ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا جنم


1947 سے، تقسیم ہند کے بعد 1935 کے انڈین پارٹیشن ایکٹ کے تحت پاکستان کے انتظامی اور حکومتی ادارے چلائے جانے لگے۔ اور تمام محکمے اور ادارے جوں کے توں کام کرنے لگے۔

انگریزوں نے اپنے دور میں کچھ ڈیم اور بیراج بنائے جن کا پانی بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آب نوشی اور آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اور ان کے تمام تر امور محکمہ انہار کے ساتھ ہی منسلک تھے۔ چونکہ محکمہ انہار صوبائی محکمہ تھا چنانچہ بجلی کی پیداوار، ترسیل، کاروبار، نفع نقصان اور سب انتظام بھی صوبائی حکومت کے پاس تھا۔ اور یہی سب کچھ سال 1958 تک چلتا رہا۔

پھر اچانک ایک قانون کے تحت بجلی کا اختیار صوبوں سے چھین کر مرکز نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کافی عرصہ تک محکمہ انہار میں صوبائی سطح کی ایک پوسٹ الیکٹرک انسپکٹر ہوا کرتی تھی۔ یہ پوسٹ کافی عرصہ تک واپڈا کے قیام کے بعد بھی ویسے ہی موجود رہی۔

واپڈا جو ایک نیم خود مختار برق و آب تک محدود ادارہ ہے لیکن یہ جو کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ تمام محکموں اور اداروں کی ماں ہے۔ ماں بھی ایسی جو اپنے بچوں کے لیے دوسروں اور ان کے بچوں کو اپنی خوراک بناتی رہتی ہے۔ ملک بھر کے عوام کا خون نچوڑ کے اپنے بنانے والے آقاؤں اور اشرافیہ کو پلاتی ہے۔ عوام بالخصوص اعلی، تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کے حقوق مار کے قبر میں پیر لٹکائے غیر متعلق اور غیر تجربہ کار بندوں کو ان سے کئی گنا تنخواہوں اور مراعات پر رکھ کے کھلاتی پلاتی ہے۔

پانی کی تقسیم اور استعمال میں ملکی اور عوامی مفاد کی بجائے سامراجی پالیسیوں کی بھر پور معاونت کرتی ہے۔ بلکہ ایسے منصوبوں پر اپنی مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے اصرار کرتی اور وکالت کرتی ہے جس سے عوام اور بعض صوبوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ ملکی اتفاق، اتحاد اور یک جہتی کو خطرہ لا حق ہونے کا اندیشہ ہے۔ آقاؤں کو خوش رکھنے کی خاطر اور ان کو فائدہ دینے کے لیے کھلم کھلا صوبہ خیبر پختونخوا کو پن بجلی کا اپنے ہی آقاؤں کے طے شدہ فارمولے یعنی جی این قاضی فارمولے کے تحت اس کا حصہ جو کہ اربوں بلکہ کھربوں روپے ہیں کو روک رکھا ہے۔

جبکہ وہاں کے ستر اسی فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اکثریت اس سے بھی بد ترین حالات سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر کے کاروباری اصول ”منافع کم بکری زیادہ“ کے اصول کو پامال کرتے ہوئے خریداری یا استعمال کے بڑھنے سے قیمتیں بڑھاتی ہے۔ وہ بھی اصل بجلی کی قیمت میں اضافے نہیں کرتی بلکہ ٹیکس پے ٹیکس لگاتی رہی ہے۔ یہ بھی محض اس لیے کہ اوپر ذکر کردہ فارمولے کے مطابق بجلی کی قیمت بڑھنے سے اس کے پیدا کرنے والوں کا حصہ بھی بڑھانا پڑے گا۔ جو ٹیکس پر ٹیکس لگا کے ان کا استحصال ہی نہیں ان کے ساتھ دھوکہ اور بدعنوانی کرتی ہے۔ اب تو بجلی کی قیمتیں اتنی بڑھا دیں ہیں کہ عوام کی بڑی اکثریت اثاثے بیچ کے بھی بل بھرتے ہیں۔ لیکن! کب تک؟

اس کے لیے یہ حکومت کی معاونت حاصل کرتی ہے۔ عوامی نمائندگان، با اثر اور اشرافیہ کو نوکریاں، مفت بجلی، مراعات اور دیگر بہت کچھ دے رہی ہے۔ مجسٹریٹس اور امن و امان کے اداروں کے لوگوں کو کرایہ پر لے کے عوام کی چمڑی اتارنے کے لیے قانونی معاونت بھی حاصل کرتی ہے۔ ان سب اور ایسے دیگر ظلم، جبر، استحصالی اور سامراجی کردار کو دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا جنم ہے

Facebook Comments HS