جانوروں سے بہیمانہ سلوک


ہمارا بچپن پشاور کے ایک پسماندہ دیہی علاقہ سبحان آباد میں گزرا ہے جس میں بنیادی انسانی سہولیات کا دور دور تک نہ کوئی تصور تھا نہ وجود اور نہ ہی ایسی عیاشی کو مقامی انتظامیہ نے وہاں کی آبادی کے لئے کبھی ضروری سمجھا تھا۔ بہرحال ہم حصول تعلیم کی غرض سے تیسری سے دسویں جماعت تک شہر کے ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر رہے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں جب گھر جانا ہوتا تو ساون کے موسم میں بارشوں کے بعد سارا علاقہ پانی اور کیچڑ سے کچھا کھچ بھر جاتا۔ ایسے میں جوہڑوں، کچے تالابوں اور ندی نالوں میں بڑے سائز کے مینڈک جو ہم آج تک جان نہیں پائے کہ کہاں سے آن موجود ہوتے تھے، وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی سے باہر نمودار ہوتے اور باہم یگانگت سے انتہائی سریلے انداز میں ٹریں ٹریں کی آوازیں نکالتے تو آس پاس کا سارا علاوہ ان کی آوازوں سے گونجنے لگتا۔

ایسے میں ہمارے ہم عمر لڑکے (خصوصاً جو ڈیورنڈ لائن کے اس پار والے تھے ) اپنی تفریح طبع کے لئے پتھروں سے ان مینڈکوں پر نشانے بازی کرنے لگتے تو ہماری جاں پر ان کا یہ عمل انتہائی گراں گزرتا۔ علاوہ ازیں ان کی متشددانہ سوچ اور عمل سے زنبوریاں اور دیگر حشرات بھی محفوظ نہیں تھے جنہیں وہ دھاگہ باندھ کر اڑتے، قہقہے لگاتے اور محظوظ ہوتے تھے۔ ہم ان تمام اعمال کا کبھی بھی حصہ نہیں بنے کہ ہمیں کسی جاندار پر تشدد یا تضحیک کرنے کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔

کتابوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ انسان کی موجود شکل اور رویہ صدیوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ جوں جوں انسان شعور کے مراحل طے کرتا گیا تو نتیجتاً آج کا موجودہ انسان کی شکل بنتی گئی اور اس نے جنگلوں سے نکل کر ترقی یافتہ شہروں میں رہنا سیکھ لیا۔

مذاہب نے ہمیں بتایا کہ انسان اشرف المخوقات ہے۔ اسے تمام جانداروں سے افضل بنایا گیا ہے۔ اسے عقل، شعور، حکمت اور تعلیم کی نعمت سے مالا مال کیا گیا ہے تا کہ زمین کو معمور و محکوم کرے نیز کائنات کی دیگر مخلوقات کی دیکھ بھال کرے اور انہیں محفوظ رکھے۔

گزشتہ چند سالوں سے ہم نے اپنے ہی ہم وطن انسانوں کو جلانے، عورتوں کو قبروں سے نکال کر بے حرمتی کرنے، بچوں کو تیزاب کے ڈرموں میں پھینکنے سمیت سینکڑوں ایسے رویے اپنا رکھے ہیں جو غالباً انسانی ارتقا کے نظریے سے بھی لگا نہیں کھاتے اور واقعات کو سوچ کر انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا دعویٰ بھی دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ خیر ہم انسانوں نے انسانوں کے خلاف کیا کیا گل کھلائے ہیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں انسانوں کے ہاتھوں جانوروں کے ساتھ انتہائی غیرانسانی، ظالمانہ اور تکلیف دہ واقعات نے ہمیں جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا کا وقت پورا ہوا چاہتا ہے اور اب انسانی ارتقا واپسی کے سفر پر گامزن ہے۔ انسان نے خود کو اشرف کہلانے کے رتبہ کے قابل نہیں چھوڑا۔ وہ انسانیت سے پھر حیوانیت پر اتر آیا ہے۔ انسانوں کے ہاتھوں نہ تو انسان محفوظ ہیں، نہ چرند پرند، نہ آبی حیات اور نہ ہی نباتات۔ کائنات کی تمام تخلیقات کو صدیوں سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے مگر گزشتہ چند ہفتوں میں ہمارے ہم وطنوں نے جانوروں پر خصوصی ”کرم نوازی“ کی ہے جنہیں دیکھتے ہوئے انسانی شعور پر سوالات اٹھنا فطری عمل ہے۔

