خواہشات ِ انسانی
انسان اپنی ذات میں ایک مکمل دنیا ہے جس میں بے شمار مختلف قوتیں ہیں۔ خواہشیں، جذبات اور احساسات ہیں۔ ہمارے جذبات اور احساسات کا براہ راست تعلق ہماری خواہشات سے ہوتا ہے۔ خواہش پوری ہو جائے تو ہم مثبت جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ورنہ ہمارے جذبات منفی ہوتے ہیں۔
انسانی خواہشات کی حوالے سے مازلو اور ولیم گلاسر کے ماڈل بہت مشہور ہیں۔
مازلو ماڈل:
ابراہام مازلو ( 1970 ء) ایک ماہر ِ نفسیات تھا۔ اس نے انسانی خواہشات کی ایک ترجیہی فہرست ترتیب دی تھی جو آج بھی کارآمد ہے اور انسانی نفسیات کی وضاحت کے لئے ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ
اگر انسان بھوکا یا پیاسا ہو تو اس کی ساری توجہ اپنی بھوک اور پیاس کو مٹانے کی طرف ہوتی ہے۔
ایک دفعہ یہ خواہشات پوری ہوجائیں تو پھر اسے اپنے تحفظ اور سلامتی کی فکر ہوتی ہے۔
تحفظ اور سلامتی کی ضمانت مل جائے تو پھر اس کا رخ محبت اور میل ملاپ کی طرف ہوتا ہے اور اس میں بھی اس کی زیادہ توجہ اپنی عزت نفس کی طرف ہوتی ہے۔
جب یہ ساری خواہشات پوری ہو جائیں تب وہ خود آگاہی اور خود شناسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے
ولیم گلاسر ماڈل:
: ولیم گلاسر کی چوائس تھیوری کے مطابق انسان ایک ایسی صاف سلیٹ کی طرح پیدا نہیں ہوتا جسے انتظار ہو کہ اس کے اطراف کی دنیا میں موجود عوامل اسے سلیٹ پر لکھنے کے لئے متحرک کریں گے اور تب اس دنیا میں اسکی عملی زندگی کی ابتداء ہوگی۔ اس کے بر عکس انسان پہلے سے طے شدہ پانچ فطری ضروریات اور خواہشات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے جو پیدائش سے لے کر آخر زندگی تک ہمہ وقت موجود رہتی ہیں اور اس کی ذات کو متحرک رکھنے کا باعث ہوتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے فیصلے ان ہی پانچ بنیادی خواہشات کو آسودہ کرنے کے لئے کرتا رہتا ہے۔ اگر ان میں سے اس کی کوئی خواہش پوری نہ ہو تو وہ اس وقت تک بے چین رہتا ہے، دباؤ میں رہتا ہے جب تک کہ اسکی وہ تشنہ خواہش پوری نہ ہو جائے۔
جسمانی خواہش:
ان پانچ خواہشوں میں اس کی سب سے پہلی خواہش جسمانی ہے، زندہ رہنے کی خواہش۔ اس میں سانس، کھانا، پانی، نیند، حرارت، تحفظ، اور افزائشِ نسل جیسی ضرور یات شامل ہیں۔
نفسیاتی خواہشات:
جسمانی خواہش کے بعد انسان کی چار نفسیاتی خواہشات محبت، طاقت، آزادی اور تفریحات ہیں۔
1۔ محبت/ میل ملاپ /یگانگت
یہ ایک ایسی نفسیاتی ضرورت ہے جو گھر والوں، دوستوں اور دیگر افراد سے تعلق اور میل ملاپ کی خواہاں ہوتی ہے۔ اگر محبت نہ ہوتی تو والدین اپنی اولاد کی بے لوث پرورش کیوں کرتے؟ بھائی، بہن، احباب، رشتہ دار اور محلہ دار کیوں مدد کرتے۔ یہ نفسیاتی ضرورت نہ ہوتی تو کمیونٹی اور برادری کیوں وجود میں آتی۔ بھائی چارہ کیسے قائم ہوتا، ایک مہذب معاشرہ وجود میں کیسے آتا۔
2۔ طاقت/ اہمیت / مقابلہ
اس نفسیاتی ضرورت کا تعلق انسان کی اہمیت اور وقعت سے ہے۔ انسان چاہتا ہے گھر والوں، دوستوں، رشتہ داروں، دوسرے لوگوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں اس کی کچھ اہمیت اور وقعت ہو۔ اس نفسیاتی خوا ہش کو پورا کرنے کے لئے سوسائٹی میں اچھا مقام اور مالی آسودگی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب کچھ ایک اچھے پیشے کے انتخاب یا کسی بہتر ذاتی کاروبار سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
