انقلاب کی آہٹ


بچپن میں انقلاب کا لفظ اکثر سننے کو ملتا تھا۔ بعض اوقات حالات کا ستایا شخص جب جوش خطابت میں کہتا کہ اس ملک کو خونی انقلاب کی ضرورت ہے اور ایک خونی انقلاب ہی اس ملک کو بچا سکتا ہے تو لگتا کہ اس ملک کے تمام مسائل کا واحد حل ایک انقلاب ہی ہے۔ ہماری حالت منٹو کے کردار استاد منگو جیسی ہو گئی جس کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں کی نجات ایک نئے آئین میں ہے۔ وقت گزرتا گیا اور پھر ایم اے میں جب چارلس ڈکنز کا شہرۂ آفاق ناول A Tale of Two Citiesپڑھنے کا موقع ملا تو انقلاب سے وابستہ سارا رومانس آنسو میں بہہ گیا۔

گیلوٹین سے کٹتے ہوئے سروں کا سوچ کر روح کانپ سی گئی۔ تقریباً دس سال جاری رہنے والے اس انقلاب فرانس نے نہ کسی ظالم کو چھوڑا اور نہ کسی بے گناہ کو ۔ جس پر شک کی سوئی اٹکی اسے گیلوٹین کے حوالے کر دیا گیا۔ اس انقلاب پر بہت کچھ لکھا گیا کیوں کہ قریب کی تاریخ میں اس انقلاب نے بعد میں آنے والے انقلابیوں کو بے حد متاثر کیا۔ ایران میں بھی ایک انقلاب برپا ہوا جو پہلوی حکمرانوں کی استبدادیت کا ردعمل تھا۔ محترم مختار مسعود کی ”لوح ِ ایام“ ان واقعات کا بخوبی احاطہ کرتی ہے جو انقلاب سے پہلے اور دوران رونما ہو رہے تھے۔ یہ واقعات انقلاب کی دہشت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی انقلابات برپا ہوئے، ان میں بے شمار لوگوں کا خون بہا۔ اکثر اوقات گنہگاروں کے ساتھ بے گناہوں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی۔ بعض اوقات موثر انقلابی قیادت کے ہوتے ہوئے بھی انقلابات کی خون آشامیاں روکی نہ جا سکیں۔ اگر ہم وطن عزیز کے حالات پر ایک عمیق نظر ڈالیں تو حالات یہاں بھی گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ گو کہ حالات تو ہمارے کبھی بھی قابل رشک نہیں رہے اور ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔

ایک نازک موڑ گزرتا ہے تو دوسرا شروع ہوجاتا ہے لیکن حالیہ چند برسوں سے ملکی حالات تیزی سے پستی کی طرف جانا شروع ہوچکے ہیں۔ مہنگائی کا گھن چکر سمجھ سے باہر ہو چکا ہے۔ مہنگا پٹرول اور مہنگی بجلی عوام کی جان کو آچکے ہیں۔ غریب اور سفید پوش طبقے کی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی دلدل میں عوام کو گردن تک دھنسا دیا گیا ہے۔ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی نے ایک عام شخص سے سکھ اور چین چھین لیا ہے۔

لیکن ازلی و ابدی حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں میں ویسے ہی مگن ہے۔ ان کو عوام کی حالت زار کی چنداں فکر نہیں ہے۔ پہلے جون میں بجٹ آتا تھا اور بعد میں کبھی کبھار منی بجٹ آتا تھا اور چیزوں کی قیمتیں بڑھتی تھیں لیکن اب تو ہر روز منی بجٹ آتا ہے۔ ہر روز اخبار کی سرخیاں چیخ چیخ کر بجلی مہنگی ہونے کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں۔ کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر تو کبھی کسی دوسرے نام پر عوام پر بجلی بم گرایا جاتا ہے۔

