کوئی خاتون صدر کیوں نہیں بن سکتی؟


پاکستان میں ریاست کے اعلیٰ ترین ایوان تک آج تک کوئی خاتون نہیں پہنچ پائی۔ آزادی کے بعد کے 77 سالوں میں ایک کے سوا کوئی خاتون ایوان صدر تک پہنچنے کی جدوجہد میں بھی نظر نہیں آتی۔ یہ واحد خاتون جس نے ریاست کے سربراہ کے ایوان تک پہنچنے کی کوشش کی وہ بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے 1965 کے صدارتی ایوان میں اپنے وقت کے طاقتور ترین فوجی آمر کے مقابل صدارتی الیکشن میں حصہ لیا۔ اگرچہ محترمہ بے نظیر بٹو وزارت عظمیٰ تک پہنچ کر سربراہ حکومت بننے میں کامیاب ہوئیں مگر سربراہ ریاست اب تک کوئی خاتون نہیں بن سکی۔ فاطمہ جناح کے علاوہ تو کوئی خاتون اس دوڑ میں حصہ لیتی بھی نظر نہیں آتی۔ اگرچہ فاطمہ جناح صدارتی الیکشن میں کامیاب نہیں ہوئیں لیکن الیکشن مہم کے دوران ان کی عوامی پذیرائی آج بھی ضرب المثل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ فاطمہ جناح عوامی پذیرائی کے باوجود ایوان صدر میں پہنچنے میں کیوں ناکام رہیں یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم ان کے علاوہ ہمیں کوئی خاتون ایوان صدر پہنچنے کی دوڑ میں بھی کبھی نظر نہیں آئی۔

فاطمہ جناح کا نام اس وقت پاکستان کی سیاست میں ابھر کر سامنے آیا جب انہوں نے 1965 کے صدارتی انتخابات میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلے میں حصہ لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں جمہوریت کی بقاء کے لئے کوششیں جاری تھیں۔ فاطمہ جناح نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران ہمیشہ اصولوں اور نظریات کی پیروی کی۔ انہوں نے عوام کے حقوق اور آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کی۔ اگرچہ وہ انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن ان کی کوششوں نے پاکستان میں جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بے نظیر بھٹو، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، فاطمہ جناح کی سیاسی جدوجہد کی وارث سمجھی جا سکتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو وہ اکیلی خاتون ہیں جو اعوان وزیر اعظم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ بے نظیر بھٹو نے دو مرتبہ وزیراعظم بن کر ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکتی ہیں اور ملک کی قیادت کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں خواتین کو آج بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ بے نظیر بھٹو کی صورت میں پاکستان نے ایک خاتون وزیراعظم کو دیکھا، لیکن آج بھی خواتین کی مکمل شرکت اور شمولیت کے لئے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ خواتین کو تعلیم، صحت، اور معاشی مواقع فراہم کرنے کے لئے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ فاطمہ جناح کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خواتین کی طاقت اور قابلیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

فاطمہ جناح کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ہمیں اپنی نئی نسل کو ان کی خدمات اور قربانیوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کے نظریات اور افکار کو اپنانا اور ان پر عمل پیرا ہونا ہمارے لئے ضروری ہے تاکہ ہم ایک بہتر اور مساوی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ فاطمہ جناح کا نام ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور ان کی جدوجہد ہماری راہنمائی کرتی رہے گی۔

پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین سیاست میں حصہ لے سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ جو پاکستان کی ریاست کا سربراہ ہے وہاں پر بھی خاتون کو پہنچنا چاہیے کم از کم ایک خاتون تو وہاں تک پہنچے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ خواتین کی یہاں تک بھی نمائندگی ہے ابھی تک 77 سالوں میں خواتین کا ایوان صدر تک نہ پہنچنا بھی سیاست پر ایک سوالیہ نشان ہیں جس طرح فاطمہ جناح کے ایوان صدر پہنچنے کے راستے مسدود کیے گئے وہ بھی انتخابی عمل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس ساری صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایوان صدر تک بھی کوئی خاتون پہنچے اور پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کرنے کا باعث بنے۔

Facebook Comments HS