برین ڈرین: ایک المیہ


اپنی زندگی کی قیمت پر اپنا مستقبل سنوارنے کا خواب لیے آئے دن بے شمار پاکستانی نوجوان تارکین وطن کشتیاں ڈوبنے یا پھر کنٹینرز میں دم گھٹ کر مر جاتے ہیں یہ لوگ وہ ہیں جو یہاں بے روزگاری اور معاشی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے ملک میں بے قدری اور محرومی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اور قانونی طریقے سے بیرون ملک نہیں جا پاتے یہی محرومی ہے جو انہیں غیر قانونی طور پر ”ڈنکی“ لگا کر اپنی قسمت آزمائی کرنے پر مجبور کرتی ہے ان میں زیادہ تر غیر ہنر مند اور مزدور نوجوان طبقہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب ہمارے وہ ذہین، قابل اور ہنر مند لوگ ہیں جو قانونی طور پر اپنی دھرتی کو چھوڑ رہے ہیں اور واپس وطن نہیں لوٹتے۔ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جس کی کل آبادی کا پینسٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتا ہے لیکن بد نصیب اس لیے ہے کہ یہاں کے ہنر مند ملک چھوڑ رہے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ”برین ڈرین“ ایک نئی اصطلاح ہے جس سے مراد ایک ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لوگوں کا بے روزگاری کی وجہ سے دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر جانا ہے۔

پاکستان سے رواں سال ”برین ڈرین“ میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس سال ان کی تعداد میں تین گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ ملک کی معاشی ابتری اور بے روزگاری کو قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد ڈاکٹرز، انجینئرز، کمپیوٹر ایکسپرٹس، اساتذہ کی ہوتی ہے یہاں تک کے بے شمار نرسز، میڈیکل ٹیکنیشن اور تربیت یافتہ ہنر مند بھی ان میں شامل ہیں جن کی تعلیم اور تربیت پر ریاست کروڑوں روپے ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے خرچ کرتی ہے اور وہ باہر جاکر دوسروں کو اپنے ہنر سے فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

اس طرح ہم اپنے قیمتی ذہن اور افرادی قوت دن بدن کھو رہے ہیں اور سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے دیکھ رہے ہیں ہماری ریاست کے پاس وہ نظام اور وسائل نہیں کہ اس انخلا کو روکا جا سکے۔ بڑی تعداد میں قانونی اور غیر قانونی اس انخلا کی بہت سی معاشی، سماجی، معاشرتی، سیاسی اور دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ پاسپورٹ کے حصول کے اعداد و شمار اور ترقی یافتہ ممالک کے لیے پاکستانیوں کی ویزے کی درخواستیں، اور امیگریشن کے لیے دائر بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے ایک بات نظر آتی ہے کہ پاکستان کا نوجوان اپنے مستقبل سے مایوسی کا شکار ہو چکا ہے اور وہ اپنے آبا و اجداد کی اس دھرتی کو نا چاہتے ہوئے بھی چھوڑنے کی کوشش کرر ہا ہے ہمارے ملک کے تقریباً چونتیس فیصد گریجویٹ نوجوان اور ہنر مند بے روزگاری کی ذلت سے دوچار ہیں پچھلے سال کے دوران ایک سروے کے مطابق صرف قانونی طور پر آٹھ لاکھ لوگوں نے ملک چھوڑا ہے۔

ملک کا ہر فرد خصوصاً نوجوان اپنے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتا ہے اور وہ اپنی ضروریات زندگی اور خوشحالی کے حصول اور عافیت کے لیے اس دھرتی کو خیر باد کہنے پر مجبور ہے اور ایک سروے کے مطابق ملک کے ساٹھ فیصد نوجوان باہر جانا چاہتے ہیں گو اپنوں سے دوری بڑا ہی دکھ بھرا عمل ہوتا ہے اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اپنی غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور یہ نوجوان جب جائز اور قانونی راستے سے ویزہ حاصل نہیں کر پاتا تو ”ڈنکی“ جیسا غیر قانونی راستہ اختیار کرتا ہے نا جانے وہ اپنی ذات پر کتنے جبر کر کے رخت سفر باندھتے ہیں۔

