جرمنی میں تصوراتی مساوات
دنیا، بشمول جرمنی، میں ہر وقت مساوات مساوات کے نعرے لگائے جاتے ہیں بھلے وہ مذہبی، سیاسی یا معاشرتی حلقوں کی طرف سے ہوں۔ لیکن در حقیقت مساوات کا فقدان ہر جگہ، ہر شعبے میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
دنیا کی موجودہ آبادی تقریباً آٹھ اعشاریہ دو ارب نفوس پر مشتمل ہے جس میں گزشتہ دو سو سالوں میں سات ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے سات سو ملین باشندے انتہائی غریب ہیں اور اگر غربت کی تعریف کثیر الجہتی طرز پر کی جائے تو یہ تعداد ایک اعشاریہ ایک ارب تک جا پہنچتی ہے۔ جرمنی کی ”غربت برابری“ نامی رپورٹ کے مطابق، جرمنی میں چودہ اعشاریہ دو ملین باشندے انتہائی غریب ہیں۔
میں گزشتہ کافی برسوں سے، برلن کے ایک انتہائی بارونق لیوپولڈ پلاٹس نامی چوراہے کے ایک کونے میں پڑی، ایک عمر رسیدہ بے گھر خاتون کو، لحافوں میں لپٹی ہوئی دیکھتا آ رہا ہوں۔
اسکے برعکس، بی۔ سی۔ جی نامی کاروباری مشاورتی کمپنی کے مطابق، جرمنی میں سپر رچ یعنی انتہائی مالدار لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سو ملین امریکن ڈالر سے زیادہ مالیاتی اثاثے رکھنے والوں کو سپر رچ کہا جاتا ہے۔ سن دو ہزار تئیس میں، جرمنی، یو ایس اے (چھبیس ہزار) ، چین (آٹھ ہزار تین سو) کے بعد ، تین ہزار تین سو لوگوں کے دس فیصد اضافے کے ساتھ، سپر رچ ممالک میں، تیسرے نمبر پر تھا، یعنی دو ہزار بائیس میں تین ہزار لوگ سپر رچ تھے۔
بی سی جی رپورٹ کے مطابق کل دنیا میں تہتر ہزار لوگ مالیاتی اثاثوں میں انتہائی مالدار ہیں۔ جرمن باشندوں کے کل مالیاتی اثاثے تقریباً دو اعشاریہ ایک بلین ڈالر (ایک اعشاریہ نو بلین یورو) ہیں جس کا تئیس فیصد ان تینتیس سو لوگوں کے پاس ہے۔ اگر ایک اعشاریہ نو بلین یورو کی رقم، جرمنی کی کل آبادی، یعنی چوراسی اعشاریہ سات ملین پر تقسیم کی جائے تو ہر جرمن فرد کے پاس تئیس ہزار یورو آ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار تئیس میں جرمنی میں ملینیئرز کی تعداد سن دو ہزار بائیس کے مقابلے میں تیس ہزار کے اضافے کے ساتھ، پانچ لاکھ پچپن ہزار ہو چکی ہے۔ اور ان میں اگلے پانچ برس میں مزید بڑھوتری ہوگی۔
سپر رچ کی تعریف کے حوالے سے بی۔ سی۔ جی کمپنی، بانڈز، شیئرز، انویسٹمنٹ فنڈز اور پینشن وغیرہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سپر رچ کہتی ہے جبکہ ٹھوس جائیدادوں، جن میں، قیمتی دھاتیں، ریل اسٹیٹ وغیرہ شامل ہوں، کے اثاثوں والوں کو، ان میں شمار نہیں کرتی۔
اس رپورٹ کے قلمکار مزید لکھتے ہیں کہ ”انفرادی طور پر ابتدائی دولت جتنی زیادہ ہوگی، اس میں منافع بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ جتنے زیادہ مالیاتی اثاثے حال میں ہوں گے اتنی ہی زیادہ اثاثوں میں بڑھوتری دیکھنے میں آتی ہے۔ انتہائی دولتمند لوگ فنانس مارکیٹوں میں زیادہ سرمایہ لگا سکتے ہیں جبکہ کم مالدار روایتی طور پر بچت کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں اور رسکی سرمایہ کاری سے اجتناب برتتے ہوئے کم منافع پر ہی اکتفا کرتے ہیں“ ۔
سوئس یو۔ بی۔ ایس نامی بنک کی اثاثہ رپورٹ کے مطابق جرمنی کی آبادی کے فی کس اوسطاً مالیاتی اور ٹھوس اثاثے تقریباً دو لاکھ پینسٹھ ہزار ڈالر (تقریباً دو لاکھ پینتالیس ہزار یورو) ہیں۔ جرمنی اس کیٹیگری میں دنیا میں سترویں نمبر پر ہے۔ جبکہ سوئٹزرلینڈ سات لاکھ۔ دس ہزار ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ تمام دنیا کے اثاثہ جات میں چار اعشاریہ دو فیصد بڑھوتری ہوئی ہے۔


