کیلاشی کلچر کی لڑکیاں
برون گاؤں بہت نیچے نظر آتا تھا۔ جنگل بھی پیچھے رہ گیا تھا۔ یہاں مالوش (قربان گاہ) کس قدر خوفناک سناٹے میں سانس لیتا تھا۔ چوبی پھاٹک کھول کر میں اندر داخل ہوئی۔ خوف کی لہریں میرے رگ و پے میں دوڑنے لگیں۔ چوبی تختوں پر بے شمار اُلٹی سیدھی لکیریں اور شکلیں تھیں۔ قدرتی پتھروں کے سائے میں چار چوبی گھوڑوں کے سروں والے بت کھڑے تھے۔ ایک طرف آگ کی راکھ تھی اور انکے سروں کے نیچے تختوں پر خون کے چھینٹے تھے جو خوف زدہ کرتے تھے۔
نور شاہ قربان گاہ میں خاموش کھڑا تھا۔
کسی زمانے میں کالاش میں گھوڑوں کی حکمرانی تھی۔ اسی لیے گھوڑے کو دیوتا کا درجہ دیا گیا ہے۔ عبادت گاہیں بھی ان کے سروں سے ہی سجتی ہیں۔
برون سے پہل واندہ جانا اور بہرام شاہ سے ملنا دونوں کام حد درجہ سہولت، اور آناً فاناً ہو گئے تھے۔ بہرام شاہ کالاشی قوم کا سر کردہ رہنما سیلانی آدمی جس کا گھر ملنا خاصا مشکل اس وقت وادی بریر کے ایک نوجوان کے ساتھ موجود تھا۔ درمیانی عمر کا بہرام شاہ جس کی تانبے جیسی رنگت میں اس کے چکنے رخسار صحت کی لالی سے دمکتے تھے خلوص اور محبت سے ملا۔ گھر کے اندر بیٹھے جہاں اُن کی بیوی کیلاڑ پکاتی تھی(دودھ پنیر اور میدے کے آمیزے کی روٹی) ۔ بات چیت شروع ہوئی تو دونوں نے اس پر شدید رنج کا اظہار کیا کہ چترالی انہیں پرکاہ برابر بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اُنہیں کافر ملعون اور انتہائی ناپسندیدہ قوم گردانتے ہیں۔
میری ہنسی چھوٹ گئی۔
کبھی اُن سے بھی تو پوچھیں جو شاکی ہیں کہ پانچ چھ ہزار کی آبادی نے پورا چترال یرغمال بنایا ہوا ہے۔ مُلکی اور غیر مُلکی میڈیا نے صرف ان تین وادیوں کو فوکس کیا ہوا ہے۔ چترال کی اپنی پہچان اپنی شناخت پس منظر میں ہے۔ گلے شکوے چھوڑیں ملک کے جس حصے میں بھی چلے جائیں یہی رنڈی رونے ہیں۔
تواضع کے لیے جو کچھ سامنے آیا تھا اس میں کیلاڑ نے کچھ اتنی لذت نہ دی شاید دہن اسکے ذائقے سے نا آشنا تھا۔ تازہ خوبانیوں، خشک توت اور گرما گرم چائے کے کپ نے مزہ دیا۔ اور جب وہ دونوں چُٹکی بھر نسوار اپنے گالوں میں رکھتے تھے میں اُن سے سوال کرتی تھی۔
ڈنڈی نہیں چلے گی ٹھیک ٹھیک بتانا ہو گا۔ کتابی اور شخصی مطالعہ نے ایک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ چلم جوشی(مئی کے وسط) مرچ وکی نٹ (جون کا پہلا ہفتہ) پوڑ (ستمبر کا آخری ہفتہ) اور چاؤمس(20 دسمبر) کے تہواروں کے لیے آخر تاریک راتوں کا انتخاب ہی کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا چاندنی راتوں سے کالاشیوں کی کوئی ناراضگی ہے؟
دونوں ہنسے۔جواب شارہ خان نے دیا جو حقیقت پسندی اور صاف گوئی کا مظہر تھا۔
دو باتیں ہیں۔ پہلی کالاشی رومان پسند اور عیش پسند لوگ ہیں۔ لڑکی کو بھگا لے جانا دراصل شادی کا ایک طریق کار ہے۔ اس میں جدت اور رنگ آمیزی کرنا اس عمل کو مزید رومان پرور اور دلکش بنانے کے لیے ہے۔ رات کی تاریکی پہلی اہم ضرورت ہے۔ فرار کنواری اور بغیر بچے والی شادی شدہ عورت ہر دو کا ہوتا ہے۔ والدین اور شوہر کا صورت حال جان کر تعاقب بھی ضروری ہے۔ لڑکا مکمل رازداری برتتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ منصوبہ بندی۔ ٹارچوں کی فراہمی۔ جائے مقام کا تعین اور وقت طے کرتا ہے۔
بالعموم جب رقص اپنے جوبن پر ہو۔ جوڑا اپنے عزیز رشتہ داروں کو ڈاج دیتا ہوا فرار ہوتا ہے مختلف سمتوں میں متعین ساتھی روشنی دکھا کر حالات کے تسلی بخش یا صورت حال کے مخدوش ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگر روشنی صرف ایک بار ہو تو مطلب ہے اوکے۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اگر اشارے دو ہوں تو پھر گڑ بڑ والی بات ہے۔ اور تین اشاروں کا مطلب حالات کی سنگینی ہے۔ ایسے میں بالعموم وفادار ساتھی لڑکی کو کہیں چھپا کر دوست کو ادھر ادھر کر لیتے ہیں۔ شب کے آخری پہر لڑکی کو لڑکے کے گھر لے جایا جاتا ہے جہاں اگلے چند دنوں میں لڑکی کے والدین یا شوہر اُسے واپسی کی ترغیب دیتے ہیں مگر آخری فیصلہ صرف لڑکی کے پاس محفوظ ہے۔ دوسری وجہ لڑکیوں کا آزادانہ سگریٹ چرس اور مے نوشی کا استعمال ہے۔ شب کی تاریکی میں ہر کام کھُلم کھلا ہوتا ہے۔
تقریباً دس دنوں پر پھیلے چاؤموس کی تفصیلات لمبی چوڑی بھی تھیں اور دلچسپ بھی۔ لڑکے لڑکیوں کا آگ کے گرد رقص الاؤ کے شعلوں کی بلندی کا مقابلہ اور پھر جیتنے والوں کا ہارنے والوں کو لعن طعن ۔ گوبر کی راکھ گھروں چھتوں اور مویشی خانوں میں بکھیر کر بدروحوں کو بھگانا۔ گھروں اور جسموں کی صفائی۔ عبادت گھروں میں ڈھول کی دھیمی دھیمی تھاپ اور دھیمے دھیمے رقص کے ساتھ دیواروں پر برش اور سیاہی سے تصاویر بنانا۔ سرگوشیوں میں باتیں کرنا اگلی صبح شوروغل مچا کر عبادت گاہوں میں پینٹ کیے جانوروں کو بھگانا مُردوں کی روحوں کو کھانے کے لیے بُلانا اور اپنی اپنی دل پسند لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ رقص کرنا۔ گھر کے بڑے بیٹے کا مویشی خانے کی چھت پر بیٹھ کر ہر فرد کے لئے اخروٹ اور نمک کے آمیزے والی پانچ پانچ روٹیاں پکانا اور تقسیم کرنا۔
آگے چلو۔ کچھ اور بتاؤ۔ میں دلچسپی سے پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی۔