کوئی دن جاتا ہو گا جب بجلی مہنگی ہونے کا اعلان نہ ہوتا ہو۔ لیکن اس کے باوجود نہ عالمی ساہوکاروں کا پیٹ بھرتا ہے اور نہ ان کے مقامی گماشتوں کا ۔ افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ سارا بوجھ عوام پر لاد دیا جاتا ہے۔ ہر شخص حواس باختہ نظر آ رہا ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی مطمئن و پرسکون ہے تو وہ ہمارا اشرافیہ یا حکمران طبقہ ہے۔ اس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اس کے لیے بجلی، پانی، گیس وغیرہ وغیرہ سب کچھ مفت ہے۔ سارے وسائل اس طبقے کے لیے حاضر ہیں۔ ملکی قرضوں کی ادائیگی اس کا سردرد نہیں۔ ان کے لیے وسائل فراہم کرنا ہر پاکستانی کا اولین ”فریضہ“ ہے۔

ہمارے ملک میں خواص اور عوام کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا یہ سارے حالات انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں؟ لیکن اگر خدانخواستہ اس ملک میں انقلاب فرانس جیسا کوئی انقلاب برپا ہو بھی گیا تو بھی اشرافیہ اور ان کے گماشتے محفوظ و مامون رہیں گے کیوں کہ انھوں نے اپنا بخوبی بندوبست کررکھا۔ یہ پہلی فلائٹ پکڑیں گے اور اپنے اپنے اصل دیسوں کو سدھار جائیں گے۔ ان سب نے دوسرے ملکوں میں اتنے اثاثے محفوظ کر رکھے ہیں کہ یہ وہاں اپنی باقی ماندہ زندگی سکون سے گزار لیں گے جیسے کسی وقتوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم ہندوستان کو لوٹ کھسوٹ کر واپس اپنے دیس گزارا کرتے تھے۔

پھر یہ انقلاب عوام پر ہی الٹا پڑے گا۔ جس کے پاس پچاس روپے ہوں گے وہ سو روپے والے کی گردن کاٹ رہا ہو گا اور جس کے پاس سو روپے ہوں گے، وہ دو سو روپے والے ”امیر ترین“ شخص کی گردن پر خنجر لیے سوار ہو گا۔ نہ کوئی ہمارے پاس جہاندیدہ وہ مخلص قیادت ہوگی جو لوگوں کو بچا سکے اور نہ ہی کوئی انقلابی قائد ہو گا جو اس انقلاب کو درست راہ پر ڈال سکے۔ ہر طرف مارا ماری ہوگی اور خون خرابہ ہو گا۔ کبھی عراق کی صورتحال برپا ہوگی تو کبھی شام جیسے حالات بن جایا کریں گے۔

اللہ ہمارے ملک کو ایسے انقلابات سے محفوظ رکھے۔ بحیثیت عوام ہمیں ہی اپنا قبلہ درست کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے محبوب لیڈروں کو پوجنے کی بجانے ان سے باز پرس کرنی چاہیے۔ ان کی گاڑیوں کے آگے دھمال ڈالنے کی بجائے ان سے اپنی یعنی عوام کی کسمپرسی کا حساب لینا چاہیے۔ بلاشبہ ہمیں کوئی غیرقانونی راستہ اختیار ہرگز نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر خلفائے راشدین خود کو احتساب کے لیے پیش کر سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتے؟ ہمیں اپنے حکمرانوں سے (جن کا تعلق ہمیشہ اشرافیہ سے ہوتا ہے ) ضرور پوچھنا چاہیے کہ اگر اس ملک کو اب بھی قربانیوں کی ضرورت ہے تو صرف عوام ہی کیوں قربانی دیتے رہیں، کیا خواص کی قربانی جائز نہیں؟

اگر اپنے تین چار بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہنے والا مزدور بجلی کا بل دینے پر مجبور ہے تو کروڑوں کی گاڑیوں میں پروٹوکول کے ساتھ گھومنے والا بجلی وغیرہ کے بلوں سے کیوں بری الذمہ ہے؟ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والوں کا پٹرول کیوں فری ہے؟ خواص کے اللوں تللوں پر قدغن کیوں نہیں لگائی جا سکتی؟ لاہور کے ایک مشہور ہسپتال میں ایک مریض سات دن تک وینٹی لیٹر کا انتظار کرتے کرتے بالآخر جان کی بازی ہار گیا۔ اگر کسی مہذب معاشرے میں ایسا ہوا ہوتا تو آسمان گر جاتا لیکن یہاں یہ معمول کا واقعہ ہے۔ بس خواص کا اقبال بلند اور کروفر برقرار رہے۔

Facebook Comments HS