عزم استحکام کا نعرہ اور عام آدمی کی سرد خاموشی


جب سے مملکتِ خداداد نے نمو پایا ہے، آہ و بکا کی سی کیفیت ہے، قیامت سا سماں ہے اور افراتفری ہے کہ ختم ہونے کو نہیں۔ ہر دوسرا دن کوئی ایسا سانحہ لیے نمودار ہوتا ہے کہ بیتے دن سہل معلوم ہوتے ہیں۔ اس قدر ہنگامہ برپا رہتا ہے کہ جیسے میدان جنگ میں کھڑے ہوں۔ قیام پاکستان کے وقت عام آدمی نے ہجرت کی مد میں اپنا مال مویشی، گھر بار، بال بچے، کھیت کھلیان اور گوشت پوست سب کچھ کوڑیوں کے بھاؤ لٹا دیا۔ اک انجان سے نعرے کے عوض اپنا دیس چھوڑ اس آفت زدہ زمین کو اپنی نسلوں کے لیے چنا۔

ہجرت کی خونی رات ختم ہوئی نہیں تھی کہ انجان دیس میں آفتوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ اس لائے گئے عام آدمی کو ایک ٹوٹے سپیکر میں اعلان کر کے بتایا گیا کہ چونکہ یہ دیس نیا نیا وجود میں آیا ہے تو علاج، تعلیم، صحت، معاش، تفریح، اور اس مثل دیگر ضروریات زندگی کے لیے کوئی وسائل موجود نہیں ہیں لہذا سارے عام آدمی اپنے اپنے اس مال کی قربانی دیں، جو کوئی تھوڑا بہت لوٹ سے بچ گیا تھا اور جسے وہ اپنا گزشتہ کنبہ و قبیلہ بیچ کر بچا لایا تھا۔

تھوڑا وقت اس قربانی میں گزرا، ایک نسل ہجرت کی نذر ہوئی، اگلی نسل تعمیر نو کے ہنگاموں کی نذر ہوئی اور تیسری نسل کو پھر سے اعلان کر کے بتایا گیا کہ یہ دیس جسے پچھلی دو نسلوں کے لہو سے سیراب کیا گیا ہے، ہندو، سکھ، یہود، عیسائیت، براہمن، کھشتری، افغان، آتش پرست اور دنیا و مافیہا کے ہر ذی روح کی سازش کا شکار ہے اور کفر اسے مٹا دینا چاہتا ہے اس لیے عام آدمی کو اس کی سالمیت اور بقا کے لئے قربان ہونا ہو گا۔

عام آدمی پھر سے استحکام اور تکبیر کے نعروں میں اپنی جمع پونجی قربان کرتا ہے اور زندگی یونہی کانٹوں کی سیج گزر جاتی ہے۔ عام آدمی کی اگلی نسل اڑتالیسء، پینسٹھ ء، اٹھاونء اور اکہتر کی خون ریزیوں کو خدا کی مرضی اور رب کی رضا سمجھ کر دین حق کی سر بلندی کے نعروں کے ساتھ جھیل جاتی ہے۔ مگر کیا کیجئے پیٹ سے بڑا کوئی خدا نہیں، پیٹ کی خالی آنتیں منہ کو آنے لگتی ہیں تو انسان خدا تو کیا خود کو کاٹ کھانے کو تیار رہتا ہے۔

عام آدمی کی اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے ایک اور نعرہ لگتا ہے روٹی کپڑا اور مکان، زندگی کے انتہائی پست معیار پہ براجمان اس لالچی عام آدمی کو دیکھیے کہ یہ اس نعرے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ اسی مقصد میں یہ اپنے ساتھیوں اور ہجرت کی خوں ریزیوں میں ہمراہ رہے جاں سے عزیز تر بھائیوں کو کاٹ کر علیحدہ کر دیتا ہے۔ یہ سرد دل عام آدمی ان کی تباہی کا نہ صرف چپ چاپ تماشا دیکھتا ہے بلکہ اس تباہی کو مکافات عمل کہہ کر حق کا نعرہ بلند کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔

خیر عام آدمی جس کی زندگی اب خوں ریزیوں کی ہی مرہون منت ہو چلی ہے اور جس کی نفسیات انتہائی پست اور سفاک بن چکی ہے اپنی ایک اور نسل کی قربانی دیتا ہے لیکن اس بار یہ قربانی دونوں ہاتھوں سے دی جاتی ہے۔ اعلان ہوتا ہے سوشلسٹ اور کمیونسٹ جو اسلام دشمن ہیں ریاست طیبہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کچھ نام نہاد مسلمان یعنی افغان ان کا ساتھ دے رہے ہیں لہذا عام آدمی کو کلمہ حق بلند کرتے ہوئے اپنے جان، مال، عزت و آبرو کے ساتھ میدان جنگ سجانا ہو گا۔ پورا کا پورا خیبر اس جنگ میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور اس لاشے پہ کھڑا عام آدمی نعرہ لگاتا ہے تیرا میرا رشتہ کیا!

