حملی سیاحت: خالص آریائی نسل کا بچہ پیدا کرنے کے لیے سیاحت
برتھ سیاحت کا نام تو اکثر نے سن رکھا ہو گا۔ اس سیاحت کی آڑ میں پاکستان ہندوستان اور دنیا بھر سے حاملہ خواتین امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کا سفر کرتی ہیں اور وہاں بچے جننے کو ترجیح دیتی ہیں اس لیے کہ ان ممالک میں پیدا ہونے والے بچے کو وہاں کی شہریت ملتی ہے۔ اس سیاحت میں ہر برس لاکھوں حاملہ خواتین ان ممالک کا سفر کرتی ہیں۔ لیکن آپ نے حمل کی سیاحت یا حملی سیاحت کا نام شاید نہ سنا ہو۔ یہ اصطلاح 2010 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب بڑی تعداد میں جرمن خواتین نے ہندوستان کا رُخ کیا اور وہ لداخ میں واقع لیہہ ضلع میں واقع دہ، بیاما اور ہنو کے دیہات کے ساتھ، کرگل ضلع میں دارچک اور گارکون میں گئیں جہاں تقریباً 5000 افراد بروکپا برادری سے تعلق رکھنے والے آباد ہیں، جنہیں ڈروگپا برادری بھی کہا جاتا ہے، یہ لوگ دنیا سے کٹ کر تنہائی میں رہتے ہیں۔
یہ لوگ دوسرے قبائل کی عام لداخ۔ منگولیائی شکلوں سے بالکل مختلف جسمانی اور چہرے کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ وہ دنیا میں آخری خالص آریائی جین کے کیریئر ہیں اور اس کی وجہ سے بہت سے متجسس سیاحوں نے یہاں تک اپنا راستہ تلاش کیا۔ غیر ملکی خواتین بروکپا کمیونٹی کے مردوں سے بچے پیدا کرنے کے لیے ان دور دراز علاقوں میں اس کے بعد سے مسلسل آ رہی ہیں۔ خاص طور پر جرمنی سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کا بنیادی مقصد خالص آریائی خون کے بچے پیدا کرنے کی خواہش کو پورا کرنا ہے آریائی نسل سے مراد وہ قدیم نسل ہے جو آج سے تین ہزار سال پہلے ایران، یورپ اور ہندوستان میں آئے تھے۔
ان نسلوں کو ہند آریائی، ایرانی آریائی اور یورپی آریائی کہا جاتا ہے۔ ان کی ایک چوتھی نسل بھی ہے جن کو پشاچ یا درد کہا جاتا ہے یہ ان تینوں آریائی نسلوں سے زیادہ قدیم آریا ہیں جو پہاڑوں میں آباد ہوئے اور ان کی نسلیں آج بھی ان پہاڑی سلسلوں میں آباد ہیں۔ پاکستان میں پشاچ اور درد قبیلے آج بھی چترال، گلگت بلتستان میں آباد ہیں۔ واخان، افغانستان کے ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کے دامن میں رہائش پذیر لوگ، کشمیر اور لداخ میں رہنے والے لوگ بھی اسی قدیم قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان تمام اقوام میں چترال کی تین وادیوں میں رہنے والے کالاش اور لداخ میں رہنے والے بروکپا قبائل جنہیں اب آریان کہا جاتا ہے کو سب سے قدیم شمار کیا جاتا ہے۔ جرمنوں کا خیال ہے کہ وہ خالص آریائی ہیں۔ اس لیے جرمنی کی خواتین خالص آریائی جینز کے بچے پیدا کرنے کے لیے ان علاقوں کا رُخ کرتی ہیں جہاں یہ خالص نسل آباد ہیں۔ انیس سو اسی اور نوے کی دہائی میں یہ سیاحت چترال میں بھی تھی۔ یعنی 9 / 11 کے حملوں سے پہلے یورپ سے خواتین چترال کی ان تینوں وادیوں جنہیں کالاش وادیاں کہا جاتا ہے وہاں رہ کر وہاں کے مقامی لوگوں سے ملاپ کر کے حاملہ ہو کر واپس اپنے ملک میں جاکر بچے پیدا کرتی تھیں۔
