کیا وقت بیت المقدس کے در و دیوار سے ٹپکتے غم کو مٹا پائے گا؟


رنگوں سے سجی، خوشبوؤں سے معطر، حسین سوچوں کا امتزاج یہ پینٹنگ جو وہ جانتا تھا کہ اس صدی کی بہترین پینٹنگ بننے والی ہے۔ سنہرے رنگ سے بڑے گول گنبد کو سجانے کے بعد اس نے پوری پینٹگ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی مگر جانے کیوں پوری پینٹگ پر ایک اداسی کی لہر تھی۔ اچانک ہی محرابوں سے خون ٹپکنا شروع ہو گیا تھا۔ اس نے تیزی سے برش اٹھا کر سفید محرابوں کو اور سفید کرنا شروع کر دیا تھا مگر محرابوں سے ٹپکتا خون بند نہ ہوا تھا۔ اور وہ چلاتے ہوئے اسٹوڈیو سے باہر نکل آیا تھا۔

حسین ارسلان غزہ کا مشہور مصور تھا مگر بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے دوسرے فلسطینیوں کی طرح وہ بھی بے انتہا پریشان تھا۔ وہ ایک نوجوان خون تھا اور چاہتا تھا کہ ان دشمنوں سے لڑ کر اپنا گھر، اپنی مٹی آزاد کر والے مگر وہ جانتا تھا کہ وہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ اسے آج سے ایک سال پہلے کی وہ رات یاد تھی جب وہ سب دوست بیٹھے بگڑتے حالات کے بارے میں بات کر رہے تھے تو اس کے بچپن کے دوست احمد عالیان نے کہا تھا ”تم تو ایک مصور ہو حسین، تم ہمارے قبلہ اول کی ایک تصویر کیوں نہیں بناتے؟ نجانے ہماری آنے والی نسلوں کو وہ کس حالت میں ملے؟ میری خواہش ہے بیت المقدس کی ایک خوبصورت تصویر ہو۔ جس میں کوئی دکھ نہ جھلکے نہ کوئی خون کا دھبہ ہو۔ تاکہ ہماری آ نے والی نسلوں کو پتہ ہو ہم نے کس کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔“

”اچھا بنا دوں گا۔“ اس نے جیسے ٹالتے ہوئے کہا تھا مگر جانے اس دن احمد کو کیا ہو گیا تھا وہ تو ہر دم ہنستا مسکراتا رہتا تھا۔ ہر وقت پرامید اور دوسروں میں بھی چند لمحوں کے اندر امید کی روشنی بھر دیتا تھا۔ مگر اس دن وہ پرامید شخص بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ ”ایسے نہیں وعدہ کرو بناؤ گے۔ اسے میری آخری خواہش سمجھ لو حسین“ اس نے حسین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر روتے ہوئے کہا تھا اور سب نے اسے مارنا شروع کر دیا تھا

”کچھ ہے شرم تجھ میں؟ کب سے بکواس کر رہا ہے؟ وہ روتے ہوئے ہنس پڑا تھا“ مارنا ہے کیا اب مجھے؟ میں تو بس اس لیے کہہ رہا تھا تاکہ یہ جذبات میں آ کر بنا دے۔ تم لوگ تو سیریس ہی ہو گئے ہو۔ ”اور پھر یوں ہی ہنستے کھیلتے سب گھر آ گئے تھے مگر اگلی صبح ایک قیامت ان کی منتظر تھی۔ اسرائیلی فوج کے کیمپوں کے پاس ایک خودکش دھماکہ ہوا تھا اور دھماکہ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ احمد عالیان تھا۔ وہ جیسے ہوش و حواس میں نہیں رہا تھا۔ اسے اب اس کی کل والی باتیں یاد آ رہی تھیں اور تب ہی سے اس کی خواہش کی تکمیل کے لیے وہ یہ پینٹنگ بنا رہا تھا۔ مگر جانے کیا مسئلہ تھا ہمیشہ آخری اسٹروک لگاتے ہوئے کبھی محرابوں اور کبھی فرش پر خون نمودار ہونے لگ جاتا تھا۔ اور وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا شاہکار ختم کر دیتا تھا۔ وہ بچپن سے رنگوں سے کھیلتا آیا تھا، پینٹنگ اس کے لیے عبادت کا درجہ رکھتی تھی مگر جانے کیوں یہ پینٹنگ اس سے مکمل ہی نہیں ہو پا رہی تھی اور اندر ہی اندر اپنے بھائیوں جیسے دوست کی آخری خواہش پورا نہ کر سکنے کا غم اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔

اور اس پینٹنگ کے علاوہ کچھ کرنے کو اس کا دل ہی نہیں مانتا تھا۔ اس نے خود کو اسٹوڈیو میں بند کر لیا تھا اور سارا دن پینٹنگ بناتا رہتا تھا۔ اس نے پھر سے برش اٹھایا تھا اور نئے عزم کے ساتھ پینٹنگ بنانا شروع کی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کی تھیں اور خود کو اپنے قبلے کے وسیع صحن میں پایا تھا۔ خوبصورت سنہرا گول گنبد جو دور سے ہی واضح نظر آتا ہے اور نیچے چھوٹے چھوٹے کھڑکی نما محراب مگر تب ہی اس نے صحن میں ہل چل دیکھی تھی اور اس کے بعد اندر سے خون کی ندی بہنے لگ گئی تھی۔ سفید بے داغ محراب خون سے رنگے گئے تھے اور ان پر لٹکتے سر نوحہ کناں تھے۔ اس نے جلدی سے آنکھیں کھولی تھیں اور عزم کیا تھا کہ آج یہ تصویر مکمل کر کے چھوڑنی ہے۔ اس نے خون سے رنگے محرابوں کو نیلا کر دیا تھا اور لٹکتے سروں پر فانوس بنا دیے تھے۔ ہاں شاید احمد عالیان صحیح کہتا تھا کہ ہم دنیا کے خداؤں سے لڑ کر اپنا قبلہ اول نہیں جیت سکتے مگر وہ واقعی ایک تصویر میں اپنا قبلہ اول محفوظ کر سکتا ہے۔ اداسی و مایوسی کی لہر کو فلسطینیوں کے چہرے سے شاید ہی کوئی اب ہٹا سکے مگر وہ امید و خوشی کو کم ازکم تصویر میں تو قید کر سکتا تھا۔

مگر پینٹنگ جو اس کے لیے عبادت کا درجہ رکھتی تھی اور عبادت میں کھڑے ہو کر بھلا کون دھوکا دے سکتا ہے۔ رنگ جو اس کی سوچوں کی عکاسی کرتے ہیں وہ بھلا کینوس پر بکھر کر جھوٹ کیسے دکھا سکتے تھے۔ لٹکتے سر اور بہتا خون تو اس نے رنگوں سے چھپا دیا تھا مگر وہ اداسی جو ان در و دیوار میں جذب ہو گئی تھی وہ شوخ رنگ بھی چھپا نہ پائے تھے اور مایوسی کے عالم میں اس نے خود کو بھی لال رنگ میں ڈبو لیا تھا اور ہولے ہولے تمام دکھوں اور مایوسی سے آزاد ہو گیا تھا۔

اگلے دن کے اخبار میں ایک شہ سرخی تھی ”مشہور مصور حسین ارسلان نے خودکشی کرلی“ اور دور اسٹور روم میں ایک پینٹنگ ہے

”سنہرا چمکتا ہوا گنبد، محرابوں سے ٹپکتا خون، صحن میں اکٹھے بندھے انسان اور جانور اور غم سے اٹی دیواریں۔

Facebook Comments HS