لاؤڈ اسپیکر برائے اِشتعال اور فروغِ امن کی جدوجہد

آج سے لگ بھگ دو دہائی پہلے کی بات ہے جب ہمیں لاہور منتقل ہوئے ابھی چند ہی ماہ گزرے تھے۔ تب ہم مذہبی اندازِ زندگی سے ہٹ کر مذہبی اقلیتوں کے حقوق و تحفظ اور سماج سیوا میں دلچسپی لینے لگے تھے اور دل جمعی سے امن و انصاف کی تعلیم و تربیت میں مشغول تھے۔ اِنہیں دنوں میں خوش قسمتی سے فیصل آباد کے شاہد انور سے دوستی کی بنیاد پڑی جن کے نام کے ساتھ اب ایڈووکیٹ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اُن کے ساتھ انسانی حقوق کی اصلاحات، صورتحال، تاریخ، قوانین اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام پر متواتر تبادلہ خیال ہوا کرتا تھا۔ یہ ہم دونوں کی سکھلائی کا ابتدائی دور تھا۔
مجھے یاد ہے 2005 میں اُس دن نومبر کی 12 تاریخ تھی اور معمول کا دن تھا، مگر صورتحال نے اُس وقت انتہائی غیرمعمولی کروٹ لی جب انسانی حقوق کے ہمارے دوست عرفان برکت جو اب سات سمندر پار جا بسے ہیں، نے بے چینی کے عالم میں آگاہ کیا کہ سانگلہ ہل میں مسیحیوں کے گھروں پر حملہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا مشاورتی اجلاس کے بعد چند دوست حقائق معلوم کرنے سانگلہ ہل روانہ ہو گئے۔
تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ہجوم کو اِکٹھا کرنے اور اشتعال دلانے کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال ہوا تھا۔ انسانی حقوق کی جدوجہد میں مسیحیوں کی ایذا رسانی دیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جس نے مجھے اندر سے نہ صرف ہلا کے رکھ دیا بلکہ توڑ ہی ڈالا تھا۔
مہینوں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر گفتگو ہوتی رہی، اس کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کے مطالبات بھی سر اٹھانے لگے مگر یکے بعد دیگرے واقعات رونما ہونے کا تانتا بندھا رہا جو آج بھی بستیاں اور زندگیاں اُجاڑ رہا ہے۔
لاؤڈ اسپیکر یا مائیکروفون کی ایجاد کو لگ بھگ 150 سال گزر چکے ہیں۔
لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور شرانگیزی نے ہمارے معاشرے کو مجموعی اور اقلیتوں کو خصوصی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی لاؤڈ اسپیکر ہے جس کے استعمال پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔
6 فروری 1996 کو خانیوال کے گاؤں شانتی نگر میں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور اشتعال انگیز تقاریر کے نتیجہ میں 14 گرجا گھر، پاسٹرز کے 5 گھر، 24 گاڑیاں، 5 ٹیوب ویل، 2 اسکول اور 1889 گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔
28 جون 2005 کو نوشہرہ میں لاؤڈ اسپیکر سے اعلانات ہوئے تو ایک مندر سمیت ہندووں اور مسیحیوں کے درجنوں گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ 12 نومبر 2005 کو سانگلہ ہل میں 3 گرجا گھر، سسٹرز کا ایک کانونٹ، ایک گرلز ہاسٹل، ایک اسکول، پاسٹر کا ایک گھر اور مسیحیوں کے 2 گھروں، املاک اور ساز و سامان کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ 31 جولائی 2009 کو قصور کے نواحی علاقہ کوریاں میں لگ بھگ دو سو گھروں کو آگ لگا دی گئی اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یکم اگست 2009 کو مشتعل ہجوم نے گوجرہ میں 50 سے زائد گھروں اور دو گرجا گھروں کو آگ لگا دی۔
لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کا ایک نتیجہ 9 مارچ 2013 کو لاہور کی جوزف کالونی میں سامنے آیا جہاں مظاہرین نے 160 سے زائد گھروں، 18 دکانوں اور دو گرجا گھروں کو نذرِآتش کیا۔ نومبر 2014 میں کوٹ رادھا کشن کی شمع اور شہزاد کو کون بھُلا سکتا ہے؟ وہ بھی لاوڈ اسپیکر کی بھینٹ چڑھے۔ ستمبر 2019 میں گھوٹکی کا مندر، اگست 2021 میں رحیم یارخان کا مندر، اگست 2023 میں جڑانوالا کی بستی، مئی 2024 میں سرگودھا کا نذیر اور جون 2024 میں سوات کا شہری سب کے سب اسی ” ایجاد“ کا شکار ہوئے۔
تعزیراتِ پاکستان مجریہ 1860 میں شور شرابے سے متعلق دو حصے شامل ہیں۔ دفعہ 268 عوامی پریشانی سے متعلق ہے جبکہ دفعہ 278 جرمانہ عائد کرنے سے متعلق۔ چاروں صوبوں میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال کے حوالے سے قوانین موجود ہیں مگر اُن پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
پنجاب میں ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشن) ایکٹ 2015، سندھ میں ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015، بلوچستان میں ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2016 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1965 کا ایکٹ نافذ العمل ہے۔ ان قوانین کا لُبِ لُباب ساؤنڈ سسٹم کے غیر ضروری استعمال کو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنا ہے نیز اس کے غیرضروری استعمال سے عوامی پریشانی، شرانگیزی اور متنازعہ نوعیت کے الفاظ سے عوامی انتشار کو روکنا ہے۔ یہ قوانین لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت تو دیتے ہیں مگر انہیں اس بات سے مشروط کیا گیا ہے کہ ساؤنڈ سسٹم کا استعمال اُس صورت میں غیرقانونی تصور ہو گا جب کوئی تیز، غیرضروری یا غیر معمولی شور پیدا ہو یا کوئی بھی شور جو شہریوں کے آرام، صحت، امن یا حفاظت کو پریشانی، یا خطرے میں ڈالتا ہو۔
گزشتہ دنوں ہمیں لاہور میں منعقدہ ایک تقریب ”امن کی ثقافت“ میں اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا جس کا اہتمام کرسچن سٹڈی سینٹر راولپنڈی اور لاہور کی مقامی تنظیم اِنسٹیٹیوٹ فار سوشل اینڈ یوتھ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ تقریب میں نوجوانوں نے فروغِ امن کی مناسبت سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا جہاں میرے سات سالہ بیٹے سِرل نے بھی ایک سماجی گیت پیش کیا۔ مجھے ذاتی طور پر اس تقریب کے بنیادی خیال ”مائک فار امن“ نے بہت متاثر کیا۔ جس میں نوجوانوں کو دعوت دی گئی کہ وہ مائک / لاؤڈ اسپیکر کو اپنی صلاحیتوں کے نکھار اور سماج کی بہتری کے لئے استعمال کریں۔ اس مضمون کی تخلیق کا محرک دراصل وہی تقریب تھی۔
ہم سماج کو بے پناہ بگاڑ اور نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اب ضروری ہے کہ حکومتی اور سماجی سطح پر مائک یا لاوڈ اسپیکر کے بہتر استعمال پر مبنی آگاہی سرگرمیاں منعقد کی جائیں، نیز لاؤڈ اسپیکر کو غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم کس طرح لاؤڈ اسپیکر کا بے دریغ غلط استعمال کرتے رہے ہیں جبکہ یہ معاشرے کی تربیت، بہتری اور رواداری کے فروغ کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ خیال بالکل اُسی طرح ہے کہ یہ بات مجھ پر منحصر ہے کہ میں اپنے ہاتھ کی اُنگلیوں کو پستول کی شکل دوں یا اِن سے امن کی علامت فاختہ بناؤں۔ سوچیئے کہ فیصلہ اپنا اپنا ہے مگر سماج سانجھا ہے۔

