سپریم کورٹ کے پے پروٹیکشن فیصلے کے ایس ایس ٹیز کی مستقلی پر اثرات


سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کے ایجوکیٹرز پے پروٹیکشن کیس کی نظر ثانی درخواست پر حکومت پنجاب کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے ایجوکیٹرز کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ یہ فیصلہ اپنے ساتھ بے شمار منفی اثرات لے کر اساتذہ اور محکمہ تعلیم کو متاثر کرے گا۔ وقت تقرری سے اساتذہ کو مستقل کیا جاتا تھا، آمریت کے دور میں ایجوکیٹرز کے نام پر اساتذہ کو بھرتی کر کے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ اساتذہ تنظیموں کی کاوش سے 2009 میں سیاسی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے ان کو مستقل کر دیا۔

ان سیاسی مقاصد میں بھی محمد شہباز شریف ایجوکیٹرز کے ساتھ ہاتھ کر گئے۔ ایجوکیٹرز کی 2009 سے پہلے کی مدت ملازمت ضائع ہو گئی۔ جس پر ایجوکیٹرز نے محمد صفدر کی زیر قیادت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ محمد صفدر نے ایجوکیٹرز کے مطالبات کے لیے پنجاب ایجوکیٹرز ایسوی ایشن کی بنیاد رکھ کر ہر سطح پر سابقہ مدت ملازمت کو شامل کرنے کی تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک کو پے پروٹیکشن کا نام دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں تقریباً 37 رٹ پٹیشنز دائر کر کے مطالبہ کیا گیا کہ ہماری 2009 سے پہلی مدت ملازمت کو شامل کر کے ہماری تنخواہ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مالی نقصان کے ازالے کے ساتھ ہماری مدت ملازمت کو شامل کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ان سب پٹیشنز کو پنجاب سروس ٹربیونل لاہور میں لے جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ ان سب رٹ پٹیشنز کو یکجا کر کے سروس ٹربیونل نے ایجوکیٹرز کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ پے پروٹیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے پنجاب ایجوکیٹرز ایسوی ایشن کے وفد نے متعدد بار حکومتی نمائندوں سے ملاقات کی۔ جھوٹی تسلیاں اور وعدے تو ہوتے رہے مگر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر تھا۔ ایجوکیٹرز ایسوی ایشن پنجاب کی مجلس شوریٰ نے پے پروٹیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرا دی۔

لاہور ہائی کورٹ نے بھی ایجوکیٹرز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو پے پروٹیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا۔ حکومت پنجاب نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ دو سال حکومت کے منفی ہتھکنڈوں کے باوجود بھی سپریم کورٹ نے پنجاب ایجوکیٹرز ایسوی ایشن کے حق کو درست تسلیم کرتے ہوئے پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ حکومتی نمائندوں کی ٹال مٹول ویسی ہی رہی اور تین ماہ سے پہلے سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست جمع کروا دی۔

حکومت نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے آخری موقع پر سپریم کورٹ سے فیصلہ اپنے حق میں کروا لیا۔ نظر ثانی کے بعد ایجوکیٹرز کے پاس پے پروٹیکشن کے لیے قانونی دروازے بند ہو گئے ہیں۔ بس اب احتجاج ہی واحد ذریعہ ہے۔ جس کے ذریعے ایجوکیٹرز اپنا حق لینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں مگر ایسا ہونا ناممکن ہے۔ پنجاب حکومت پہلے ہی اساتذہ کے خلاف ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس سے پنجاب سے محکمہ تعلیم ہی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

پرائمری سکولز کو پرائیویٹ کرنے کا فیز 1 جاری ہے۔ 2024 میں مزید پرائیویٹائزیشن ہو گی۔ جس میں تقریباً تیرہ ہزار سکولز پرائیویٹ ہوں گے۔ مسلم ہینڈز اور دانش اتھارٹی سے سرکاری سکولز کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ ایسے مواقع پر اس طرح کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس فیصلے میں سمجھنے والوں کے بے شمار نشانیاں ہیں۔ لیو انکیشمنٹ اور پنشن اصطلاحات پر اساتذہ تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ ایس ایس ٹیز اور اے ای اوز کی مستقلی التوا کا شکار ہے۔

اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ حکومت اگر ان ایس ایس ٹیز کو مستقل بھی کرتی ہے تو ایجوکیٹرز کی طرح ان کی سابقہ مدت ملازمت کو شامل نہیں کرے گی بلکہ تاحال سے مستقل کا پروانہ جاری کرے گی۔ اس طرح ان کے پانچ سے دس سال کی مدت ملازمت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ جس سے حکومت پنجاب کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اساتذہ کی بھرتی نہ کر کے اس حکومت کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اساتذہ کی کمی کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

یہ چودہ ہزار ایس ایس ٹیز کی مستقلی مزید التوا کا شکار ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک تمام اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کی فکر میں اساتذہ تنظیموں نے اساتذہ کو اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب بھی اگر متحد ہو کر مطالبات منوانے کے لیے نہ نکلے تو پھر محکمہ تعلیم کا اختتام یقینی ہی سمجھیے۔ اس لیے اساتذہ تنظیموں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی انا اور ضد کو پس پشت ڈال کر اساتذہ کی بھلائی کے لیے متحد ہونا ہو گا ورنہ پھر اساتذہ اور محکمہ تعلیم کا اللہ ہی حافظ ہے۔

Facebook Comments HS