خوشحالی کے گھنے جنگل کے نکڑ پر ایک بدحال جزیرہ
کچھ ایسا ہوا کہ پچھلے دنوں ہم چین یاترا پر نکل گئے۔ بنیادی طور پر ہمارا تعلق گاڑیاں بنانے کی صنعت سے ہے اس یاترا کا مقصد اپنے پڑوسی ملک میں اس صنعت کے حوالے سے برپا ہونے والے نئے معرکوں کو اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھنا تھا اور یہ کہ ہم اس لمحہ بہ لمحہ ہونے والی ترقی سے اپنے ملک کے لیے کیا فوائد حاصل کر سکتے ہیں اس کا ادراک حاصل کرنا تھا۔ بدقسمتی سے ہماری قومی فضائی کمپنی کے حالات تو بڑے ہی دگرگوں ہیں اس لیے یہ تو ممکن نہیں کہ کراچی سے ہوائی جہاز میں سوار ہوا جائے اور چین میں اپنی منزل مقصود پر سیدھا پہنچ جایا جائے۔
اس لیے ”الٹے بانس بریلی کو“ کے مصداق پہلے دبئی کی طرف مائل بہ پرواز ہوئے اور دو گھنٹے کی ہوا پیمائی کے بعد دبئی کے ہوائی اڈے پر جا اترے۔ دبئی کا ہوائی اڈہ بزعم خود جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔ ویسے تو دبئی کا سرکاری نام ہی ”متحدہ عرب امارات“ ہے۔ لیکن جب کراچی کے ہوائی اڈے سے روانہ ہو کر دبئی کے ہوائی اڈے میں داخل ہوا جائے تو شدید احساس ہوتا ہے کہ ”امارات کے سائے میں غربت“ کیا ہوتی ہے۔ ہماری چین کی پرواز کی روانگی میں 6 گھنٹے تھے اس دوران ہم دبئی کے ہوائی اڈے کی رنگینیوں میں کھوئے رہے کبھی اس کی چمک دمک پر رشک آتا اور کبھی کراچی کے ہوائی اڈے کی بے رونقی یاد کر کے دل کڑھتا۔
70 کی دہائی تک کی ابتدا تک منظر بالکل الٹا تھا کراچی کا ہوائی اڈہ چمکتا دمکتا تھا اور 24 گھنٹے مصروف رہتا تھا۔ دنیا کی تمام مشہور فضائی کمپنیاں کراچی کے لیے ہفتے میں کئی کئی پروازیں کیا کرتی تھیں۔ برطانوی، فرانسیسی اور ہالینڈ کی فضائی کمپنیوں نے تو کراچی ائرپورٹ سے متصل اپنے اپنے پانچ ستارہ ہوٹل قائم کیے ہوئے تھے۔ لیکن افسوس آج یہ تمام ہوٹل معدوم ہو چکے ہیں اور حال یہ ہو چکا ہے کہ کراچی کی سب سے مرکزی شاہراہ پر واقع ایک پانچ ستارہ ہوٹل ہسپتال کی عمارت میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ بے شک ہسپتال بھی عوام الناس کے لیے ایک اہم ضرورت ہے لیکن ہوٹل کا ہسپتال میں تبدیل ہونا ملک کی معاشی پستی کی طرف سفر کا ایک استعارہ ہے۔ آخر کار ہماری پرواز کی روانگی کا وقت ہو گیا اور ہمارا ہوائی جہاز پورا پاکستان پھلانگتا ہوا، ہمالیہ کی بلندیوں کو چھوتا ہوا الصبح بیجنگ کے ہوائی اڈے پر جا اترا۔
ہم نے کاروبار کے سلسلے میں 90 کی دہائی کی ابتدا سے چین یاترا شروع کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چین نے تازہ تازہ کمیونزم کا لبادہ اتارا تھا اور آزاد معیشت کی جانب سفر کا آغاز کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک جرمن گاڑیوں کی کمپنی واکس ویگن اور فرانس کی گاڑیوں کی کمپنی رینالٹ نے اپنی گاڑیوں کے کارخانے چین میں قائم کر لئے تھے لیکن چین کی سڑکوں پر صبح شام سائیکلوں کا اژدہام نظر آتا تھا۔ میری چین یاترا کی ابتدا، پاکستان کی مارکیٹ کے لیے ایک اچھی اور سستی موٹر سائیکل کی تلاش تھی جو اس وقت پاکستان کی مارکیٹ میں موجود مہنگی جاپانی موٹرسائیکل کے متبادل کے طور پر متعارف کرائی جا سکے۔
اس وقت میرے دوست میرا مذاق اڑاتے تھے کہ سارا چین سائیکل پر سوار ہے اور تم وہاں موٹر سائیکل ڈھونڈ رہے ہو۔ آج چین کمرشل ہوائی جہاز بنا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد چین ہوائی جہاز کی صنعت کے دو امریکی اور یورپی اجارہ دار بوئنگ اور ائر بس کو پچھاڑ دے گا۔ وہ دن دور نہیں جب بین الاقوامی فضاؤں میں امریکی اور یورپی طیاروں کی جگہ چینی ساختہ طیارے مختلف ممالک کی فضائی کمپنیوں کے ناموں کے ساتھ بین الاقوامی فضاؤں میں محو پرواز ہوں گے۔
مئی 1970 کی بات ہے۔ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی نے اپنے چار مسافر برادر جہاز جو مسلسل تین سال تک کمپنی کے زیر استعمال رہے تھے چین کو فروخت کر دیے تھے۔ پہلے فروخت شدہ طیارے کے ساتھ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے ایک درجن جوان بھی گئے تھے جنہوں نے وہاں جا کر چینی پائلٹس، انجینئر اور ٹیکنیشن کو تربیت دی۔ مزید براں اس میں سے ایک طیارہ چیئرمین ماؤ کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔ آج ہم کہاں اور چین کہاں۔
ہم نے نئی صدی کی ابتدا میں ہی اپنا ایک چھوٹا سا دفتر چین میں قائم کر لیا تھا اور ہم تواتر سے چین کے مختلف شہروں میں آتے جاتے تھے اس لیے ہم ان خوش قسمتوں میں سے ہیں جنہوں نے چین کو خواب غفلت سے جاگ کر قوموں کی ترقی کی میراتھن دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن صد افسوس ہم وہ بدقسمت بھی ہیں جس نے اپنے سامنے اپنے دیس کو ایک ابھرتے ہوئے معاشی طور پر ترقی پذیر ملک حیثیت سے دیکھا اور پھر اس کو رفتہ رفتہ غریب اور افراتفری کا شکار ہوتے بھی دیکھا۔
آج ہم بیجنگ کے جس ہوائی اڈے پر اترے یہ ہماری چین کی یاترا کی ابتدا سے لے کر اب تک چوتھا ہوائی اڈا ہے۔ آج یہ تمام دنیا کا سب سے بڑا ہوائی ٹرمینل ہے جو نو لاکھ چھیاسی ہزار اسکوائر میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے بغیر ڈرائیور کے خود کار ریل بھی چلتی ہے جو دو کلومیٹر تک سفر کرتی ہے یہ ائرپورٹ سال بھر میں نو کروڑ مسافروں کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے رن وے پر 72 بورڈنگ برج نصب ہیں۔
پچھلے سال اس ہوائی اڈے نے پانچ کروڑ سے زائد مسافروں کو ہینڈل کیا اور یہاں سے پونے چار لاکھ سے زائد طیاروں نے اڑان بھری۔ اس ائرپورٹ کی ابتدا 1958 میں ہوئی تھی جب ایک چھوٹی سی ٹرمینل کی عمارت کے ساتھ ڈھائی ہزار میٹر لمبا رن وے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں پہلی بین الاقوامی پرواز پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی۔ آئی۔ اے ہی کی آئی تھی۔
