شاعر ،شاعری اور خواب در خواب
’خواب در خواب‘ ڈاکٹر خالد سہیل کے چار شعری اشاعت شدہ کتابوں کی کلیات ہے۔ کلیات ہمیشہ ضخیم ہوتی ہیں۔ یہ برس ہا برس کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔
تلاش پہلا مجموعہ
آزاد فضائیں دوسرا
خواب نگر تیسرا
اور ادھورے خواب چوتھے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بالترتیب انیس سو چھیاسی، انیس سو نوے، اور دو مجموعہ کلام سن دو ہزار اٹھارہ میں پبلش ہوئے۔
سب سے پہلے میرے خواب آسا ذہن کو خواب در خواب کھٹکا
خواب در خواب کیا ہے؟
خواب میں لپٹا ہوا خواب یا خوابوں کا ایک سلسلہ
خواب ڈاکٹر خالد سہیل کی اصطلاح میں شعور اور لاشعور کے سنگم پر بننے والی آرزو کا نام ہے۔ جسے باقاعدہ منصوبے کے ساتھ تعبیر تک لے جایا جا سکے۔ یہ انفرادیت سے اجتماعیت تک کا سفر طے کرتا خواب در خواب کا استعارہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ قطرہ بھی ہے سمندر بھی۔ یہ زمینی خواب خاک سے افلاک تک کا سفر طے کیے ہوئے ہیں۔ اس کے تہہ زمین کیا ہے اور سرِ آسمان کیا ہے۔ تلاش کرنے سے سچ مل جاتا ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے چالیس برسوں میں چالیس اردو اور چالیس انگریزی میں کتب لکھی اور پبلش ہوئیں۔ میرے مطابق اگر ڈاکٹر صاحب کی ساری کتب ایک پلڑے میں اور ایک جملہ ایک طرف رکھا جائے تو وہ پلڑا بھاری ہو گا
اس فقرے میں اصولِ قبولیت مضمر ہے۔
”دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں“ اس میں احترامِ آدمیت بھی ہے اور دوسرے کے سچ کو تسلیم کرنے کی خو ہے اور ظرف بڑھانے کی طرف اشارہ بھی ہے ترغیب بھی۔ آج کے دور کے انسان کو اس روئیے کی بے حد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل تلاش کے آدمی ہیں۔ ایک مسلسل کھوج کے مسافر، یہ کیسے ممکن ہے کوئی دل و جان سے کچھ تلاش کرے اور یافت تک نہ پہنچے۔ ان کا فکری اور تخلیقی سفر ہر آن بڑھ رہا ہے۔ جاری ہے۔
ایک وقت تھا جب انہوں نے خود کو کھوجا اور کہا
اپنی ذات سے غافل ہوں
آنکھیں ہیں اور اندھا ہوں
ہر وہ شخص جو بنے بنائے راستوں پر کولہو کے بیل کی طرح چلتا رہتا ہے۔ شاید وہ اندھا ہی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل چونکہ تلاش میں تھے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات میں بارہا خود کو سچ کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر ہونے پر اصرار کیا ہے۔ وہ زندگی کے، نفسیات کے، ادبِ عالیہ کے ذریعے بہت سے بھید اور اسرار پا چکے ہیں اور مختلف کتابوں کی شکل میں انسانیت کے نام محبت نامے لکھتے ہوئے کئی ایک اہم راز طشت از بام کر چکے ہیں۔
ان کی شاعری ان کی ذات کا برملا تخلیقی اظہار ہے۔ انہوں نے اپنے تمام احساسات کو خیالات کو اور نظریات کو کہیں مصرعے کہیں، نظم اور کہیں غزل میں پرو دیا ہے۔
کسی بھی شاعر کی شاعری کا اندازہ لگانے کے لیے یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کا تصورِ حیات، تصورِ عشق اور تصورِ آدمیت کیا ہے۔
چونکہ ڈاکٹر خالد سہیل روایت سے بغاوت بغاوت سے دانائی کے تمام مراحل سے گزرے ہیں۔ بغاوت کا مطلب ہے وقت کی عظمت کو چیلنج کرنا۔ اس میں اپنے خیال خواب فکر و عمل کی قیمت چکانی پڑتی ہے، جو طے شدہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے نوعمری میں ہی ہجرت کی جب انہیں شدید حبس محسوس ہوئی۔ ہجرت سے پہلے کرب سہنا پڑتا ہے جتنا کسی پودے کو جڑ سے اکھیڑ کے کسی دوسری جگہ پر لگانے میں مشقت سہنی ہوتی ہے اتنا ہی درد ہر ہجرت کرنے والے کے مقدر میں ہوتا ہے۔
اظہار میں قطعہ حاضر ہے۔
یہ کیسا حبس ہے ہم سانس لیتے ڈرتے ہیں
ہم اپنی ذات میں گھٹ گھٹ کے روز مرتے ہیں
ہمارے پاس رہو گے تو ہو گا اندازہ
ہر ایک شام کو ہم صبح کیسے کرتے ہیں
تاہم ایک ایسا وقت آتا ہے جب کہتے ہیں
زمیں ساری ہے اپنی، فضائیں اپنی ہیں
جسے بھی سمجھیں ہم اپنا، وہی ہے گھر اپنا
دو تہذیبوں کو قریب سے دیکھنے والے خالد سہیل نے ایسے ترجمانی کی
یخ زدہ شہر میں کیا کیا نہ دعائیں مانگیں
سرد سورج سے حرارت کی قبائیں مانگیں
اپنی کتاب کے اس حصے میں جہاں ایک باب آزاد فضائیں شروع ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں
اپنی پرواز کا اندازہ لگانے کے لیے
اپنے ماحول سے آزاد فضائیں مانگیں
وہ اس پسِ منظر کو بیان کرتے ہوئے ایک پرندے کا ذکر کرتے ہیں جس کے آشیانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں
”اس کا آشیانہ فرسودہ روایات کے تنکوں اور بوسیدہ اقدار کی گھاس پھونس کا مرہونِ منت ایک قفس تھا جسے آشیانے کا نام دے دیا گیا تھا۔ جس پر خاندان کے آسیب سایہ فگن رہتے۔ وہ اسے زنداں سے تعبیر کرتے ہیں۔
جہاں نہ کلیوں کو کھلنے کی نہ باد صبا کو گزرنے کی نہ چاند کو نکلنے کی اور موسم بہار کو داخل ہونے کی اجازت تھی۔ ”
فرماتے ہیں جراٰتِ رندانہ میں
مدتوں میں نے کنارے سے سمندر دیکھا
مدتوں دور سے طوفان کا منظر دیکھا
مدتوں لہروں کی طغیانی سے کتراتا رہا
مدتوں پانی کو چھونے سے بھی شرماتا رہا
مدتوں میں بھی پکارا کیا ساحل ساحل
مدتوں جراٰتِ رندانہ نہیں تھی حاصل
شدتِ شوق سے دل کا مرے یہ عالم تھا
میں اٹھا اور سمندر میں خود ہی کود گیا
اس کے پیچھے ان کے من میں کیا تھا۔
گمان ہے کہ یہ ہو سکتا ہے
کب تک رات کو دن لکھیں گے
کب تک جھوٹ کو سچ لکھیں گے
کب تک جنگ کے منظر ہر کو
دیکھ کے ہم آنکھیں موندیں گے
کب تک ظلم کے قصے سن کر
کانوں کو ہم بند رکھیں گے
کب تک روح میں محشر پا کر
خاموشی سے لب سی لیں گے
خالد دل سے کب پوچھیں گے
کب تک خود کو دھوکے دیں گے
ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنی زندگی میں فیصلہ لیتے ہیں کہ انہیں اپنے سچ کی خاطر گھر اور وطن کو خیر باد کہنا پڑے گا۔
وہ ہجرت کی صعوبتوں کو صبر کے ساتھ سہ کر فرماتے ہیں
پڑاؤ جس جگہ ڈالا وہی ہے گھر اپنا
جہاں بھی قافلہ ٹھہرا وہی ہے گھر اپنا
نئے مقام پہ محبوب بھی نئے پائے
جزائیں ملتی رہی ہیں ہمیں یہ ہجرت کی
خیال رہے ہجرت کی سزا کا ذکر تو سنا تھا مگر جزا کا خیال پہلی بار کسی شاعر نے دیا ہے۔
وہ قربتوں کے لمحات میں جب اپنے بدن کی بولی سے آشنا ہوتے ہیں تو چھپاتے نہیں جرآت اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
ہونٹ خاموش تھے مگر پھر بھی
سن ہی لی جسم کی فغاں میں نے
جانے کیوں مجھ پہ لرزہ طاری تھا
جب سنی جسم کی زباں میں نے
پھر کہتے ہیں
قدم قدم پہ گناہ و ثواب میں الجھیں
حدیث یہ ہے ہمارے دلوں کی عادت کی
سہیل جان بھی اب اس کی نذر کر دیں گے
ہمارے جسم سے جس نے بھی اب محبت کی
انہوں نے ان موضوعات پر لکھا ہے جو شجرِ ممنوعہ سمجھی گئی۔
ایک فرد کی حیثیت سے ان کا اپنی محبوبہ سے رشتہ کس طرح دوستی پر مبنی ہے۔
لکھتے ہیں
کیا خیال ہے؟
وصل کی لذتوں کا مزا چھوڑ کر
آؤ کچھ دیر کو آج باتیں کریں
غزل کے پیمانے کو سماجی شعور سے لبریز کیا۔
یہ کس نے زہر گھولا پانیوں میں
کسے ان مچھلیوں سے دشمنی ہے
بھری تیزاب کی یہ کس نے بوتل
سنہرے بادلوں پہ پھینک دی ہے
ہر اک موسم ہوا ہے بے ثمر کیوں
درختوں کی جوانی پوچھتی ہے
خود شناسی کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں
میں جنگلوں سے گزرتا ہوں راستہ بن کر
میں شہرِ درد میں آیا ہوں اک دوا بن کر
اگر ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ نفسیاتی طبیب بن کر کس طرح برسوں کی ریاضت سے انسانیت کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کے پل صراط سے گزر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ
شہروں میں بارود کے بادل
دھیرے دھیرے چھانے لگے ہیں
دنیا بھر نے اپنے بیٹے
مقتل میں اب بھیج دیے ہیں
ہونے والی بیواؤں نے
اپنے چہرے نوچ لیے ہیں
دھرتی پر امن کا خواب دیکھنے والے خالد سہیل جنگ کی ہولناکیوں پر افسردہ ہو جاتے ہیں۔
امن و سکون کی دیوی نے اب
اپنے کپڑے پھاڑ دیے ہیں
پاگل پن کی شہ راہوں پر
انساں ننگے ناچ رہے ہیں
ڈاکٹر خالد سہیل کی آزاد نظمیں قاری کو موہ لیتی ہیں
ڈاکٹر خالد سہیل نے حقوقِ نسواں پر بھی بہت کچھ لکھا ہے۔
حاملہ، سرخ دائرہ، تسلی اور اس طرح کی بے شمار نظمیں ہیں۔ وہ بزبانِ عورت وہ سب کہہ دیتے ہیں جو خواتین پر بیت جاتا ہے۔
مغربی معاشرے کو جانچتے ہوئے ایک خفیف سا طنز کیا ہے
معززین میں شامل یہاں کے کتے ہیں
یہ کس دیار میں خالد سہیل رہتا ہے
چونکہ خالد سہیل کا مشاہدہ فرد اور سماج دونوں کی طرف گہرا ہے۔ وہ جب سماج کے بنیادی ادارے خاندان میں دراڑیں پڑتے دیکھتے ہیں
فرماتے ہیں
بکھرتے جا رہے ہیں ہر طرف تسبیح کے دانے
تقدس خاندان کا اپنے ہاتھوں ٹوٹتا پایا
اس شعر کو خالد سہیل کے سوا اور کوئی نہیں کہہ سکتا
ہر گھر میں بڑھی جاتی ہے رسوائی کی خواہش
مدت سے کسی صحن میں پتھر نہیں اترا
نہیں معلوم یہ طنز ہے یا دوہرے معیار عزت رکھنے والے سماج میں رہنے والی کسی ایسی لڑکی کی طرف اشارہ ہے جس کی آرزووں پر پہرے بٹھائے گئے۔
ڈاکٹر خالد سہیل کا تصورِ حیات بھی سندر ہے کہتے ہیں
”خالد زیست کے معنی ہیں اک سندر سی محبوبہ“
اس سے پہلے اردو غزل میں یا اردو کی شاعری میں زیست کو طوفانِ بلا یا قید حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں اور اسی طرح کے تصورات سے جوڑا گیا ہے۔ یہ ندرتِ خیال ان ہی کے ہاں پائی جاتی ہے۔ وقت کو بحرِ بیکراں کا استعارہ دینے والے خالد سہیل ہجر سے زیادہ وصل کا ذکر کرتے ہیں۔
ان کا شعر ہے
ہجر کے برسوں پر بھاری
وصل کا میں اک لمحہ ہوں
رشید احمد صدیقی گو ایک ادبی ناقد نہیں تھے مگر ایک مضمون میں انہوں نے ایک دلچسپ بات کہی تھی۔
” میں شاعر کی اہمیت کا اندازہ اس سے کرتا ہوں کہ اس کا خدا، انسان اور عورت کا تصور کیا ہے۔ “
ڈاکٹر خالد سہیل کی شاعری اور ادب انسان کو خمارِ رسوم و قیود سے آزاد کرتا ہے۔ ماضی پرستی سے روکتا ہے۔ ان کی انانیت میں انفرادیت کی بہاریں ہیں۔ کیف و انبساط کا جہان ہے اور دیدہ وری ہے۔
نئی زمین نیا آسماں تلاش کریں
چلو غزل کی نئی اک زباں تلاش کریں
جس کا ثبوت ہے کہ انہوں نے غزل میں ایسے
موضوعات چنے جو عام طور پر دوسرے شعرائے کرام۔ کے ہاں نہیں برتے گئے۔
وہی شراب پرانی نئے پیالوں میں
وہی خیال پرانے نئے حوالوں میں
کوئی یہ ماؤں سے کہہ دے خیال رکھیں ذرا
بہت سے عاقل و دانا ہیں نونہالوں میں
ڈاکٹر خالد سہیل کی شاعری دھرتی کی شاعری ہے۔
جس میں مشرقِ وسطیٰ، یروشلم، اسرائیل، سعودی عرب، پاکستان، کیوبا اور دیگر ممالک اور شہر شامل ہیں۔ بدو نظم میں قلم سرا ہیں
ہم آج بھی خیموں میں رہتے ہیں
کھلے آسماں تلے سوتے ہیں
تازہ ہوا میں سانس لیتے ہیں
کھجوریں کھاتے اور بکریوں کا دودھ پیتے ہیں
ہم اپنے بچوں کو بانسری بجانا
اور امن کے گیت گانا سکھاتے ہیں
ڈاکٹر صاحب کہیں خالد تخلص فرماتے ہیں اور کہیں سہیل۔
سہیل تیرے عشق کے سمندروں میں آج تک
اتر چکی ہیں جس قدر وہ کاغذی تھیں کشتیاں
اور
اسے ملا ہوں تو احساس یہ ہوا خالد
مرا سفینہ کنارے پہ آ لگا خالد
نوجوانوں سے مخاطب ہیں
ہم نے کچھ اتنی پائیں تمنا کی منزلیں
دیتے رہیں گے بچوں کو ہجرت کا مشورہ
آخر میں ایک خوبصورت غزل کے دو اشعار پیش ہیں۔
یہ جو ٹھہرا ہوا سا پانی ہے
اس کی تہہ میں عجب روانی ہے
ایک چاہت جو عارضی سی لگے
اس کی تاثیر جاودانی ہے
نظم جوئے شیر
سے آخری اشعار
اک عجب کرامت ہے
اپنے آپ پر کھلنا
جوئے شیر لانا ہے
خود پہ منکشف ہونا
سچ کا مسافر، درویشوں کا درویش، خضر، ایک نظمیہ نامکمل خط لکھتا ہے
دل مرا ایک کورا کاغذ ہے
جس پہ اب ایک نامکمل خط
کتنی چاہت سے تم نے لکھا ہے
زندگی کی جو شام آئی ہے
اور میں سوچتا یہ رہتا ہوں
اس سے پہلے کہ خط مکمل ہو
میں یہاں سے چلا ہی جاؤں گا
ان کی شاعری میں شام نوجوانی سے آگے بڑھاپے کا استعارہ ہے۔ زندگی کو صراحی کہتے ہیں، وقت کو بحر بیکراں سے تشبیہ دیتے ہیں اور ملاقات کو جزیرے سے
وقت اک بحرِ بیکراں خالد
ہر ملاقات اک جزیرہ ہے
ڈاکٹر خالد سہیل کی شاعری اور سخن وری پر لکھتے ہوئے احمد فراز کی غزل کا یہ شعر یاد آیا
لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی
ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں
ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے سارے آدرش خواب میں لپیٹ لیے ہیں۔
میں نے اپنی تنہائی میں
جب سے خال قطرہ قطرہ
صبر کے آنسو
شکر کی شبنم
دھیرے دھیرے
گھول لیے ہیں
اس دن سے میں لمحہ لمحہ
حیرانی سے دیکھ رہا ہوں
زیست کی اپنی شریانوں میں
زہر بھی امرت بن جاتا ہے
ڈاکٹر خالد سہیل کے پاس ہر سوال کا ایک جواب ہے۔ ان کی شاعری خواب در خواب ہے اور جواب در جواب تعبیر بھی ہے۔ وہ زندگی کی پہیلی کو حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی یقین نے ان پر تخلیقی بارشیں برسائی ہیں۔ ان کے ہاں غم کے بادل تو ہیں پر مایوسی کے نہیں۔ یہ امید کی روشنی ہے جو پڑھنے والوں کو ہمت اور لگن عطا کرتی ہیں۔
سانجھ کے سلیم منہاس صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے جمالیات کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے خوبصورت ٹائٹل کور کے ساتھ معیاری اشاعت کی روایت نبھائی۔


