مشینوں کی بڑھتی آسودگی اور کاہل بنتا انسان


ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
(اقبال )
روز اول سے ہی انسان اپنے کام کو آسان اور سہل بنانے کے لیے مختلف طرح کی چھوٹی بڑی ایجادات کرتا چلا آیا ہے مگر بیسویں صدی کے آغاز سے، انسان نے اپنی زندگی میں مشینوں کا استعمال بے پناہ بڑھا دیا۔ آج کی دنیا میں، جہاں ہر چیز خودکار ہوتی چلی جا رہی ہے، مشینیں ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ تاہم، یہ آسودگی ہمیں کس حد تک کاہل بنا رہی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو ہماری معاشرتی اور معاشی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر چیز کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مشینیں ہمیں پیچیدہ سے پیچیدہ کام میں سہولت فراہم کرتی ہیں بلکہ جو کام انسان مہینوں میں کر سکتا ہے وہ چند گھنٹوں میں کر دیتی ہیں گھریلو کاموں سے لے کر صنعتی پیداوار تک، مشینیں ہر جگہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں معاون و مددگار ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ واشنگ مشین، مائیکرو ویو اوون، اور ڈیجیٹل اسسٹنٹس جیسے آلات نے ہمارے کاموں کو آسان بنا دیا ہے۔ اسی طرح کرین، ریل گاڑیوں، ٹریکٹرز، ہوائی جہازوں، مختلف صنعتی مشینوں نے ہمارے مختلف پیچیدہ طرح کے کاموں کو نہ صرف انتہائی سہل اور آسان بنا دیا ہے بلکہ ہمارا بہت سا قیمتی وقت بھی بچایا ہے صنعتی میدان میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں نے پیداوار کی رفتار اور معیار کو بڑھا دیا ہے۔

ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ طبی میدان میں مشینوں کی بدولت پیچیدہ آپریشنز آسان ہو گئے ہیں اور زندگی کی امید میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی میدان میں آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل لائبریریوں اور کمپیوٹرز کی بدولت علم حاصل کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔

مشینوں کی آسودگی کی ایک قیمت ہے اور وہ ہے انسانی کاہلی۔ جب مشینیں ہمارے زیادہ تر کام خود کرتی ہیں، تو ہمیں خود کو متحرک رکھنے کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً، جسمانی مشقت کے کام جیسے کہ صفائی، کپڑے دھونا یا کھانا پکانا اب مشینوں کے ذریعے ممکن ہو گئے ہیں، جس سے جسمانی سرگرمیاں محدود ہوتی جا رہی ہیں جس طرح دیگر مشینیں بے کار رہنے سے ناکارہ ہوجاتی ہیں اسی طرح انسان بھی خالق کائنات کی تخلیق کردہ ایک مشین ہے اگر یہ بے کار پڑا رہے گا تو اسے بھی طرح طرح کی بیماریاں اپنی گرفت میں لینے لگیں گی۔ آپ نے عموماً یہ مشاہدہ کیا ہو گا کہ آپ کے اردگرد جو لوگ سخت کوشی کرتے ہیں وہ مکمل صحت مند ہیں اور جو آسودہ حال رہتے ہیں وہ کئی بیماریوں کا شکار ہیں۔

جب ہم مشینوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، تو ہماری جسمانی صحت متاثر ہو جاتی ہے۔ جسمانی سرگرمی کی کمی موٹاپا، دل کی بیماریوں، اور دیگر صحت کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ورزش نہ کرنے کی عادت بڑھتی ہے اور لوگ سست اور کاہل ہو جاتے ہیں۔ یہ عادت خاص طور پر بچوں میں زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے، جو ویڈیو گیمز اور ٹی وی دیکھنے میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

مشینوں کی آسودگی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ہمارے زیادہ تر کام مشینیں کرتی ہیں، تو ہماری اپنی تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور ہم مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کا اثر ہمارے ذہنی سکون پر بھی پڑتا ہے کیونکہ ہم مشینوں پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں اور خود کی صلاحیتوں پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اس طرح ہماری اپنی صلاحیتیں زنگ آلود ہوجاتی ہیں۔

مشینوں کی آسودگی کا ایک اور اہم پہلو اس کے معاشرتی اثرات ہیں۔ مشینیں ہمیں کم وقت میں زیادہ کام کرنے کی اجازت دیتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسانوں کے درمیان تعامل کم ہوتا جا رہا ہے۔ مثلاً، آن لائن شاپنگ کی وجہ سے ہم بازار جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، جس سے سماجی رابطے کم ہو رہے ہیں۔

آنے والے وقت میں مشینوں کی ترقی مزید بڑھے گی۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور مشینی سیکھنے (Machine Learning) کی بدولت مشینیں مزید ہوشیار اور خودکار ہو جائیں گی۔ تاہم، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ ہم ان پر کس حد تک انحصار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے خود کو متحرک رکھنا ہو گا۔

مشینوں کی آسودگی کا بہترین استعمال تب ہی ممکن ہے جب ہم ان کا صحیح توازن برقرار رکھیں۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنا چاہیے۔ مثلاً، اگر ہم واشنگ مشین کا استعمال کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی ورزش بھی کریں۔ اسی طرح، آن لائن کام کے دوران وقفہ لے کر چہل قدمی بھی کریں۔

مشینوں کی بڑھتی آسودگی ہمیں بے شک بے شمار فوائد فراہم کرتی ہے، لیکن ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ یہ ہمیں کاہل نہ بنا دیں۔ ہمیں اپنے جسم اور ذہن دونوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے خود کو متحرک اور فعال رکھنا ہو گا۔ اس طرح ہم مشینوں کی آسودگی کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی صحت اور خوشی کو بھی یقینی بنا سکیں گے۔

Facebook Comments HS