9/ 11 کے بعد پاکستان میں سیاحوں کا آنا مشکل ہو گیا اس لیے دس برس بعد جب کسی اخبار نے ہندوستان میں موجود کالاش قبیلے سے ملتے جلتے اس قبیلے کا تذکرہ کیا اور اس کی شہرت یورپ تک پہنچی تو وہاں سے ان علاقوں میں جاکر خواتین نے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جو دہائیوں پہلے کالاش قبیلوں تک محدود تھا۔ یہ کام اتنے تواتر سے وہاں ہونے لگا کہ اس کے لیے ایک خاص اصطلاح یعنی۔ ”حمل کی سیاحت“ وجود میں آئی۔
کالاش قبیلہ جو آج بھی اپنے قدیمی مذہب کا پرچار اور پالن کرتا ہے چار ہزار کے قریب نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ چترال کے تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر میں رہائش پذیر ہیں۔ جبکہ بروکپا قبائل کی تعداد پانچ ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ ان دونوں قبائل کا رہن سہن اور لباس بہت ہی ملتا جلتا ہے۔ ان کی رسومات بھی ایک جیسی ہیں اور ان کی شکل و صورت بھی بہت ملتی جلتی ہے۔ ان دونوں قبیلوں کا ذریعہ معاش بھی تجارت اور گلہ بانی ہی ہے۔ چترال کے کالاش قبیلے اپنے قدیمی مذہب پر مکمل کاربند ہیں لیکن بروکپا قبائل نے چند سو برس پہلے بدھ مت کی بہت ساری عبادت کی رسومات اختیار کی ہیں۔
بروکپا قبائل پر شین قبائل کا بہت زیادہ اثر رہا ہے، شین وہ قبائل ہیں جو آج کل گلگت میں آباد ہیں۔ اس لیے ان کی زبان کو شینا کہا جاتا ہے۔ ان دونوں قبائل میں اجتماعی نسل کشی کا سلسلہ موجود رہا ہے۔ یعنی یہ اپنے قبیلے میں سے ایک تنومند نوجوان کا انتخاب کر کے اسے پہاڑوں پر بھیج دیتے تھے جہاں وہ قدرتی غذائیں کھا کر عورتوں سے دور رہ کر خوب صحت بنا کر ایک برس بعد وادی میں واپس آتا تھا اور قبیلے کے کنواری لڑکیاں اس سے حاملہ ہوجاتی تھیں۔
اس طرح ان کا ایمان تھا کہ ایک خالص نسل وجود میں آتی ہے۔ کالاش قبیلے میں اس نوجوان کو بڈالاک کہا جاتا تھا۔ یہ اجتماعی نسل کشی کا سلسلہ دنیا کی بہت ساری قدیم تہذیبوں میں رہا ہے۔ لیکن یہ کلچر ان کے اپنے قبیلے کے لوگوں تک محدود تھا۔ ستر کی دہائی میں چترال کی ان وادیوں میں یورپی خواتین، خاص کر یونانی خواتین بھی بڈالاک سے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں پیسے دے کر وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوتی رہی ہیں۔
مغرب میں چونکہ اخلاقی قدریں زیادہ مضبوط نہیں رہی تھیں اس لیے وہاں کی خواتین ستر اور اسی کی دہائی میں ایسے بچے پیدا کرنے کی شدید خواہش مند تھیں۔ وہاں یہ سلسلہ اتنا عام ہو گیا تھا کہ اس پر کتابیں تک لکھی جانے لگیں۔ The Right to Know One ’s Origins اسی سلسلے کی ایک بہت ہی مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس حق کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ ہر اس بچے کو جو اس پروسس سے پیدا ہوتا ہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقیقی والد کے بارے میں آگاہ ہو اور اسے اس تک قانونی رسائی حاصل ہو۔
بہتر نسل پیدا کرنے کا سلسلہ تاریخی اعتبار سے بہت زیادہ پرانا ہے، افلاطون نے اپنی مثالی ریاست میں اس کے متعلق تفصیلی رائے دی ہے اور اس کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند اور صلاحیتوں والی نسل ہی کامیابی کی ضامن ہے۔ اس سلسلے میں سر فرانسس گیلٹن نے 1883 میں اپنی کتاب Inquiries into Human Faculty and Its Development میں یوجینکس کی اصطلاح پیش کی تھی جس کا مطلب مخصوص مطلوبہ موروثی خصائص کے حامل افراد کو منتخب طور پر ملا کر انسانی انواع کو بہتر بنانے کا عمل یا وکالت ہے۔
