ممتاز اقبال ملک۔ تحقیقاتی صحافت کا بڑا نام


آہ! ممتاز اقبال ملک بھی ہم نہیں رہا نام بھی ممتاز تھا اور کام بھی ممتاز۔ میدان صحافت میں بڑا نام کمایا۔ زندہ رہا تو بھی ممتاز ہی تھا ”انویسٹی گیٹو“ جرنلزم کا بڑا نام پچھلے چند برسوں سے صاحب فراش تھا اس لئے اس نے صحافیوں کی محافل میں شرکت ترک کر دی تھی گوشہ نشینی اختیار کر لی درویش صفت صحافی کا چند دوستوں تک رابطہ رہ گیا دوسرے تیسرے دن مجیب الرحمن شامی یا سجاد میر کو فون کر لیتے یا ان فون آ جائے تو حالات حاضرہ پر گپ شپ لگا لیتے یا پھر وہ اپنا حال دل بیان کر لیتے گو وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کرتے تھے لیکن وہ ایک باخبر اخبار نویس تھے جب تک آسمان صحافت کے درخشندہ ستارے سعود ساحر زندہ رہے، ان کے لئے ان کے پاس بہت وقت تھا۔

وہ شخص جو اپنی صحافت کے عروج میں ہفتہ روزہ زندگی و بادبان کے سرورق کی رونق ہوا کرتا تھا آئی ایس پی آر کے تحت شائع ہونے والے ماہنامہ ”ہلال“ کا کم و بیش دو عشرے تک مدیر رہا جب اس نے دنیا سے اٹھ کر اگلے جہاں کا سفر شروع کیا تو وہ گمنامی کی موت مر گیا۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے اس کی وفات کی خبر بھی دینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔ سوشل میڈیا (فیس بک ) کے ذریعے ان کے احباب کو ان کی وفات کی اطلاع موصول ہوئی۔ صحافت کا یہ المیہ ہے جب کوئی بڑا شخص بڑے عہدہ پر فائز ہوتا ہے تو اس کے ہاں تعزیت اور عیادت کرنے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں لیکن جب وہ خود اس دنیا سے اٹھ جائے تو اس کی خبر بھی چھاپنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ آج کے نوجوان صحافی کو ممتاز اقبال ملک، سعود ساحر اور مختار حسن جیسے بلند پایہ صحافیوں کے بارے میں کچھ علم نہیں بلکہ وہ سوال کرتے ہیں یہ کون لوگ تھے۔

الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے قبل پرنٹ میڈیا بڑا طاقت ور تھا اس کے تحقیقاتی آرٹیکل شائع ہونے سے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ جایا کرتی تھی ہفت روزہ صحافت میں تہلکہ خیز واقعات اور اندرونی کہانیوں کا قارئین پورا پورا ہفتہ زندگی، بادبان، چٹان اور تکبیر کا انتظار کرتے تھے۔ جب ملک میں پرنٹ میڈیا کا عروج تھا تو اس وقت ممتاز اقبال ملک کا بھی صحافت نام ممتاز تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور صحافت پر بڑا بھاری تھا۔ اخبارات کی بندش اور صحافیوں کو ”پابند سلاسل“ کرنا ریاستی پالیسی تھی۔ اس دور میں آزادی صحافت کا علم بلند کرنے والوں میں سون سکیسر کا یہ اعوان ممتاز سینہ تان کر کھڑا نظر آتا تھا۔ قلم کا وقار بلند رکھنے کے لئے کبھی جیل یا بے روزگاری کی پروا نہیں کی۔ جب کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا تذکرہ کیا جائے گا ممتاز اقبال ملک آزادی صحافت کا پرچم سربلند کرتا نظر آئے گا۔ پھر اچانک ممتاز اقبال ملک نے آئی ایس پی آر کے تحت شائع ہونے والے ماہنامہ ”ہلال کی ادارت سنبھال لی وہ کم بیش دو عشرے تک ماہنامہ“ ہلال ”کے مدیر رہے۔ ان کے اداریوں کی دھوم دور دور تک سنائی دیتی تھی پھر ان کی آزاد منش روش ان کے تبادلے کا باعث بن گئی۔ یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ ممتاز اقبال ملک جو“ تحقیقاتی صحافت ”کا بڑا نام تھا بھریا میلہ چھوڑ کر ادارہ جاتی صحافت کا حصہ کیوں بن گیا؟

اگرچہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن ممتاز اقبال ملک کا نام سالہاسال تک صحافت کی دنیا میں زندہ رہے گا۔ مورخ ان کی ہفت روزہ زندگی، بادبان اور ماہنامہ ہلال کے اداریوں اور مضامین کے حوالے سے زندہ رکھے گا۔ بظاہر وہ کم گو صحافی تھا لیکن چٹان کی طرح مضبوط ارادوں کا مالک تھا۔ ممتاز ملک کا خمیر سون سکیسر کے پہاڑوں سے اٹھا اور سینکڑوں میل دور میڈیا ٹاؤن کی مٹی میں ابدی نیند سو گیا۔ ممتاز اقبال ملک صحافت میں ایڈونچر پر یقین رکھتے تھے۔ سون سکیسر کے اعوان کو سکہ بند اردو دانوں سے بہتر اردو پر عبور تھا۔ وہ اس دور کا صحافی تھا جب قلم کو عزت و وقار حاصل تھا۔ وہ اس کی لاج برقرار رکھنے کے لئے ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔

ممتاز اقبال ملک نے بھرپور زندگی بسر کی انہوں نے اپنی صحافتی زندگی میں بڑا عروج دیکھا۔ دیانت اور شرافت ان کی زندگی کا طرہ امتیاز ہے حق سچ بات کہنے اور لکھنے میں کبھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا سچے عاشق رسول ﷺ تھے عقیدہ ختم نبوت پر ان کا ایمان اس حد تک پختہ تھا کہ اس پر قائم رہتے ہوئے انہوں نے کبھی اپنی ملازمت کی بھی پروا نہیں کی کبھی عقیدہ ختم نبوت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا ان کو اپنی اس روش کی وجہ سے ادارت سے بھی محروم ہونا پڑا وہ ریٹائرمنٹ تک فوج کی ایجوکیشن کور میں رہے۔ 19 ویں گریڈ کے سویلین افسر کی حیثیت سے ایجوکیشن کور سے ریٹائر ہوئے انہیں محفل آرائی ان کا شوق نہیں تھا خاموش طبع شخصیت کے مالک تھے صحت کے مسائل کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد گوشہ نشینی اختیار کرلی۔

گو انہوں نے قلم سے رشتہ تو توڑ دیا لیکن کتاب سے عمر بھر رشتہ قائم رکھا۔ وہ اخبار کا مطالعہ اس باریک بینی سے کرتے کہ پرنٹ لائن بھی پڑھ لیتے تھے۔ سون سکیسر کے ملک کو جنوں کی حد تک کتب بینی کا شوق تھا وہ دوستوں سے کم کم ملتے تھے لیکن ان سے فون پر رابطہ رکھتے ایک ہاتھ دور جدید کی ایجاد موبائل فون اور دوسرے ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی ان کی دوستیاں محدود تھیں سید سعود ساحر اور ان کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی جب تک سید سعود ساحر زندہ رہے وہ اکثر ان سے ملاقات کے لئے ممتاز اقبال ملک کی رہائش گاہ مکان نمبر 528 گلی نمبر 10، بلاک ڈی، میڈیا ٹاؤن اسلام آباد پہنچ جاتے پھر خوب گزرتی جو مل بیٹھتے دو دیوانے۔

ممتاز اقبال ملک تقریبات میں کم کم شرکت کرتے وہ اپنے محدود دوستوں جن میں مجیب الرحمنٰ شامی اور سجاد میر کا نام نمایاں ہے سے کم و بیش ہر روز موبائل پر بات چیت کرتے تھے کہ ایک دن ان کی وفات کی المناک خبر آ گئی۔ میں نے فوری طور مجیب الرحمٰن شامی اور سجاد میر کو ممتاز اقبال ملک کی وفات کی اطلاع دی۔ اگلے روز جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ بھی تعزیت کے لئے لاہور سے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔

بعد ازاں وہ میری رہائش گاہ پر آئے تو بڑی دیر تک ممتاز اقبال ملک بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ ہم دونوں نے ممتاز اقبال ملک کی اسلام دوستی اور عقیدہ ختم نبوت پر پختہ یقین پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ دور حاضر کے صحافیوں کے لئے ممتاز اقبال ملک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کاش ان کی تحریروں اور مضامین کو کتابی شکل دینے کی صورت نکل آئے ممتاز اقبال ملک صاف ستھرے کردار کے مالک تھے۔ اپنی صحافتی زندگی میں دیانتداری اور بے خوفی کو اپنا نصب العین بنایا۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو ممتاز اقبال ملک کی قربت حاصل رہی۔