عام آدمی اسی طرح جانوروں سے بدتر زندگی کو رب العزت کی منشا مان کر چلتا رہا اور پھر اس کے گلی کوچوں میں ہر روز حق حق کے نعروں میں انسان کٹتے رہے اور یہ دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا کہ دیکھو وہ نعرہ جو برسوں پہلے میرے مٹھی بھر آبا و اجداد نے لگا کر کئی سکھوں، ہندوؤں کو خون کی ندی میں بہایا تھا آج گلی گلی لگ رہا ہے اور میں جب جسے چاہوں کافر کہہ کر گلا کاٹ دوں یا زندہ جلا دوں، لطف کا لطف، اور خدائی خدمت گاری سونے پہ سہاگہ۔

یہ عام آدمی جس کی پرورش جنگ و جدل اور خونی پھواروں میں ہوئی ہے، ذہنی طور پر ماؤف، درندہ، بد ذات اور نفسیاتی اعتبار سے اپاہج حیوان بن چکا ہے۔ جس کے نزدیک یہ ریاست چاہے تو اس کے بدن سے کھال نوچ لے مگر اس کی تقدیس اور حرمت پہ آنچ نہیں آنی چاہیے اگر اس عام آدمی سے پوچھتے ہیں کہ یہ ریاست طیبہ، حق پرست یا خدائی اذن کیسے ہے جبکہ اس کا ہر کام خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے تو یہ جاہل عام آدمی کچھ نہیں کہتا سوائے اس کے کہ پاکستان کا مطلب کیا!

اس سے پوچھیے کہ یہ نعرہ کس نے لگایا، کس لیے لگایا، کیوں لگایا، اسے کچھ معلوم نہیں مگر ہر گزرتے دن زندہ انسان جلا جلا کر یہ عام آدمی کھوپڑیوں کے مینار بنائے چلے جا رہا ہے۔ یہ ریاست تو خونی ہے ہی، اس کی تو پیدائش ہی خون بہا کر ہوئی ہے مگر اس ریاست کا عام آدمی بھی کسی خونخوار درندے سے کم نہیں۔ روز اپنے جیسے عام آدمیوں کو بلک بلک کر اس ریاست کے ہاتھوں مرتے اور کٹتے دیکھتا ہے مگر استغفار، الحمد کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

یہ عام آدمی جاہل ہے اس قدر جاہل ہے کہ اس کے جاہل ہونے میں کوئی صنفی، طبقاتی، جغرافیائی، مذہبی، تعلیمی، تنظیمی، لسانی، یا صوبائی تقسیم کار فرما نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ریاست ہے جس نے اس جاہل، بدقماش عام آدمی کو درندہ بنایا ہے یا پھر بہت سارے درندوں نے مل کر اس ریاست کو بنایا ہے۔ اس عام آدمی کو جاہل اس لیے کہا کہ پہلی دفعہ شاید یہ کم علم تھا دوسری، تیسری چوتھی دفعہ کم علم کہنا ظلم ہے، حیوان اس لیے کہا کہ انسانی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ انسان جانوروں کی سی زندگی گزار رہا ہو یا گزارنے پہ مجبور ہو مگر ظلم کو ظلم کہنا تو درکنار اسے خدا کی منشا اور مکافات عمل کا درجہ دے۔

یہ تو حیوانیت، جہالت اور بد تہذیبی سے کوئی آگے کا ہی درجہ ہے۔ مار دھاڑ خوں ریزی دیکھنا اس عام آدمی کی تفریح بن چکا ہے، بلکتے، مرتے انسانوں کی چیخیں اس کی پسندیدہ موسیقی اور جلتے ہوئے انسان دیکھنا اس کا شوق بن چکا ہے۔ یہ عام آدمی اور اس کی موجودہ نسل اس ریاست کے کسی بھی جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی، یہ عام آدمی ہی تو ہے جو اس ریاست کو پوجتا ہے، مقدس سمجھتا ہے اور اپنے بال بچوں کا حق مار کر اس خونی ریاست کو دیتا ہے تاکہ وہ خون کی ہولی کھیلتی رہے اور اس عام آدمی کا منورنجن چلتا رہے

اپنی تین نسلیں اپنے ہاتھوں ذلت و رسوائی کی نذر کر چکنے کے بعد اب پھر اس عام آدمی سے کہا گیا ہے کہ ریاست طیبہ خون مانگتی ہے یعنی قربانی مانگ رہی ہے اور اس کے بقا، استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ پھر سے نعرہ تکبیر بلند کیا جائے اور خون کی ہولی کھیلی جائے۔ یہ جاہل عام آدمی جس کے منہ کو خون لگ چکا ہے خاموش تماشائی بن کر دل ہی دل میں با آواز بلند نعرہ لگا رہے ہے تیری جان میری جان، عزم استحکام، اور پاکستان سے رشتہ کیا!

Facebook Comments HS