یہ کووڈ کے بعد ہماری پہلی چین یاترا تھی اس دوران چین کی ترقیوں نے مزید آسمان کی بلندیوں کو چھو لیا۔ ہم نے سڑکوں پر چینی ساختہ خود کار بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں دوڑتے دیکھیں۔ چین کا امیر اور فیشن ایبل طبقہ پہلے جرمن اور امریکی اعلی برانڈ کی گاڑیاں خریدتا اور استعمال کرتا تھا اب بخوشی چینی برانڈ کی گاڑیاں خرید رہا ہے کیونکہ چینی ساختہ گاڑیوں نے بین الاقوامی برانڈ کی گاڑیوں کے مقابلے میں اپنے اعلی معیار کی وجہ سے اعلی طبقے کے چینی خریداروں کو اپنی طرف مائل کر لیا ہے۔
پچھلے سال چین کے 250 سے زائد کار ساز اداروں نے سوا تین کروڑ سے زائد گاڑیاں بنائیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگلے پانچ سے سات سال میں دنیا بھر کی سڑکوں پر چینی ساختہ گاڑیوں کا ہی راج ہو گا اور دنیا کے ہر ملک کی سڑکوں پر چینی گاڑیاں ہی دوڑ رہی ہوں گی۔ چین میں ہم نے انتہائی تیز رفتار ریل گاڑی میں بھی سفر کیا جو ”شنگھائی مینگلیو ٹرین“ کہلاتی ہے اور جس کی انتہائی رفتار 431 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ہم پہلی جولائی کو چین میں تھے۔
پہلی جولائی کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ اس سال چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کو 103 سال ہو گئے تھے۔ ہم جس گاڑیاں بنانے کے کارخانے سے تجارتی مذاکرات میں مصروف تھے، پتہ چلا آج یہاں کمیونسٹ پارٹی کی سالگرہ کی خوشی میں صبح آدھے گھنٹے پہلے کام شروع کر دیا جائے گا۔ البتہ کارکنوں کو اس کے بدلے اس آدھے گھنٹے کا دگنا معاوضہ دیا جائے گا۔ پاکستان میں ایسے ہر موقع پر چھٹی منانے کا رواج ہے۔
چین میں گوگل، فیس بک، یوٹیوب، ایکس (سابقہ ٹیوٹر) واٹس ایپ وغیرہ کام نہیں کرتے۔ چین نے ان تمام ایپلیکیشن کے متبادل تیار کی ہوئی ہیں۔ اس لیے وہاں کے عوام سوشل میڈیا کی ہیجان انگیزیوں سے بھی بچے ہوئے ہیں اور ہمہ وقت معاشی سرگرمیوں اور صحت مند تفریحات میں مصروف رہتے ہیں۔ چین نے جب آزاد معاشی منڈی کا نظام اپنایا تھا تو وہاں گداگری اور جسم فروشی شروع ہو گئی تھی مزید براں مساج سینٹرز کے نام پر جا بجا فحاشی کے اڈے قائم ہو گئے تھے۔ اب یہ تمام سرگرمیاں بھی کلی طور پر بند ہو گئی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے انتظامی امور پر گرفت کتنی مضبوط ہے۔
چین ایک عظیم الجثہ ملک ہے اور اس کی سرحدیں دنیا کے چودہ ممالک سے ملتی ہیں ہمارا ملک پاکستان بھی چین کے جنوب مغربی کونے کے ایک چھوٹے سے حصے سے جڑا ہوا ہے اس لئے ہم چین کے پڑوسی کہلاتے ہیں۔ ہمارا دعوی ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی اونچی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین اس وقت معاشی ترقی و خوشحالی کا ایک گھنا جنگل ہے اور ہم اس کے ایک کونے میں بد حالی کا ایک جزیرہ نظر آتے ہیں۔