دیکھا گیا کہ بعض لوگ اپنی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے کے سلسلے میں کافی حد تک انا پرست ہو جاتے ہیں۔ جب کہ بعض لوگ اس ضرورت کو مثبت انداز میں پورا کرتے ہیں، اپنی قابلیت اور اہلیت میں اضافہ کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ آدمی کی ذہنیت یہ ہے کہ جب کسی دوسرے شخص کو کسی بھی حیثیت سے اپنے مقابلے میں بڑھا دیکھے تو بے چین ہو جائے۔ رشک، حسد، رقابت، عداوت اور مزاحمت اس کی مختلف شکلیں ہیں
3۔ آزادی/ خود مختاری
: اس کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنے انتخاب اور فیصلے کرنے اور ان پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے آزادانہ طریقے سے کریں۔ اگر وہ کسی اچھے پیشے میں ہیں، سوسائٹی میں اچھا مقام رکھتے ہیں تو انہیں زیادہ آزادی اور خود مختاری حاصل ہو جاتی ہے۔ ایک چھوٹا بچہ بھی آزادی چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ جب تک چاہے وہ کھلونے سے کھیلتا رہے اور اسے کوئی نہ روکے۔ آزادی اور خود مختاری انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کرنے اور خود کفیل ہونے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن بہرحال آزادی کی حدود ہوتی ہیں۔ جہاں دوسرے کی آزادی کی حدود شروع ہوتی وہاں ہماری آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
4۔ تفریحات/ سیکھنا /ذہنی آسودگی
جب انسان کو سب کچھ میسر آ جاتا ہے، تب اسے تفریح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تفریح کے علاوہ نئی چیزیں سیکھنے کے مواقع اور ذہن کو جلا بخشتے رہنے کی طلب۔ ذہنی آسودگی نہ ہو تو ہر شخص بہت آسانی سے ذہنی امراض کا شکار ہو جائے اور پورا معاشرہ ایک مریض معاشرہ میں تبدیل ہو جائے
ذہنی آسودگی حاصل کر کے لئے مختلف لوگوں کے مختلف ذرائع ہیں۔ بچے تو کھیل کود کر مطمئن ہو جاتے ہیں جب کہ کچھ لوگوں کو پیشہ ورانہ کامیابی یا صرف اپنے ذہن کو جلا بخشتے رہے کے لئے مسلسل سیکھنے اور پڑھنے لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ذہنی آسودگی کے لئے فنونِ لطیفہ یا مذہب کا رخ بھی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ روحانیات اور مذہب کی پیروی سے ذہنی آسودگی حاصل کرتے ہیں۔
خواہشات کی غلامی
گو کہ ہماری بنیادی ضروریات ہماری زندگی میں مرکزی ادا کرتی ہیں، ہماری بقا کے لئے اہم ہیں لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی خواہشات کو بنیادی ضرورت قرار دے کر اس کے حصول کے لئے اپنی استطاعت سے زیادہ وسائل صرف کرتے ہیں۔ لوگوں میں اہمیت حاصل کرنے کی خواہش دکھاوا، شیخی، غرور اور انا جیسی چیزوں میں تبدیل ہو سکتی ہیمگربندے کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اگر ہم خواہشات کی حدود سے تجاوز کرنے لگیں تو مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں اور آ خر کار زندگی کا پہیہ غیر متوازن ہونے لگتا ہے۔
ایک دفعہ بنیادی ضروریات خوراک، لباس اور رہائش کا بندوبست ہو جائے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ اس میں بہتر سے بہتر کی خواہش ہوتی ہے۔ مثلاً پہلے خوراک صرف پیٹ بھرنے کے لئے چاہیے ہوتی ہے۔ پیٹ بھرنے کا بندوبست ہو جائے تو پھر ذائقے کی تلاش ہوتی ہے۔ پھر ایک سے زیادہ اقسام کی کھانے پر نظر جاتی ہے، پھر کھانا ذائقے کے ساتھ خوش شکل بھی ہونا چاہیے۔ متنوع ہونا چاہیے۔ مشروبات بھی ہوں۔ میٹھا بھی ہو۔ غرض کہ اس کی حدود کا تعین مشکل ہے
اس طرح کے لباس اور دیگر زندگی کی ضروریات کا معاملہ ہے۔ نت نئے فیشن، مہنگے برانڈ کی اشیا مثلاً کپڑے، جوتے، سیل فون، گھڑیاں، میک اپ کا سامان، سامانِ آرائش، کاریں۔
ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے اور لوگوں کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہے کہ ان کے پاس زندگی میں محدود وقت ہے۔ اس قیمتی چیز کو کن چیزوں کے حصول کے لئے برباد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح چھت میسر ہو جائے تو پھر بہتر اور کشادہ رہائش کی تلاش ہوتی ہے۔
اسی طرح تفریحات پر کوئی قابو نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ انجوائے کرو۔ گھریلو تفریحات کے علاوہ تفریحی مشاغل کی ایک بڑی انڈسٹری ہے۔ ویڈیو گیمز سے لے کر بڑے بڑے جوئے خانے، فلمیں، ٹی وی، میڈیا، تفریحی مراکز، گھڑ دوڑ اور بہت کچھ۔ اس میں بہت کچھ دخل ڈوپامین کا ہے جس کا فائدہ بہت سی کمپنیاں اٹھاتی ہیں
افزائشِ نسل ایک فطری ضرورت ہے اور اسے اسے زمین پر انسانی وجود کو قائم رکھنے اور زندگی کو آگے بڑھانے کے لئے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے یہ انسان کے اندر اس کی ایسی خواہش رکھی گئی جس پر قابو پانا آسان نہیں۔ تمام مذاہب اور کلچر نے اپنے طور پر اس کی حدود رکھی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان حدود میں نرمی ہوتی چلی گئی۔ اس وقت مغرب میں بلکہ دیگر ممالک میں ڈیٹینگ اور شادی بیاہ کے بغیر ساتھ زندگی گزارنے کا تصور مقبول ہوتا جا رہا ہے اور اسے قانونی حیثیت بھی حاصل ہو چکی ہے۔
شادی کو اب ایک فرسودہ رسم کے طور پر برتا جا رہا ہے۔ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ سنگل مام یعنی تنہا ماؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ تنہا ماؤں کے بچوں میں دیگر بچوں کے مقابلے میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہو سکتے ہیں جو ان کی شخصیات کو غیر متوازن کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔
وجہ کچھ بھی ہو، ہمیں اپنی خواہشات کی حدود میں رہنا چاہیے۔ ہمیں کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ ہماری خواہشات ہماری حدو میں ہیں یا نہیں، اس کے لئے ایک سوالنامہ ترتیب دیا۔ یہ سوالنامہ اس بات بھی پر روشنی ڈالتا ہے کہ زندگی کو غیر متوازن بنانے میں ہماری کن بنیادی ضروریات کا اہم کردار ہے۔ ایک دفعہ آپ نے ان کی نشاندہی کرلی اس کے بعد ان پر قابو پانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکتا ہے
فطری خواہشات۔ سوالنامہ
1۔ آپ اپنی غذا اور خوراک کے بارے میں لاپروا ہیں اور اکثر اوقات ذائقہ کو غذائیت پر ترجیح دیتے ہیں
2۔ آپ اپنی خواہشات کو ضرورت کا نام دیتے ہیں
3۔ آپ ضرورت سے زیادہ نام و نمود کے خواہاں رہتے ہیں
4۔ آپ اپنی خواہش یا غرض کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کے نقصانات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں
4۔ ہمیشہ برانڈ نام کی چیزوں کی خریداری کرنا پسند کرتے ہیں
6۔ آپ اپنی مرضی اور بغیر روک ٹوک کے کام کرنا چاہتے ہیں
7۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے کام کو سراہا جائے
8۔ آپ ہر چھوٹی بڑی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں
9۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر معلومات رکھتے ہیں
10۔ آپ تفریحات پر بہت زیادہ یا بہت کم وقت صرف کرتے ہیں
11۔ آپ ان لوگوں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں جن سے آپ کو کوئی کام نہیں پڑنا
12 1۔ کیا آپ اخبار اور کتابیں پڑھنا یا فنون لطیفہ کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں
اگر آپ کے 6 یا 6 سے زیادہ سوالوں کے جو بات مثبت میں ہیں تو آپ کو فوری طور پر اپنی بنیادی خواہشات پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

