غلام عباس اور خواتین کا رنگ حرام


غلام عباس اپنے افسانے ”سایہ“ ، ”انندی“ اور ”اس کی بیوی“ میں قدامت پسندی، سماجی پردوں کو اٹھاتے ہوئے مذہبی اور خاندانی توقعات کے تحت دبائی ہوئی خواتین کی تقدیر، امید اور عواطف کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک، خواتین کی وجودگی، آواز، اور خواہشات اکثر برقع کے پیچھے چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور فنکار کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ان دقیانوسی تصورات سے نجات حاصل کرے جس نے خواتین کے فطری انسانی کردار کو مسخ کر دیا ہے۔ عباس کے خیال میں جب تک خواتین کا کردار فرض شناس بیوی اور فرماںبردار بیٹی تک محدود ہوتا ہے، خواتین جو غیر تحریری اصولوں یا توقعات پر عمل نہ کر سکتی ہوں، وہ معاشرے کے کناروں پر دھکیل دی جاتی ہیں۔

سماجی تسلط کے ظلم کے سامنے خواتین کی بے بسی کو افسانہ ”سایہ“ میں پوری طرح بیان کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ دکاندار نے بیان کیا ہے جو ایک قدامت پسند خاندان میں رہنے والی بیٹی کی زندگی کا گواہ ہے جس کے وجود کا رنگ حرام پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ یکسوئی کی سطح کے پیچھے بیٹی کی خواہش کا دہکتا ہوا شعلہ ہے، جو چقوں کے پیچھے سنسنی خیز حرکت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن کیا بیٹی کے پاس کوئی چارہ ہے؟ خاندان کے لیے، خاندانی وقار کے تحفظ کی قیمت پر بیٹی کی خواہش کو پورا کرنا ناقابل تصور ہے۔ کیا دکاندار سے خریدا ہوا برف بیٹی کی سلگتی خواہش کو بجھا سکتا ہے؟ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ بیٹی کی داستان منگنی کی تقریب میں موسیقی کی تال، گھر والوں اور رشتہ داروں کی طرف سے مبارک بادی، کتے کے بھونکنے سے بنتی ہے، لیکن یہاں اس کی اپنی آواز شامل نہیں ہے۔

البتہ کیا خواتین ہمیشہ سماجی عدم مساوات کے سامنے بے بس نظر آئیں گی؟ ”آنندی“ میں عباس اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ بیسواؤں جنہیں سماجی اور اخلاقی برائیاں تصور کیا گیا اور ان کا ہمیشہ مذاق اڑایا جاتا ہے، وہ اپنی قسمت کے لیے لڑتی رہیں۔ اگرچہ وہ ایک تنہا جگہ پر آباد ہوئیں، لیکن اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور وجدان کے ساتھ، انہوں نے ایک ویران جگہ کو خوشگوار اور گل رنگ بنا دیا۔ وہ بیسوائیں اپنے لیے ایک تھیٹر قائم کر سکتی ہیں جس پر شہر سے بے دخل ہونے والی ان کی رنگین زندگی کو ایک اور موقع مل سکتا ہے۔ خواہ مراعات یافتہ طبقہ اپنے جذبے کی آگ کو بجھانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، عورتیں کبھی اپنی شکست تسلیم نہ کریں، یا کم از کم، اپنی بقا کی حکمت عملی تلاش کرتی رہیں تاکہ ان کے وجود کا رنگ جس طرح چمکتا ہے اس طرح ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے۔

مصنف کے نزدیک، خواتین کا سب سے خوبصورت رنگ ان کا مادرانہ کردار ہے جو کائنات کی متاثر کن بنیاد ہے۔ ”اس کی بیوی“ میں غلام عباس اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ جتنا ہی زن کی جانب سے دی گئی خیانت مرد کے لیے سب سے بڑا درد ہوتی ہے، اتنا ہی خواتین کی شفقت اور حساسیت مرد کے جذباتی زخم کو بھرنے کی بہترین دوا ہوتی ہے۔ نوجوان جتنا زیادہ اپنی فوت شدہ بیوی اور طوائف کے درمیان مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی وہ جانتا ہے کہ ہر عورت اپنی ذات میں منفرد ہوتی ہے۔ طوائف کا رنگ حرام اسے اپنی کمزوری اور جہالت سے آگاہ کرتا ہے۔

اگرچہ مصنف شاید مغرب میں مقبول ہونے والے ”حقوق نسواں“ پر یقین نہیں رکھتا ہے، لیکن عباس کی رائے یہ ہے کہ ہر خاتون کی اپنی خودی ہوتی ہے جسے گھر کے پردے کے پیچھے نہیں چھپانا چاہیے اور نہ ہی اس کا اظہار صرف یوٹیلٹی اسٹورز کے باہر موجودگی ہوتا ہے۔ رنگ حرام جیسی کوئی چیز نہیں ہے جو خواتین کو معاشرے میں اپنی آواز سنانے سے روکتی ہے۔

Facebook Comments HS