رمیش سنگھ اروڑا اور مذہبی آزادی کی ڈگڈگی


آج صبح صبح تو کمال ہی ہو گیا۔ آنکھ کھُلتے ہی باہر جھانکا تو صحن میں رم جھم جاری تھی۔ درختوں کی سرسبز ٹہنیاں رات کی بارش سے دُھل چکی تھیں۔ ٹھنڈی پھوار کھڑکی رستے اندر داخل ہو کر گلی سے کچی مٹی کی خوشبو ہمراہ لا رہی تھی اور چائے کی پیالی سے اُٹھنے والی مہک موسم کا مزا دوبالا کر رہی تھی۔

ارے یہ کیا؟ یہ تو کمال ہی ہو گیا؟ یکا یک ہم چونک اُٹھے۔ ہم تو رات بھر بے خبر سوئے رہے اور اب جانا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کا معجزہ رونما ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر دوستوں کی پوسٹس سے معلوم ہوا کہ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ خبر پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

اخباری خبر کے مطابق گزشتہ روز صوبائی وزیر اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑہ نے شیخوپورہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اروڑا صاحب! آپ کے منہ میں گھی شکر۔

ہمیں نہیں معلوم اروڑہ صاحب کی نظر میں مذہبی آزادی کیا ہے؟ اُن کی نظر میں مذہبی اقلیتیں کون کون ہیں؟ یا اُن کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ ہمیں کچھ خبر نہیں۔ مگر مذہبی آزادی کی جو تعریف ہم نے پڑھ رکھی ہے پاک وطن کی صورتحال تو بہرحال اُس سے لگا نہیں کھاتی، بلکہ اُس کے پاس پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ زمینی حقائق اُس سے یکسر مختلف ہیں۔

مذہبی آزادی ہر طرح کی نفرت اور تعصب سے پرے بنیادی انسانی حقوق کا نام ہے۔ ریاست سب کی سانجھی ہوتی ہے اور مذہب سب کا ذاتی معاملہ۔ فیصلے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ آپ ہمسایہ ملک سے عبدالکلام آزاد کی مثال لے لیں یا محمد اظہر الدین کی، برطانیہ کے رشی سونک ہوں یا صادق خان، کسی کا مذہب جانچا یا تولہ نہیں گیا۔ آپ بتائیے کیا ہمارے پاس پیش کرنے کو ایسی کوئی مثال ہے؟ آپ خود ہی سنجیدگی سے ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتیوں کی صورتحال اور ایذا رسانیوں کا جائزہ لیں اور نتیجہ اخذ کریں، وہ کیا ہے کہ ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی۔

اروڑا صاحب جس قدر سیاسی بصیرت رکھتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ خطاب سے پہلے اُنہیں سرگودھا کے نذیر مسیح کا سنگساری کے دوران تڑپنا تو یاد آیا ہی ہو گا۔ جڑانوالہ کے گرجا گھروں کی زمین بوس ہوتی صلیبوں کی بے حرمتی کے مناظر تو نظروں سے ضرور گزرے ہوں گے۔ جڑانوالہ کی ماؤں بہنوں کی سسکیوں نے ایک بار تو کانوں میں رس گھولا ہی ہو گا۔ جوزف کالونی کے گھروں میں لگی آگ کی تپش اور دھواں تو اروڑا جی! میلوں تک پھیل گیا تھا۔ مذہبی آزادی کی بات کرنے سے پہلے شمع اور شہزاد کی روح نے بھی آپ سے کوئی سوال نہیں کیا؟ گوجرہ کی سُلگتی بستی کو بھی آپ جوشِ خطابت میں کیسے بھول گئے؟

حیرت ہے کہ سیاسی قیادت سے شاباشی وصول کرنے کے نشے میں کوئی اتنا ڈوب جائے گا کہ اُسے گھوٹکی اور رحیم یارخان میں مندروں کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کے دوران مندر میں بجنے والی گھنٹیوں کی آوازیں بھی سنائی نہ دیں۔ سیاست کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں حضور!

