روایات کی چھتر چھایا میں پروان چڑھنے والی ایک بیٹی سے مکالمہ


ذہن کو اگر آزاد فضا یا ماحول میسر نا ہو تو وہ سماج کے بنائے ہوئے یا طے کردہ دائروں میں الجھ کے رہ جاتا ہے، اسے لگتا ہے کہ اب حق تمام ہو چکا اور جو اس کے آبا و اجداد سے اس تک پہنچا ہے وہی حتمی و آخری سچائی ہے اور حد نگاہ سے آگے بڑھ کے دیکھنا گمراہی اور جہالت ہے۔

اس صورت حال میں قدرت کی ودیعت کردہ ذہنی صلاحیتیں آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہیں اور انسان ایک طرح سے دائروی سی زندگی کا اسیر ہو جاتا ہے۔ سماج میں ایسے لاکھوں اذہان موجود ہیں جو بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن روایتی جبر کی نذر ہو گئے اور روایات کی چار دیواری میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید ہو کر رہ گئے۔

اس مضمون میں، میں ایک ایسی ہی طالبہ کی ان فلٹرڈ یا ان سینسرڈ گفتگو منظر عام پر لانے کی کوشش کروں گا تاکہ پڑھنے والے خود فیصلہ کریں۔ حال ہی میں ایک اسٹوڈنٹ میرے تعلیمی ادارہ ”دی ویژن“ میں انٹرمیڈیٹ کے مضامین کی کوچنگ کے لیے آئی، چند روز پڑھانے کے بعد اندازہ ہوا کہ بچی تو خاصی ذہین ہے، اردو اور عربی الفاظ کی ادائیگی بڑے اچھے سے کرتی ہے اور انگریزی تلفظ بھی خاصا متاثر کن ہے۔ پڑھانے کے دوران اندازہ ہوا کہ بچی کی عمر اور تعلیمی کلاس میں خاصا گیپ ہے۔

میرے حساب سے تو اس وقت تک اس کا بی ایس مکمل ہو جانا چاہیے تھا، گفتگو میں خاصی پختگی کے باوجود بھی اسے لکھنے اور یاد کرنے میں خاصی دقت پیش آتی تھی، کچھ بھی لکھتی تو گھنٹوں بیٹھی رہتی، انگریزی کے جملوں میں کوئی ربط نہ ہوتا۔

مجھے اندازہ ہوا کہ کہیں تو کوئی مسئلہ ہے، خیر تھوڑی سی آشنائی کے بعد ایک روز میں نے اسے کہا کہ بیٹی میں آپ کے ساتھ ایک مکالمہ کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں تو بات کا آغاز کریں؟

اجازت ملنے کے بعد میں نے گزارش کی بیٹی اگر آپ کسی سوال کا جواب نہ دینا چاہیں تو مت دیں کوئی جبر نہیں لیکن جو بھی کہنا پسند کریں وہ بالکل واضح ہو کیونکہ ڈائیلاگ ہمیشہ دیانت داری سے اور کھلے ڈھلے الفاظ میں ہی جچتا ہے ورنہ تو خاموشی ایک بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔

بیٹی! سب سے پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ کیا آپ کے تعلیمی کیریئر میں کوئی گیپ ہے؟
کہنے لگی جی بالکل۔

فرسٹ ائر میں کچھ مضامین میں فیل ہو جانے کے بعد سے میں نے تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا تھا اور گھر بیٹھ گئی تھی۔ پڑھائی میں کوئی خاص دلچسپی نہ رہی چونکہ میری زندگی کے ابتدائی ماہ و سال مدارس کی تعلیم میں صرف ہوئے تھے، بس یونہی لگتا تھا کہ اب دنیاوی تعلیم کا کیا فائدہ؟ اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے فارغ اور بغیر کسی مقصد کے بس یونہی تین سال گھر کی چار دیواری میں گزار دیے۔

کیا گھر میں کسی نے بھی آپ کی توجہ اس طرف مبذول نہیں کروائی کہ آپ کی زندگی کے انتہائی قیمتی سال جو تعلیم کے حصول میں گزرنے چاہیں ضائع ہو رہے ہیں؟

