توانائی کے مسائل کا کیا حل ہے؟


اس وقت پاکستان سالانہ بیس ارب ڈالر سے زائد توانائی کی درآمدات میں خرچ کر رہا ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ پاکستان تیزی سے مقامی سطح پر تیل و گیس کی تلاش کا کام بھی کر رہا ہے تاکہ توانائی کے امپورٹ بل کو توازن کی سطح پر رکھا جا سکے کیونکہ ایک غریب ملک اور کم برآمدات کے تناظر میں تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکے۔ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے کہ ماضی کی نسبت تیل و گیس کی تلاش میں سرمایہ کاری کو کافی آسان بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان توانائی کے جس بحران سے گزر رہا ہے اور مہنگی بجلی سے عوام جس طرح پریشان ہیں اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ایفیشنٹ پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی سے بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے گیس کی چوری روکنے کے لئے جدید نظام لایا جا رہا ہے جس سے گیس چوری کو روکنے اور اس شعبے میں خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمارے پاس قابل تجدید توانائی کے وسیع وسائل ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ہر ٹرانسفارمر پر سمارٹ میٹر لگایا جائے گا۔ دوسری طرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات کے ذریعے بجلی چوری کے خاتمے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر سیاسی استحکام رہا تو امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں بتدریج بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔

توانائی بحران کے حوالے سے ہمیں معاملات کو مقامی تناظر سے زیادہ بین الاقوامی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گو ہمارے ہاں مقامی سطح پر انتظامی نا اہلی کا بھی توانائی بحران میں بہت کردار ہے مگر توانائی کا بحران اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ کویت جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی اب لوڈ شیڈنگ شروع ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف یورپی ممالک میں بھی توانائی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے مائع گیس اور قدرتی گیس بہت مہنگی ہو چکی ہے۔

میرے خیال میں ایل این جی درآمدات کو تیزی سے بڑھانے کی بجائے پاکستان کی زیادہ توجہ موجودہ ایل این جی سپلائی کی ریگولیٹری ترغیبات کو تبدیل کر کے، ٹیرف کے ڈھانچے کو معقول بنانے اور توانائی کی بچت کے پروگراموں کو لاگو کرنے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔ توانائی کی پیداوار میں قابل تجدید (renewable) ذرائع کا زیادہ حصہ شامل کر کے موجودہ صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔

ڈیسکوز کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لئے نجکاری کمیشن اور پاور ڈویژن کو مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے تاکہ انرجی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار تیز ہو سکے۔ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی روشنی میں وفاقی حکومت ڈیسکوز کے حوالے سے صوبوں سے معاملات طے کرے اور مساوی مالیات اور رسک شیئرنگ کی بنیاد پر ڈیسکوز سے معاہدے کیے جائیں۔ بجلی تقسیم اور ترسیل کے نظام میں جہاں بہت زیادہ نقصانات ہیں، اس میں صوبائی حکومتوں کو بھی شراکت دار ہونا چاہیے۔

بجلی کے تھری فیز کنکشن رکھنے والے صارفین کو بجلی کم نرخ پر دی جائے تاکہ وہ سردیوں میں گرمائش کے حصول کے لئے گیس ہیٹر کے بجائے الیکٹرک ہیٹر کا استعمال کریں۔ یوں بجلی کی طلب میں تین سو میگاواٹ کا اضافہ ہو گا اور موجودہ غیر استعمال شدہ صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اس تین سو میگا واٹ اضافی بجلی کے لئے صرف پچاس ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس کا استعمال بڑھے گا۔ ملک میں بجلی کا استعمال بڑھانا ہو گا کیونکہ اس وقت پچیس ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ ڈیسکوز کو بجلی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ترسیل اور پیداواری یونٹس لگانے کی بھی اجازت دینی چاہیے تاکہ ہر ڈیسکو اپنی ضرورت کے مطابق توانائی کی پیداوار پر کام کر سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے موجودہ گیس ذخائر اگلے بارہ سے چودہ سال میں ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں گیس کی سالانہ پیداوار قریب چار ارب کیوبک فٹ ہے جبکہ اس کی طلب تقریباً چھ ارب کیوبک فٹ ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں اس وقت دو ایل این جی ٹرمینل کام کر رہے ہیں جن میں مجموعی گنجائش ایک اعشاریہ دو ارب کیوبک فٹ ہے۔ مستقبل میں پاکستان کا بہت زیادہ انحصار ایل این جی کی امپورٹ پر ہو گا کیونکہ مقامی طور پر گیس کی پیداوار تیزی سے گر رہی ہے۔