ممتاز اقبال ملک دور حاضر کا درویش صفت صحافی تھا جو سادگی میں زندگی بسر کر کے اللہ تعالٰی کے حضور پیش ہو گیا آج ممتاز اقبال ملک ہم میں نہیں لیکن ان کی چھوڑی ہوئی روایات ہمیشہ برقرار رہیں گی مورخ ان کے شہ پاروں کی وجہ سے صحافت میں ان کے بلند مقام کا تعین کرے گا۔ دور حاضر کے صحافیوں کو ممتاز اقبال ملک کی تحریروں کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ تین چار دہائی قبل اردو جرنلزم کا کا معیار کس قدر بلند تھا۔

اگرچہ برگیڈئر (ر) صولت رضا میرے ہم عصر ہیں جن دنوں میں صحافت کے میدان میں رکھا ان دنوں ہی انہوں نے جرنلزم جائن کی لیکن بہت جلد آئی ایس پی آر سے منسلک ہو گئے۔ برگیڈئر صولت رضا اور ممتاز اقبال ملک کے درمیان دوستی تھی نظریاتی طور پر بھی دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ صولت رضا نے بتایا کہ ممتاز اقبال ملک نے افواج پاکستان کے ترجمان جریدہ کے ایڈیٹر کا منصب سنبھالا تو وہ اپریل 1981 سے آئی ایس پی آر لاہور آفس میں تعینات تھے۔ ملک صاحب سے براہ راست سرکاری آمنا سامنا نہیں تھا تاہم علیک سلیک ایک دہائی پہلے سے تھی۔

ان کا نام اخبارات جرائد اور پریس رابطے کے سرکاری اداروں کے لئے اجنبی نہیں۔ ممتاز اقبال ملک لکھاریوں اور صحافیوں صف اول میں شامل تھے جنہوں نے متحدہ پاکستان کے آخری ایام ’سانحہ مشرقی پاکستان اور بعد ازاں پیپلز پارٹی کے اولین دور حکومت میں منفرد عوامی انداز کی صحافت کی۔ وہ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ‘ ہفت روزہ زندگی و بادبان اور روزنامہ جسارت کے پلیٹ فارم سے مزاحمتی و نظریاتی صحافت کے علمبردار تھے۔ الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمٰن شامی کی قیادت میں مختار حسن، ممتاز اقبال ملک، سجاد میر اور سید سعود ساحر جیسے لکھاریوں کا پورے ملک میں چرچا تھا۔

انہوں نے ابتداء سے مربوط مضمون نگاری اور تیکھے انداز کی رپورٹنگ سے قارئین کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی۔ خاص طور سے رپورتاژ لکھنے میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔ بریگیڈئر (ر) صولت رضا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایڈیٹر ہفت روزہ ہلال کا منصب سنبھالتے ہی لاہور کراچی پشاور کوئٹہ اور دیگر چھاؤنیوں میں تعینات آئی ایس پی آر کے افسروں کو پاک افواج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے بارے میں باتصویر مضامین لکھنے کی ترغیب دی انہوں نے ان مضامین کا بھی ذکر کیا جن کی اشاعت پر ممتاز اقبال ملک اور انہیں پیشیاں بھگتنا پڑیں ممتاز اقبال ملک نے ہلال کے متعدد یادگار نمبر شائع کیے ۔

ان میں شاہکار سیرتِ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نمبر تھا۔ اس کے علاوہ یومِ آزادی نمبر جنگ ستمبر نمبر اور سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے ایمان افروز اداریے اور مضامین ہلال کی زینت تھے ممتاز اقبال ملک اصول پسند نظریاتی شخصیت اور اعلیٰ خاندانی روایات کے امین تھے۔ ہمیشہ دو ٹوک رائے کا اظہار بھرپور انداز میں کرتے تھے۔ موصوف کا ذاتی دستر خوان وسیع تھا۔ ان کے دفتر میں ادیبوں صحافیوں اساتذہ علماء سول افسر مزدور رہنما سیاسی اکابرین سمیت قارئین ہلال کا جھمگٹ لگا رہتا تھا۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر سطح کے (صرف) لوگ ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔

Facebook Comments HS