جون کے مہینے میں سندھ کے شہر سانگھڑ میں با اثر وڈیرے کی زرعی زمین میں کسی غریب کی اونٹنی داخل ہو گئی تو وڈیرے کو غصہ آ گیا اور ملازمین کے ساتھ مل کر اؤں ٹنی پر بے تحاشا تشدد کرنے کے بعد اس کی ایک ٹانگ ہی کاٹ ڈالی۔

جون ہی میں سندھ کے شہر عمر کوٹ (امر کوٹ ) میں بھی نامعلوم افراد نے ایک اونٹنی کی چاروں ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی کے مالک کے مطابق اس کی اونٹنی دیگر اونٹنیوں کے ہمراہ پاس کے علاقے میں گھاس چرنے گئی تھی کہ وہیں پر اس کی نعش ملی تو اس کی چاروں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی ٹانگیں زندہ حالت میں کاٹی گئیں ہیں یا مردہ۔

گزشتہ ماہ راولپنڈی میں ایک شخص نے گدھی کے دونوں کان اس وقت کاٹ ڈالے جب وہ اپنے مالک کے بغیر کھیتوں سے گھر واپس جا رہی تھی۔

پچھلے مہینے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں چند لڑکوں نے ایک کتے کو چھت سے اس لیے نیچے پھینک دیا کیونکہ وہ ناراض تھے کہ وہ کتا ان کے گھر کے آس پاس نظر آتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لڑکوں کے گروپ نے چھ سے سات کتے اور بھی قید کر رکھے تھے جنہیں وہ اسی طرح اذیت دینا چاہتے تھے۔

پچھلے ہفتے سرگودھا میں ایک شخص نے بھینسوں کے مالک کے ساتھ جھگڑے کے بعد اس کی 6 بھینسوں کو آگ لگا دی جس سے ان کے سر بری طرح جھلس گئے۔ نتیجتاً ایک بھینس کی حالت تشویش ناک ہونے کے بعد مالک کو اسے ذبح کرنا پڑا۔

ہمارے معاشرے میں ایسے ”جانباز“ بھی بستے ہیں جنہوں نے اپنی جنسی تسکین کے لئے جانوروں کا انتخاب کیا۔ حافظ آباد میں ایک شخص نے مرغی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے ہلاک کر ڈالا۔ اوکاڑہ میں پانچ افراد نے بکری کو ”استعمال“ کرنے بعد اسے ”ٹکانے“ لگا دیا، جبکہ ایک ذہنی معذور نے گدھی پر اپنی ”حسرت“ پوری کی۔

درج بالا سیاق و سباق میں ضروری ہے کہ جانوروں کی حفاظت کے لئے مناسب قوانین بنائے جائیں تاکہ انہیں انسانوں کے ہاتھوں بدسلوکیوں کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ جانوروں کے تحفظ کے لئے 1890 کا برطانوی راج کا قانون ”پری وینشن آف کر وولٹی ٹو اینیملز ایکٹ“ (جانوروں کے خلاف جبر کی روک تھام کا قانون 1890 ) اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ تعزیرات پاکستان مجریہ 1860 کی دفعہ 429 جانوروں پر ظلم سے متعلق ہے مگراس میں جانور کو مارنے یا معذور کرنے کو جرم قرار دینے پر سزا مقرر نہیں کی گئی اس لیے عدالتیں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات پر شاذ و نادر ہی سخت سزا سناتی ہیں۔

ہمارے گلی محلوں میں اب بھی بچے کتوں اور بلیوں کو دیکھ کر دیوانہ وار ان کا پیچھا کرتے اور انہیں اذیت پہنچا کر بغلیں بجاتے ہیں۔ بچوں کا یہی رویہ مستقبل میں پرتشدد سماج کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں کائنات کی تمام مخلوقات سے پیار کا درس دیا گیا ہے۔ آئیے اشرف المخلوقات بن کر دکھائیں وگرنہ انسانی معاشرے کے بگاڑ، تنزلی اور ارتقا کی واپسی کا سفر تو شروع ہو ہی چکا ہے اب کسے خبر کہ یہ عمل کہاں جا کے رکے؟

Facebook Comments HS