بالکل نہیں سر۔ میرے بھائی تعلیم یافتہ ہیں، امی ابو مذہبی ہونے کے باوجود باشعور ہیں اور ہم تین بہنیں ہیں۔ کسی نے بھی کبھی مجھے نہیں کہا کہ بیٹا اپنی تعلیم جاری رکھو اور یونیورسٹی تک جاؤ۔ انٹرمیڈیٹ کی طرف پھر سے راغب ہونے کا فیصلہ بھی میرا اپنا ہی ہے۔ مجھے گھر میں سے کسی نے بھی موٹیویٹ نہیں کیا، ایک دن مجھے ایسا لگا کہ دوبارہ سے تعلیمی سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تو میں نے اکیڈمی کا رخ کر لیا۔

دنیاوی تعلیم سے اس قدر بیزاری کیوں؟ آپ کو کبھی محسوس نہیں ہوا کہ اپنے بھائیوں کی طرح مجھے بھی اپنے تعلیمی کیریئر میں آگے نکلنا چاہیے؟

بالکل نہیں سر۔ ہمارے گھر کی اندرونی دنیا بالکل ہی الگ ہے۔ ہمارے ہاں بیٹیوں کی مذہبی تعلیم پر تو خاصی توجہ دی جاتی ہے لیکن دنیاوی تعلیم کو بچیوں کے لیے مضر سمجھا جاتا ہے، ہم بہنوں کو والدین نے کبھی دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے روکا تو نہیں البتہ لہجوں اور رویوں سے سب جھلک جاتا ہے کہ والدین بیٹیوں کے متعلق کیا سوچتے ہیں۔ اس لیے کبھی ضد نہیں کی اور نا ہی کبھی اپنی انا کو کہیں آڑے آنے دیا، اس لیے تو فرسٹ ائر میں کچھ مضامین میں کمپارٹ کی وجہ سے تعلیم سے باغی ہو گئی تھی۔

بس جب کبھی اپنے سے زیادہ تعلیم یافتہ سہیلیوں سے ملتی تھی تو مجھے بہت دکھ سا ہوتا تھا کہ کاش میں بھی اپنی تعلیم جاری رکھتی۔ اسی ذہنی کشمکش میں دوبارہ تعلیم کی طرف لوٹ آئی۔

کبھی دل میں اس ارمان نے انگڑائی نہیں لی کہ مجھے بھی اپنے بھائیوں کی طرح تعلیم اور کاروبار میں ترقی کرنی چاہیے؟ نہیں ایسا خیال تو کبھی نہیں آیا، ابتدائی مذہبی تعلیم کی وجہ سے قلبی اطمینان سا رہتا ہے کہ مردوں نے تو باہر نکل کے کمانا ہوتا ہے اسی لیے وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم بچیوں نے تو اگلے گھر چلے جانا ہوتا ہے تو پھر اتنی جدوجہد کا کیا مقصد؟ والدین بھی ٹھیک ہی سوچتے ہیں کہ ان کو دینی تعلیم دو اور وقت پر شادی کر کے اپنے فرائض سے فارغ ہو جاؤ۔

ویسے بھی خواتین تو گھر کی چار دیواری میں ہی جچتی ہیں اور اس کے شوہر کا گھر ہی اس کا اپنا ہوتا ہے۔

لیکن آپ کی ذہنی صلاحیتوں کا کیا؟ جو سماجی جبر کی نذر ہو گئیں، آپ نے کبھی سوچا کہ آپ بھی پڑھ لکھ کر سوشل ورکر، ڈاکٹر، انجینیئر، نرس، ٹیچر یا ایک کامیاب بزنس وومن بن سکتی تھی؟ ایک کامیاب خاتون بن جانے سے مذہب کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ مذہبی طبقے کے بیٹے بیٹیاں بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیا آپ ان حقائق سے بے خبر ہیں؟

