میرا الو سیدھا کیوں نہیں ہوتا؟
معلوم نہیں لوگ کیسے خوشامد اور چکنی چپڑی باتیں کر کے اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں۔ میرا الو کبھی سیدھا نہیں ہوتا، ٹیڑھا ہی رہتا ہے۔ یہ بات میں نے اپنے دوست کو بتائی تو کہنے لگا رہنے دے ٹیڑھا، تو نے اپنے الو سے کوں سا حاشیے لگانے ہیں۔ میں نے سوچا بات تو ٹھیک کر رہا ہے یہ۔ لیکن پھر بھی، بات وہی ہے کہ آج کل کے دور میں اپنا الو کیسے سیدھا کیا جائے تا کہ پھنسے ہوئے کام آسانی سے ہو جائیں۔
میں نے سوچا بہترین حل یہی ہے کہ الو سے خود پوچھ لیا جاوے۔ میں نے آنکھیں بند کر کے سچے دل سے اپنے الو کو یاد کیا اور پوری کائنات اسے مجھ سے ملانے میں جٹ گئی۔ کچھ دیر تک کوئی پر پھڑپھڑانے کی آواز نہیں آئی تو میں نے مایوس ہو کر آنکھیں کھول دیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے والے درخت کی شاخ پر الو بیٹھا ہے۔ مجھے ایک شعر یاد آ گیا۔ خیر الو بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ میں نے سوچا کہ کہیں مجھے دیکھ کر الو سکتے میں آ کر یہ تو نہیں سوچ رہا کہ اس سے زیادہ بھی کوئی الو لگ سکتا ہے۔
الو کہیں سے ٹیڑھا نہیں دکھائی دیا مجھے جس پر میں نے شکر ادا کیا۔ میں نے الو کی طرف ایک انگلی بڑھا کر اسے چھونا چاہا یہ دیکھنے کے لیے کہ میرا الو زندہ بھی ہے یا نہیں کہ اچانک الو کی آنکھوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ زیر چونچ ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے میری انگلی کی طرف دیکھ کر ڈیلے میری طرف گھمائے۔ میں نے شرمندہ ہو کر انگلی واپس اپنی مٹھی کے ہولسٹر میں داب لی۔
میں نے پوچھا کیا نام ہے تمھارا؟
کہنے لگا تم الو ہو کہ میں؟
میں نے کہا اس وقت تو تم ہی لگتے ہو۔
ذرا سی گردن ہلا کر کہنے لگا کہ اس سوال سے تو لگتا ہے تم ہو۔ ویسے بھلا الووں کا بھی کوئی نام ہوتا ہے۔
میں نے اصرار کیا کہ کوئی نام تو پسند ہو گا تمہیں۔
کہنے لگا مجھے ”ارجن“ نام پسند ہے۔
میں نے کہا پھر کیا تم کو الو ارجن کہوں، وہ تو ساؤتھ کا بہت بڑا سٹار ہے۔
اس نے تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے الف پر زبر ہے جب کہ میرے الف پر پیش۔
میں نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اردو تو بہت اچھی ہے تمھاری۔
کہنے لگا آخر تمھارا الو ہوں۔ اتنا تو بنتا ہے۔
میں ابھی فخر محسوس کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولا اتنا پھیلو مت، تمھاری وجہ سے میری برادری میں ناک کٹ گئی ہے۔
میں نے حیرانی سے کہا کہ ایسا کوئی کام تو کیا ہی نہیں میں نے آج تک۔
سپاٹ چہرے سے کچھ دیر مجھے دیکھ کر اس نے کہا کہ یہی تو غم ہے۔ نہ تمھیں چاپلوسی آتی ہے نہ خوشامد۔ ایسے کیسے چلے گا۔
میں نے غصے سے کہا تم ٹیڑھے تو کہیں سے نہیں لگتے۔ اگر سیدھے ہو تو میرے کام وقت پر کیوں نہیں ہوتے۔ سب لوگوں کے الو سیدھے ہو جاتے ہیں مگر میں وہیں کا وہیں کھڑا ہوں۔
کہنے لگا یہ ٹیڑھا پن استعارہ ہے میاں۔ مجھے سیدھا کرنا ہے تو لوگوں کی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھنا سیکھو۔
میں نے انکار کر دیا کہ مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا۔ کوئی اور حل بتاؤ۔
وہ اس بات پر مصر تھا کہ حل تو یہی ہے۔
میں نے غصہ ضبط کرتے ہوئے دانت بھینچ کر کہا بہت ڈھیٹ ہو تم الو کے۔
کہنے لگا بس بہت ہو گیا۔ میں جا رہا ہوں۔ ذرا سی خوشامد میری کرتے تو کچھ گر بتا دیتا تمھیں۔ تم سڑتے رہو اپنی سچائی اور ایمانداری کے ساتھ۔


