کہانیاں مرتی نہیں ہیں
کوئٹہ کی تنگ و پر پیچ گلیوں میں کسی ویران کمرے میں جہاں کوئی اکیلا ہو اور صرف کتابیں سانس لیتی ہوں تو کہانیاں پڑھنا بہترین مشغلہ ہے۔ ایسے میں اگر کہانیوں کی ایسی کتابیں میسر ہوں جن کے موضوعات ہمارے اپنے معاشرے سے ہوں تو پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے۔
میں اردو فکیشن بہت پڑھتا ہوں۔ انگریزی میں چونکہ مجھے وہ مزہ نہیں آتا اور بلوچی فکشن میں بہت کم کتابیں ایسی ہیں جو واقعی پڑھنے لائق ہوں۔ منٹو سے تو برسوں کی شناسائی ہے۔ اس کی ہر کہانی کی کردار آج بھی زندہ جاوید نظر آتے ہیں۔ ہر طرف گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ آج بھی ویسے ہی کسی تخلیق کار کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ جو کہانیاں ساٹھ ستّر سال پہلے لکھی گئی ہیں وہ آج بھی اسی اہمیت کے حامل ہیں۔
منٹو کے افسانوں کا مجموعہ ”چغد“ جب ملا تو ایک ہی دن میں پڑھ کہ رکھ دیا۔ اس کتاب میں اکثر کہانیاں فلمی دنیا سے متعلق ہیں کہ وہاں ایکٹرز سے لے کر ایکٹرس ڈائریکٹر، رائٹر اور منشیوں کی کیا حالت ہے۔ لڑکیوں کا کیا بنتا ہے اور مجبوری میں جب کام ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ سب کردار ان کہانیوں کے موضوع ہیں۔
مگر پوری کتاب میں دو کہانیاں ایسی ہیں جو مجھے واقعی پسند آئیں۔ ”جانکی“ اور "بابو گوپی ناتھ ”ان کہانیوں میں عجیب سی کیفیت ہے۔ منٹو واقعی بہت بڑے فنکار تھے۔ کہانیوں کو ایسے خوبصورتی سے سنوارتے تھے کہ قاری جب کہانی کے ساتھ چل رہا ہوتا ہے تو ہر موڑ پہ وہ اندازہ لگاتا ہے کہ آگے ایسا ہو گا مگر جو بعد میں ہو گا وہ قاری کی سوچ کے بالکل برعکس ہو گا۔ یہی مہارت منٹو کی پہچان ہے۔ پھر ان کہانیوں میں“ جانکی ”بالکل ایک الگ طرح کی کہانی ہے۔ منٹو کے بارے میں عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کے وکیل ہیں اور ان کے خیالات کا مرکز ہمیشہ عورتوں کے مسائل ہی رہے ہیں مگر اس کہانی میں وہ جانکی نامی عورت کو اس انداز میں پیش کرتا ہے جو ہمارے ہاں اکثر مردوں کی کہانی ہے۔ یعنی مردوں کے بارے میں یہی خیال ہے کہ انہیں کوئی بھی عورت مل جائے تو وہ اس کے ساتھ دل بہلانے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ جانکی منٹو کے کسی دوست کی سفارش لے کر آتی ہے کہ اسے فلم لائن میں کوئی کام دلوائے۔ جب وہ وہاں سے آتی ہے تو وہ عزیز کی داشتہ ہوتی ہے، اس کو ہر روز خط لکھتی اور اس کے انداز سے لگتا ہے کہ وہ عزیز کے بغیر کسی مرد کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ پھر کچھ ہی دنوں میں کسی اور مرد کے ساتھ اس کا رویّہ ویسا ہی رہتا ہے اس کے بعد پھر تیسرے کی باری آتی ہے۔ ویسے تو یہی خیال کیا جاتا ہے کہ عورتیں بہت وفادار ہوتی ہیں وہ پوری زندگی ایک مرد سے وفادار رہتی ہیں مگر منٹو نے یہاں اس خیال کو بالکل رد کیا ہے۔
مجموعی طور پر کتاب میں شامل ساری کہانیاں اچھی ہیں۔ چونکہ یہ کہانیاں ایک مخصوص مدت میں لکھی گئی ہیں اس لئے سب کے موضوع ملتے جلتے ہیں۔ بس آخر میں ایک لایعنی سی خواہش کہ کاش منٹو آج زندہ ہوتے اور وہ بلوچستان میں ہوتے تو یہاں اتنی ساری کہانیاں ان کہی نہ رہ جاتی۔