ان سب سے آپ بے شک ایک لحظہ کے لئے آنکھ چُرا لیتے مگر گزشتہ سال ہی صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں تاریخی سنگھ سبھا گوردوارہ کے احاطے میں گھس کر پجاریوں کو گالیاں دینے، مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کرنے اور مذہبی عقیدت کے گیت گانے والوں کی تضحیک کو آپ کیسے بھول گئے رمیش سنگھ اروڑا صاحب! کیسے بھول گئے آپ؟ شاید آپ کو یہ بھی یاد نہ ہو کہ پولیس نے تو اُس مقدمہ کو درج کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

مذہبی آزادی کا خواب پورا کرنے کے لئے ہم چند سوالات رکھے دیتے ہیں، فرصت میں ضرور غور کیجیئے گا۔

1) کیا پاک سرزمین میں مذہبی اقلیتوں کی بچیوں کے اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور شادی کے واقعات قصہِ پارینہ ہو گئے ہیں؟

2) کیا ہمارے نظامِ تعلیم میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22 الف پر عمل درآمد مکمل ہو چکا جو ہر شہری کو اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔

3) کیا ہمارے نصابِ تعلیم میں کسی سے ایک عقیدے کی ترویج اور دیگر عقائد کے خلاف پلنے والا نفرت انگیز مواد نکالا جا چکا ہے؟

4) کیا جیلوں میں قید تمام قیدیوں کو اُن کے عقائد کے عین مطابق سزاؤں میں رعایت دی جانے لگی ہے؟

5) کیا ملک کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز فرقہ، مسلک اور عقیدہ ایمانی تبلیغ و ترویج کے یکساں مواقع مہیا ہو چکے ہیں؟

6) کیا معاشرے میں مجموعی طور پر مذہب کی شناخت پر نفرت، تعصب اور ایذا رسانیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟

7) کیا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 18 کے مطابق زمینی حقائق تسلی بخش ہیں؟

یہ فقط چند بنیادی سوالات ہیں جن کی بنیاد پر مذہبی آزادی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ دہائیوں سے مذہبی اقلیتیں جس عذاب سے گزر رہی ہیں اور حقوق اور تحفظ کی آواز بلند کر رہی ہیں انہیں صرف ایک جوشیلی تقریر کی نذر تو نہیں کیا جا سکتا نا سردار جی! کیا خیال ہے جناب کا ؟

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ہر سال مختلف ممالک میں مذہبی آزادی یا عقیدے کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی معیارات کے تحت نگرانی کرتا اور رپورٹ جاری کرتا ہے۔

کمیشن کی 2024 کی سالانہ رپورٹ میں سال 2023 کے دوران پاکستان میں مذہبی آزادی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور اُن کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جون میں ایک تنظیم کی پشاور میں ایک سکھ شخص کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ مزید تین سکھ افراد کے قتل کیے جانے کی خبریں آئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین بھی پاکستان میں مسیحی اور ہندو لڑکیوں کی جبراً تبدیلی مذہب میں مبینہ اضافے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جولائی میں سندھ میں ایک مندر پراس خبر کے بعد حملہ کر دیا گیا تھا کہ ایک پاکستانی مسلمان خاتون نے ہندوستان میں ایک ہندو مرد سے شادی کر لی ہے۔

سیاسی میدان میں زندہ رہنے کے لئے مذہبی آزادی کی ڈُگڈُگی تو بجائی جا سکتی ہے، تصوراتی دنیا میں جیا بھی جا سکتا ہے، پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ بھی کی جا سکتی ہے مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ عین ممکن ہے کہ انجانے میں کوئی ”پورس کے ہاتھی“ کا کردار بھی نہ نبھا رہا ہو۔ اور ویسے بھی ہم نے تو یہ بھی سُن رکھا ہے کہ

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Facebook Comments HS