غیر قانونی راستہ اختیار کرنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق اپر پنجاب کے چند مخصوص علاقوں سے ہوتا ہے جہاں کے بیشتر لوگ پہلے ہی باہر سکونت اختیار کر چکے ہیں یہ نوجوان صرف غربت اور روزگار کی وجہ سے ہی ملک نہیں چھوڑتے بلکہ یہ علاقے مالی طور پر زیادہ مستحکم ہیں لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی معاشرتی اور طبقاتی تفریق سے پیدا ہونے والی احساس کمتری انہیں اس کام پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ رزق کے لیے ہجرت میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے کسی جگہ پر وسائل کے فقدان کی صورت میں ہجرت کا حکم ہے۔

اگر قانونی طریقے سے ہو تو ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے صرف پیسہ انسانی اور افرادی کمی پوری نہیں کر سکتا افرادی توانائی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی یہ قوموں کا سرمایہ ہوتی ہے۔ ان کی جدائی اور دوری کے صدمات اور پریشانی والدین کے لیے کچھ کم نہیں ہوتے اور پھر ان کے بیوی بچے بے شمار سماجی۔ معاشرتی، اور نفسیاتی محرومیوں کا ازالہ ساری عمر نہیں کر پاتے۔ یہ عجیب رویہ ہے کہ جب ہماری مسجدوں میں ہمارے بزرگ اور امام اگلی صفوں میں بیٹھے طاغوتی طاقتوں اور امریکہ و یورپ کی تباہی و بربادی کی بددعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں تو پچھلی صفوں میں بیٹھے نوجوان وہاں جانے کے لیے ویزہ کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں اور مجھے جیسے بے شمار لوگ جن کی اولادیں وہاں ہیں اور جن کے بھجوائے گئے پیسے سے ہمارے گھر چل رہے ہیں ان کی اس دعا پر آمین! کہنا بھی نہیں چاہتے۔

ہماری اشرافیہ کے بچے تو تعلیم ہی باہر کے ممالک سے حاصل کرتے ہیں ان کا نصاب تعلیم اور ماحول ہی نہیں بلکہ سوچ کا معیار بھی علیحدہ ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بھی وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں اور سب سے المناک بات تو یہ ہے کہ غریبوں کے بچے پہلے تو تعلیم کے لیے باہر جا نہیں پاتے اور اگر خوش قسمتی سے یا اتفاقاً بیرون ملک حکومتی یا دیگر سکالر شپ کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے بھی جائیں تو ان میں سے اکثر نوجوان واپس نہیں آتے انہیں واپسی پر پاکستان میں اپنا مستقبل بہتر نظر نہیں آتا اور جو اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے وہ کوشش کر کے وہاں شادیاں کر لیتے ہیں اور وہاں کی سکونت حاصل کر کے وہیں کے ہو جاتے ہیں ان کے لیے تعلیم سے زیادہ روزگار اہمیت حاصل کر جاتا ہے۔ دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ہماری افسر شاہی اور سیاستدانوں کو اس جانب توجہ دینے کا موقع ہی نہیں مل رہا سب اپنے اپنے مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ملک کی صنعتیں بند ہو رہی ہیں زراعت پر بحران ہے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں بظاہر ان کے لیے کوئی منصوبہ بندی حکومتی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتی گو سیاسی جماعتوں کے منشور میں نوجوانوں کے حوالے سے کئی منصوبے اور پروگرام نظر تو آتے ہیں لیکن کبھی پورے نہیں ہو پاتے جو ایک لمحہ فکریہ ہے؟ کہ یہ نوجوان جائیں تو کہا جائیں؟ جو پاکستان میں ہر سال یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہو کر بے روزگاری میں اضافہ کر رہے ہیں۔

انہیں ٹیلنٹ، صلاحیت اور ذہانت کے باوجود رشوت اور سفارش کلچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ در در بھٹکنے کے بعد اپنی جمع پونجی لگا کر بیرون ملک جانے کے خواب دیکھتے ہیں ان کا یوں ملک چھوڑ جانا پوری قوم کے لیے سوچ کا مقام ہے؟ اگر حکومت ملک کے نوجوانوں اور اپنی افرادی قوت کی قدر کرے اور ان کو ان کی خدمات کا معقول صلہ دے کر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے تو یقیناً اس انخلا کو ابھی بھی روکا جاسکتا ہے وگرنہ دودھ سے کریم نکل جائے تو کیا بچتا ہے؟

Facebook Comments HS