ہمیں ایل این جی کو اپنے نظام کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پیداوار پر بھی توجہ دینا ہو گی اور گیس و تیل کے نئے کنووں کی دریافت پر تیزی سے کام کرنا ہو گا۔ دنیا بھر میں پائپ کے ذریعے گیس گھر میں آنا ایک لگژری ہے۔ مقامی طور پر ہمیں گیس پیدا کرنے میں سات سو روپے لگتے ہیں جبکہ صارفین سے ہم اس کے عوض تقریبادو سو پچھتر سے تین سو روپے وصول کرتے ہیں۔ اس وقت ہمارے ملک میں نوے فیصد صارفین سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

نئی سوسائٹیز جتنی مرضی بنا لیں ان کو ایل این جی کی قیمت چارج کر لیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمیں قیمت، رسد اور نئے کنکشن سب کو بیلنس کر کے چلنا چاہیے۔ گرڈ سے اضافی بجلی لینے کے لئے پانچ سو کے وی اے کے سٹیشن لگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اب ایل این جی درآمد کرنے والے دس بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار کے لئے کوئلہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہم نے دس سال پہلے تک ذخائر ہونے کے باوجود کوئلہ توانائی کے شعبے میں استعمال نہیں کیا۔ تھر میں ہمارے پاس کوئلے کے وافر ذخائر کے باوجود ابھی تک ہم صرف سترہ فیصد بجلی کوئلہ سے بنا رہے ہیں۔ تھر کے کوئلے کو استعمال میں لا کر اس سے گیس اور تیل پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تھر میں ایک سو پچھتر ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جس کو اگر بروئے کار لایا جائے تو یہ ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ ذخائر پچاس ارب ٹن تیل کے برابر ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے تیل کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں اور جو پاکستان کے موجودہ گیس کے ذخائر سے 68 گنا زیادہ ہیں۔ جہاں تک کوئلے کے استعمال سے ماحول پر پڑنے والے برے اثرات کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ تھر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں سے ماحول کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس منصوبے کے لئے جدید ترین آلات اور مشینری استعمال ہو گی جو ورلڈ بینک اور یورپین یونین معیار کے مطابق ہو گی۔

ہمیں گیس کے بے جا استعمال کے لئے عوامی آگاہی مہم کا اہتمام کرنے کے ساتھ گیس کے تکنیکی ضیاع کو بھی روکنا ہو گا۔ حکومت نے توانائی کے حوالے سے ایک۔ ”روشن پاکستان پروگرام“ متعارف کروایا ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ توانائی بحران کے خاتمے میں خاصی مدد ملے گی۔ بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی توانائی کے شعبے میں حکومتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ لائن لاسز کم کرنے پر بھی حکومت گہری توجہ دے رہی ہے۔

پاکستان میں ایوریج انکم بہت کم ہے جس کی وجہ سے عوام مہنگی بجلی افورڈ نہیں کر سکتے۔ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ معاہدے موجودہ توانائی بحران اور مہنگی انرجی کی بنیاد ہیں۔ ہمیں اس وقت میک ان پاکستان طرز معیشت کی ضرورت ہے۔ انڈسٹری چلانا وفاق کا کام نہیں صوبوں کا کام ہے۔ اس وقت وفاقی سطح پر مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی رائٹ سائزنگ پر کام ہو رہا ہے۔

حکومتی سطح پر غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے اور اشرافیہ کی ناجائز مراعات ختم کرنے کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارے تمام ادارے سبسڈی پر چل رہے ہیں جن کو بتدریج ختم کرنے کی ضرورت ہے، صرف ٹارگٹڈ سبسڈی ہونی چاہیے لیکن اس میں ملک کی اکانومی کو سہارا دینے والے متوسط طبقے کا گلا گھونٹنے سے بھی حکومت کو گریز کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS