ملاقات: صلیبیں اپنی اپنی (13)


”محبت صابر ہے، محبت مہربان ہے ؛ محبت حسد نہیں کرتی، محبت شیخی نہیں مارتی، گھمنڈ نہیں کرتی۔ یہ بے حیائی نہیں کرتی، اپنا فائدہ نہیں ڈھونڈتی، غصہ نہیں کرتی، برائی کا حساب نہیں رکھتی؛ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی سے خوش ہوتی ہے۔ سب کچھ برداشت کرتی ہے، سب کچھ یقین کرتی ہے، سب کچھ امید کرتی ہے، سب کچھ سہتی ہے۔“ 1 کرنتھیوں 4 : 7۔ 13

راستے بھر میں دانی ایل کو سمجھاتا آیا تھا کہ لڑکیاں کس قسم کے لڑکوں کو پسند کرتی ہیں۔ وہ میری ہدایات کو کسی فرماں بردار شاگرد کی طرح سنتا رہا۔

”منہ ہی منہ میں بات نہیں کرنا، ذرا زور سے بولنا، مگر بہت زور سے نہیں۔“
”لڑکوں کو چھینکتے اور کھانستے دیکھ کر لڑکیوں کو گِھن آتی ہے۔“
” جیب میں رومال تو ہے نا؟“
” پہلی ملاقات میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر وہ بے تکلف ہو تو خود بھی ہونا ورنہ نہیں۔“
” ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رکھنا مگر زیادہ نہیں۔“
”زیادہ امپریشن بنانے کی کوشش مت کرنا۔ امپریشن بنانے کے چکر میں لوگ بالکل چغد ہو جاتے ہیں۔“

غرض انکل شاہد کے گھر پہنچتے پہنچتے میں نے دانی ایل کو عشق کرنے اور لڑکیوں کو رام کرنے کے سارے گُر سمجھا دیے۔ دروازے پر پہنچ کر میں نے حسب معمول زنجیر بجائی تو انکل شاہد نے خود دروازے میں لٹکی ہوئی چادر ہٹائی۔

” آئیے سر، آپ کا ہی انتظار ہو رہا تھا۔“
”انکل، آپ دانی ایل سے تو مل چکے ہیں نا؟“ میں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”کیوں نہیں، ہم تو دانی ایل کے بے حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے آپ سے ہماری ملاقات کرائی،“ انکل شاہد نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا۔

صحن میں چھڑکاؤ کر کے آٹھ دس کرسیاں بچھائی ہوئی تھیں۔ عموماً دو یا تین کرسیاں ہوتی تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ اتوار تھا اور اس دن انکل شاہد کی پوری فیملی صبح کو چرچ جاتی تھی اور شام کو ان کے دوستوں اور رشتے داروں کا جمگھٹا لگ جاتا تھا۔ میں نے سوچا کہ دانی ایل کو مریم سے ملانے کے لیے غلط دن چنا۔ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ کوئی اور نہ ٹپک پڑے۔ مگر مریم تھی کہاں؟

”بچے نظر نہیں آرہے،“ میں نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔

”اتوار کو بچے ہمیں بھی نظر نہیں آتے۔ اتوار ان کے دوستوں کا دن ہوتا ہے،“ انکل شاہد نے ہنستے ہوئے کہا۔

”اور آنٹی؟“
”وہ ذرا سو گئی ہیں۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔“
”خیریت؟“
”بس رات بھر انہیں بخار رہا اور کھانستی رہیں۔“
”وہ محنت بھی تو اتنی کرتی ہیں۔ انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ “
”بس سر، زندگی اسی کا نام ہے۔“
”معلوم ہوتا ہے کہ مریم بھی کہیں گئی ہوئی ہیں؟“
اس سے پہلے کہ انکل شاہد جواب دیتے، مریم کمرے سے نکل آئی۔ میں اور دانی ایل کھڑے ہو گئے۔
”میں سوچ ہی رہی تھی کہ آپ نے اتوار کو آنے کے لیے کہا تھا مگر آئے نہیں۔“
” دانی ایل سے ملیں۔ یہ میرے بچپن کے دوست ہیں۔“
” میں دانی ایل کو جانتی ہوں اور ان کی موسیقی بھی سن چکی ہوں۔ یہ حمدیہ گیتوں میں جان ڈال دیتے ہیں۔“
”آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی،“ دانی ایل نے سرجھکا کر ہکلاتے ہوئے منہ ہی منہ میں کہا۔

مجھے سخت غصہ آیا۔ راستے بھر اسے سمجھاتا آیا تھا کہ لڑکیوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔ مریم نے اس کی موسیقی کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا تو بجائے اس کا شکریہ ادا کرنے کے، ایک جملہ منہ سے نکالا اور وہ بھی ہکلا ہکلا کر۔

” آپ نے باقاعدہ میوزک سیکھا تھا؟“ مریم نے پوچھا۔

دانی ایل جواب دینے کے بجائے خالی خالی نظروں سے مریم کو گھورتا رہا اور میرے غصے کا پارہ چڑھتا رہا۔ کوئی ایسا مشکل سوال تو تھا نہیں جس کا جواب دینے کے لیے اتنا سوچنا پڑتا۔ اگر وہ چاہتا تو مریم کو موسیقی پر پورا لیکچر دے سکتا تھا۔

” میرا مطلب تھا کہ میوزک میں آپ کا کوئی استاد تھا یا خود ہی سیکھ گئے؟“ مریم نے دوبارہ پوچھا۔
”خود ہی ہارمونیم بجا بجا کر سیکھ گیا۔“ دانی ایل نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔

” دانی ایل، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، آپ نے بتایا تھا کہ آپ انجینئر ہیں،“ انکل شاہد نے غالباً دانی ایل کی جھجک کو بھانپ لیا تھا۔

” جی۔“

” جی کیا؟ آگے بھی تو کچھ بول،“ میں نے دل ہی دل میں دانی ایل کو ڈانٹا مگر وہ خاموش بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا تا رہا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے سمجھاؤں کہ محفل میں انگلیاں چٹخانا بد تہذیبی سمجھی جاتی ہے۔

”انکل، دانی ایل سول انجینئر ہے۔ راولپنڈی میں اس کی کمپنی کو ایک بہت بڑا پروجیکٹ ملا ہے اور یہ وہاں سے پچھلے ہفتے ہی لوٹا ہے۔“ میرا مقصد تھا کہ میں اسے گفتگو کا کوئی موضوع دے دوں جس پر وہ بلا جھجک گفتگو کر سکے۔

” اچھا، تو پنڈی میں آپ کا کیا پروجیکٹ ہے،“ انکل شاہد نے پوچھا۔

”انکل، پنڈی میں ہم سیٹیلائٹ ٹاؤن بنا رہے ہیں۔ یہ پاکستان میں اپنی قسم کا پہلا اور بے مثال رہائشی علاقہ ہو گا جس میں اسکول، اسپتال، بازار اور ضرورت کی ساری سہولیات موجود ہوں گی۔“

معلوم ہوتا تھا کہ اچانک دانی ایل کی بیٹری چارج ہو گئی ہے۔ اسے ایسا موضوع مل گیا تھا جس پر وہ بے تُکان بول سکتا تھا۔ اس نے انکل شاہد کو شہر کی تعمیر و توسیع کی منصوبہ بندی پر پورا لیکچر دینا شروع کر دیا۔

” نجم السحر کا کیا حال ہے؟“ مریم نے مسکرا کر مجھ سے پوچھا۔
” میں آپ کے مشورے کے مطابق اس کا نام تبدیل کر رہا ہوں۔“
” کیا نام رکھ رہے ہیں؟“
” کئی نام ذہن میں ہیں، ابھی فیصلہ نہیں کیا۔“
”پھر بھی، جو نام سوچ لیے ہیں وہ تو بتائیں۔“
” جانِ بہاراں، رشکِ چمن، غنچہ دہن، سیمیں بدن“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” اے جانِ من!“ مریم نے قہقہہ لگایا۔
” اس گیت کا پاکستانی فلم انڈسٹری میں ثانی نہیں ہے،“ میں نے کہا۔
” بالکل، بلکہ مجھے تو ہندوستانی گانوں میں بھی اب تک ایسا گیت نہیں ملا۔“

”دانی ایل یہ گیت آرگن پر اتنی خوب صورتی سے بجاتا ہے جیسے ہال میں پورا آرکیسٹرا ہو،“ میں نے ذرا زور سے کہا تاکہ دانی ایل کی توجہ اس طرف ہو جائے۔ وہ اس وقت انکل شاہد کو اپنے پروجیکٹ کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اس نے مڑ کر میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

”دانی ایل، اس بار جب مریم تمہارے چرچ آئے تو ریورنڈ پال کی سروس کے بعد اسے نئے پیانو پر اے جانِ بہاراں سنانا،“ میں نے کہا۔

” ضرور، اگلے اتوار کو آپ ہمارے چرچ آئیے گا،“ دانی ایل نے کہا۔

”دراصل دانی ایل میں موسیقی کی خداداد صلاحیت ہے۔ کوئی دُھن ایک بار سن لے تو مجال ہے کہ اسے بجانے میں ایک نوٹ کی بھی غلطی ہو جائے،“ میں نے دانی ایل کو سہارا دینے کی کوشش کی، ”دانی ایل کو مغربی کلاسیکی موسیقی کا بھی شوق ہے۔ آپ اس سے بیتھوون سن لیں، موزارٹ سن لیں، شو برٹ سن لیں۔“

”اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ خدا کا انعام ہے کہ میں آواز کی باریکی کو موسیقی کے سُر کے طور پر سنتا ہوں، یہاں تک کہ مجھے لوگوں کی آوازیں بھی سا رے گا ما بن کر سنائی دیتی ہیں،“ دانی ایل نے کہا، ”میں جب آوازیں سنتا ہوں تو تصور میں میری انگلیاں کی بورڈ پر ہوتی ہیں اور ہر دھن ایک بار سننے کے بعد میرے ذہن میں نقش ہوجاتی ہے۔“

” آپ کو میوزک پڑھنا آتا ہے؟“ مریم نے پوچھا۔
”نہیں، میں ایک نوٹ بھی نہیں پڑھ سکتا،“ دانی ایل نے جواب دیا۔
” میں اگلے اتوار کو ضرور آپ کے چرچ آؤں گی، مجھے بھی فادر پال سے ملنا ہے۔“
” فادر پال ہم دونوں کے مرشد ہیں،“ دانی ایل نے اپنی اور میری طرف اشارہ کر کے کہا۔
”اُن جیسا شفیق انسان میری نظر سے نہیں گزرا،“ مریم نے جواب دیا۔

مجھے حیرت تھی کہ دانی ایل بلا جھجک مریم سے گفتگو کر رہا تھا ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ وہ بالکل ٹُھس ہو جائے گا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو ہم دو گھنٹے بیٹھ لیے تھے اور دھوپ دیواروں سے اوپر پہنچ چکی تھی۔

” انکل، اب اجازت دیجیے، باتوں میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا،“ میں نے کہا۔
”لیں، باتوں میں یاد ہی نہیں رہا کہ آپ لوگوں کو چائے بھی نہیں پلائی،“ مریم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ارے چائے کا تکلف چھوڑیں۔ ابھی ہمیں کہیں اور بھی جانا ہے،“ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”نہیں بھئی، آپ کا تو کچھ نہیں مگر دانی ایل کیا سوچیں گے کہ چائے بھی نہیں پلائی۔“
” فکر نہ کریں۔ جب میں اگلی بار آؤں گا تو دو کپ پی لوں گا،“ دانی ایل نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”دانی ایل، آتے رہنا،“ انکل شاہد بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
” مریم، آپ اگلی اتوار کو ہمارے چرچ آنا نہ بھولیں،“ دانی ایل نے مریم کو مخاطب کر کے کہا۔

جب ہم گھر سے باہر نکل کر گلی کے موڑ پر پہنچے تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ پھر میں نے ہاتھ اوپر اٹھا کر دانی ایل کو اشارہ کیا اور اس نے اپنی ہتھیلی سامنے کردی۔ میں نے اس زور سے اس کی ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی ماری کہ ہم دونوں کے ہاتھ جھنجھنا اٹھے۔

”یار، تو نے شروع میں جو حماقتیں کی تھیں انہیں دیکھ کر تو میں ڈر گیا تھا کہ تو زیرو پر ہی آؤٹ ہو جائے گا مگر جس طرح تو نے خود کو سنبھالا اس کی داد نہیں دی جا سکتی۔“

” بھائی، آخر شاگرد تو تیرا ہی ہوں،“ دانی ایل نے جواب دیا۔

پیچھے سے ایک رکشے کی آواز آئی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو خالی تھا۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ رک گیا۔

”بیراج کالونی،“ میں نے کہا اور ہم رکشے میں بیٹھ گئے۔

Facebook Comments HS