وہ تھوڑا مسکرائی اور پھر ہنس کر کہنے لگی کبھی اتنا زیادہ تو نہیں سوچا۔ اور نہ ہی اتنا زیادہ جانتی ہوں کہ علماء کرام کے بچے بچیاں بیرون ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نا کبھی ٹی وی دیکھا اور نا ہی کبھی سوشل میڈیا کی طرف رجحان ہوا۔ جہاں تک بات ہے ڈاکٹر، انجینیئر یا کامیاب انسان بن کر سماج میں خدمات سر انجام دینے کی، تو میرے خیال میں یہ سب سماجی مراتب یا عہدے مردوں کو جچتے ہیں اور ایک مرد ہی ان تمام عہدوں سے انصاف کر سکتا ہے، چونکہ وہ سخت دل ہوتے ہیں اور خواتین نرم دل ہونے کے علاوہ بزدل بھی ہوتی ہیں اور جلد سیکشولائز بھی ہو جاتی ہیں۔

اب سیکشولائز سے اس کی کیا مراد تھی جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ شاید یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ خواتین پر جذبات جلد غالب آ جاتے ہیں۔ اب یہ اس کی رائے تھی ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مطلب آپ خواتین کو ان عہدوں کے لیے مس فٹ سمجھتی ہیں؟ پھر تو جو صلاحیتیں قدرت نے ایک خاتون کو ودیعت کر رکھی ہیں ان کو کسی کونے کھدرے میں دفن کر دینا چاہیے اور ہر خاتون کو اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دینا چاہیے؟

سر میں ہر خاتون پر تو اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتی البتہ میرا اپنا تو یہی موقف ہے کہ خواتین کو قدرت نے فقط خاندانی نظام میں ایڈجسٹ ہو کر بچوں کی پیدائش سے لے کر ان کی تربیت اور ان کو کامیاب طریقے سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔

باقی سب تو مردوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، اگر دونوں کمائی کے چکر میں پڑیں گے تو پھر بچوں کی پرورش کون کرے گا؟ میرے خیال میں خواتین کو اپنی گھرداری سے واسطہ رکھنا چاہیے، گھر سے باہر والی زندگی مرد کو سونپ دینی چاہیے۔

باقی رہیں خواہشات وہ تو ہر ایک کی ہوتی ہیں ضرور پوری کرنی چاہئیں لیکن یہ سب ارمان آپ کے والدین یا شوہر سے بڑھ کر نہیں ہونے چاہیں۔جو مزہ تابعداری میں ہے وہ من مرضی میں نہیں۔

دین و دنیا کے ہر منصب پر مرد غالب ہیں کیا خواتین میں صلاحیت نہیں ہوتی یا وہ خود کو لیڈنگ رول میں دیکھنا نہیں چاہتیں؟

میرے خیال میں تو خاتون ناقص العقل، جذباتی اور اپنی خواہشات کی غلام ہوتی ہے۔ وہ جب بھی کوئی فیصلہ کرتی ہے اس پر جذبات کی گہری چھاپ ہوتی ہے، اسی لیے میرے حساب سے خواتین لیڈنگ رول ایک بہترین انداز میں ادا نہیں کر سکتیں جبکہ مرد مضبوط اعصاب کا مالک ہوتا ہے۔

اسی لیے تو قدرت نے مرد کو قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں اور اپنے موجودہ خیالات پر قانع ہیں؟ زندگی کے کسی موڑ پر پیچھے مڑ کے دیکھنا چاہیں گی اور اپنے خیالات کو ری وزٹ کرنے کا کوئی منصوبہ ہے؟
زندگی سے قطعی کوئی شکوہ نہیں اور میں اپنے خیالات پر صابر شاکر ہوں، دنیاوی زندگی تو جیسے تیسے بسر ہو ہی جائے گی اب تو تمنا اخروی زندگی کی ہے وہ کامیاب ہو جائے پھر تو بیڑا پار ہے۔باقی مختصر سی زندگی ہے سر کیا زیادہ سوچ بچار کرنا۔
آخر میں، میں نے یہ کہتے ہوئے بیٹی سے اجازت چاہی”لیٹ اس ایگری ٹو ڈس ایگری“ میں آپ کے خیالات کا احترام تو ضرور کرتا ہوں لیکن میں آپ کے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ جاتے جاتے میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کے دو شعر اسے سنائے

کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا۔
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا۔

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں۔
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا۔

Facebook Comments HS