اس کا مقصد انسانی آبادی سے بیماری، معذوری اور نام نہاد ناپسندیدہ خصوصیات کو ختم کر کے انسانی مصائب کو کم کرنا ہے۔ یوجینکس کے ابتدائی حامیوں کا خیال تھا کہ لوگوں کو ذہنی بیماری، مجرمانہ رجحانات اور یہاں تک کہ غربت وراثت میں ملتی ہے، اور یہ کہ ان حالات کو جین کے تالاب سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاریخی طور پر، یوجینکس نے نام نہاد صحت مند، ”اعلیٰ“ اسٹاک کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور یا کوئی بھی جو سماجی معیار سے باہر ہو اس کو دوبارہ پیدا نہ کریں اور اس کی حوصلہ شکنی کریں۔
یوجینکس امریکہ میں بیسویں صدی کے پہلے نصف کے بیشتر حصے میں مقبول تھا یہ سب دراصل بنیادی طور پر ایڈولف ہٹلر کی ایک اعلیٰ درجے کی آریائی نسل پیدا کرنے کی اس کی جنونی کوششوں سے حاصل کیا گیا تھا جس میں ہٹلر کا خیال تھا کہ وہ ایک اعلیٰ آریائی نسل تیار کریں گے جو دنیا پر حکومت کرے گی۔ جدید یوجینکس، جسے اکثر انسانی جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، سائنسی اور اخلاقی طور پر ایک طویل سفر طے کرچکا ہے اور بہت سی تباہ کن جینیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے امید فراہم کرتا ہے۔
اس کو بنیاد بنا کر اب ان دو قدیم نسلوں سے خالص آریائی نسل پیدا کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ان قبیلوں سے نوجوانوں کو جرمنی اور یونان میں لے جا کر بھی یہ عمل کیا جا رہا ہے۔ یورپ بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سپرم بنک موجود ہیں جہاں سے خواتین اپنی مرضی اور خواہش سے کسی بھی نسل کے انسان کا سپرم حاصل کر سکتے ہیں۔ کالاش اور بروکپا قبائل کے سپرم کی قیمت اس وقت سب سے زیادہ ہے اور اس سلسلے میں جرمنی میں کچھ سائنس دان ان کے الگ سے سپرم بنک بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
ان نسلوں سے حاملہ ہونے کے لیے جرمن خواتین ایک لاکھ یورو تک خرچ کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ جنیاتی طور پر انسانوں کی پیدائش میں کئی ایک دیگر تجربات بھی متواتر ہو رہے ہیں، جیسے سروگیسی، جس میں ایک سروگیٹ ماں کسی بھی جوڑے کے سپرمرز کو اپنی کوکھ میں رکھ کر بچے کو جنم دیتی ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستان دنیا بھر میں شہرت پا رہا ہے اور دنیا بھر سے جوڑے ہندوستان کا رُخ کرتے ہیں۔ انسان اس سے پہلے ٹسٹ ٹیوب کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے۔
کالاش اور بروکپا قبائل کے مردوں سے بچے پیدا کرنے کا عمل تو نیچرل ہے لیکن اب کلون کر کے بھی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل انسانوں کی پیدائش کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کلوننگ، جین، خلیات، ٹشوز، اور یہاں تک کے پورے جانوروں اور انسانوں کو بھی کلون کیا جاسکتا ہے۔ کچھ کلون فطرت میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا جیسے اکیلے خلیے والے جاندار جب بھی دوبارہ پیدا کرتے ہیں تو وہ اپنی صحیح کاپیاں بناتے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کی قانونی اجازت نہیں ہے لیکن دنیا کے بہت سارے ممالک میں اس سلسلے میں قوانین نہ ہونے کے سبب وہاں جنیاتی سائنس دان آسانی کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ انسان کی یہ خواہش زمانہ قدیم سے ہے کہ وہ ایک اعلیٰ نسل پیدا کرے جو خالص ہو اور اس میں اعلیٰ نسل کی تمام خصوصیات موجود ہوں۔ انسانوں کو چھوڑ کر یہی سب کچھ جانوروں اور پھلوں، درختوں اور بیجوں میں مسلسل ہو رہا ہے۔ اگر یہ عمل انسانوں میں معمول بن گیا تو اس کا انسانیت کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ اس لیے کہ زمانہ قدیم ہی سے انسانوں کو طبقوں اور حیثیتوں میں بانٹ کر ان کی الگ الگ اہمیت و حیثیت کا تعین کیا گیا ہے۔
اگر اب صرف ان انسانوں کی پیدائش پر توجہ دی جائے گی جن کو انسانوں نے دیگر انسانوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور صلاحیتوں والا بنایا ہے یا سمجھا ہے تو اس دنیا میں انسانوں کی بوقلمونی سے جو توازن برقرار ہے وہ بگڑ جائے گا۔ اگر چہ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر کہیں بھی نہیں ہو رہا مگر اس کام کے کرنے کی خواہش ہٹلر کے مرنے سے ختم نہیں ہوئی ہولوکاسٹ کے دوران گیارہ ملین افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے زیادہ تر اس لیے ہلاک ہوئے کہ وہ ہٹلر کی اعلیٰ نسل کی تعریف پر پورا نہیں اترتے تھے۔
اگر کل کو طاقت پھر کسی ہٹلر جیسے ذہنیت کے شخص کے ہاتھ میں آتی ہے تو اب کی بار جینیاتی سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ اسے ایسا کرنے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا اور وہ دس برس سے کم عرصہ میں دنیا میں موجود اس انسانی توازن کو ختم کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ان موضوعات پر کم ہی کوئی لکھتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اور ہم اس عالمگیریت کے دور میں دنیا کا حصہ ہیں۔ دنیا میں جو بہتری یا خرابی آتی ہے وہ کسی نہ کسی صورت ہمیں بھی متاثر کرتی ہے۔
انسان چاہے کتنی بھی ترقی کر لے وہ ہمیشہ ماضی میں ہی رہتا ہے۔ اس لیے جرمنی اور پورپ کی دیگر خواتین ماضی کے صحت مند اور اچھے نین نقوش اور جسامت رکھنے والے انسانوں جیسے بچے پیدا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے کثیر سرمایہ استعمال کر کے لداخ اور چترال تک سفر کرتی ہیں اور وہاں سے اپنی اس خواہش کو عملی شکل دیتی ہیں۔ یہ کام اتنے رازداری سے ہوتا ہے کہ اس کی شہرت باہر کی دنیا تک نہیں جاتی مگر یہ کام مسلسل جاری و ساری ہے۔ اور اب یہ حملی سیاحت مزید فروغ پائے گی اس لیے کہ یہ مالی طور پر ایک بہت ہی منافع بخش کام بن گیا ہے۔
Unique to Ladakh: Pregnancy tourism



Surrogacy or Tourism pregnancy both are not possible in Islam. Same as sperm Banks.
Test tube can be okay after certain conditions.
Cloning and genetically modif is again far from present Muftis and may be allowed after certain conditions.
So what Pakistanis can do if People were
coming to Kalash or Ladakh
One thing is not clear for me how they are surviving fro genetically disorder children if they are producing children from people within families. Ie cousin marriage type issue. Its quite difficult unless they may be avoiding this
Had to dig further