟ شام کا کھانا زہر مار کرنے کے بعد شب 10 بج رہے تھے اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
میں نے بیگ میں سے تاش کی گڈی نکالی اور ہم دو بھائی تاش کھیلنے لگے۔ کچھ دیر بعد دو اور نوجوان بھی ہمارے ساتھ کھیل میں شریک ہو گئے۔
دوسری تیسری گیم شروع تھی کہ اچانک میری چھٹی حس نے مجھے کسی گڑبڑ کا سگنل دیا۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا تو چند گز کے فاصلے پر تین چار نوجوان ہماری طرف دیکھ کر آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔
میں نے انہیں ان دیکھا کیا مگر کنکھیوں سے توجہ ادھر ہی مبذول رہی ان میں سے دو لڑکے، ارد گرد بیٹھے دو تین گروپس کے پاس گئے اور اپنے ساتھ چند مزید نوجوانوں کو لے کر سیدھے ہماری طرف آئے۔
ان میں سے ایک آگے بڑھا اور کافی بلند آواز میں ہم سے مخاطب ہوا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
میرے باقی ساتھی چونک گئے۔ ہم نے کہا وقت گزاری کے لئے تاش کھیل رہے ہیں۔ یہ الفاظ گویا عمل انگیز ثابت ہوئے۔ یکلخت دو لڑکوں نے ہمیں پھلانگ کر تاش کے پتے اٹھائے، ہمارے ہاتھوں سے چھینے اور سب لوگوں نے مل کر ہمیں زبانی لعن طعن شروع کر دی کہ تمہیں نہیں پتہ کہ یہ یزیدی کھیل ہے؟
تاش کھیلنا یزید کا روزانہ کا معمول تھا۔
ھمیں واقعی نہیں پتہ تھا کہ یزید تاش بھی کھیلتا تھا۔ ارد گرد کے لوگ متوجہ ہو رہے تھے۔ تیس پینتیس افراد کا جمگھٹا اکٹھا ہو چکا تھا اور ھم سر نیہوڑائے ان کی جلی کٹی سن رہے تھے۔ اس قدر شور شرابے کے باوجود ارد گرد دیکھنے پر ہمیں دور دور تک کوئی سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔ تبھی ہمیں بھیگی بلی بن کر معذرت کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔
بہرحال بار بار معذرت کرنے پر ایک بزرگ نے معاملہ بایں صورت رفع کروایا کہ ہم وہ پلید تاش اپنے ہاتھ سے پھاڑیں، سو ہم نے پھاڑی۔
بستر بوریا اٹھایا اور دم دبا کر دوسرے ہال میں پہنچ کر سو گئے کیونکہ اب وہاں اس جتھے کے درمیان رہنا یا سونا خطرے سے ہرگز خالی نہیں تھا کیونکہ معافی تلافی کے باوجود لوگ ہمیں خشمگیں نظروں سے گھور رہے تھے۔
بعد میں ایران پہنچ کر بھی یہی پتہ چلا کہ تاش کھیلنا، رکھنا یہاں ممنوع ہے اور یہ یزیدی کھیل ہے۔ مگر وہاں بھی بلیک میں مہنگے داموں مل جاتی تھی۔
جناب تب سے اب تک حرام ہے جو ہم نے کبھی یہ یزیدی کھیل کھیلا ہو۔
(نوٹ) ۔ مقتبس از ”مشاھدات ایران“ بندہ کا زیر تحریر سفرنامہ


