برادرم ڈاکٹر خالد سہیل کی خدمت میں
برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب!
آپ کا شفقت نامہ موصول ہوا۔ حضرت! عاجز نے تو اپنے تئیں آپ کو جنم دن پر مبارکباد ارسال کی تھی۔ توسن خیال مگر غم زمانہ سے کچھ ایسا آشنا ہوا ہے کہ خوشی اور ملال کے بیچ کھنچی لکیر مدت ہوئی غبار ایام میں گم ہو چکی۔ واللہ خبر نہیں ہوتی کہ کس لمحہ خوشی میں گوشہ چشم سے آبلہ اشک پھوٹ بہتا ہے۔ جو بات عزیز دوست کی عمرِ خوش رنگ کے جشن سے شروع ہوئی تھی وہ ہمارے عہد کے ایک المیے کے بیان پر ختم ہوئی۔ آپ نے اپنے محبت نامے میں ہم دونوں کے طرز نگارش پر بھی محبت آمیز رائے دی۔ برادرم! ہم آپ تو گرد کے ذرات ہیں۔ ہمیں ابوالکلام آزاد کی رفعت خیال اور میر کی تہ دار سادگی سے کیا واسطہ۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ آپ کے کلک زریں کی روانی قابل فہم ہے۔ آپ کا دل شفاف ہے اور اس میں دنیا بھر کے انسانوں کے لیے شفقت کا ٹھنڈا میٹھا چشمہ رواں ہے۔ آپ کا علم قابل رشک ہے، مشاہدات بے کنار ہیں اور تجربات متنوع۔ آپ کے لیے قابل فہم انداز میں بات کہنا اس لیے بھی آسان رہا کہ آپ نے اپنے خیال اور بیان سے تلخی کا امکان ختم کر رکھا ہے۔ یہ خوش قسمتی سب کے حصے میں نہیں آتی۔
آپ کے نیاز مند نے زندگی کا بڑا حصہ پاکستان میں گزارا۔ رنج و اندوہ کی ان گنت لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزر رہی تھیں۔ مقدور بھر کوشش کی کہ دامن دل پر داغ ظاہر نہ ہو لیکن اس کوہِ سیاہ کی چڑھائی میں ان دیکھے موڑ تھے اور خطرناک کھائیاں۔ میں ایک کثیر الاشاعت اخبار کے لیے باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔ اخبار کی اپنی پالیسی بھی ہے اور تحدیدات بھی۔ اس ملک میں لکھے اور کہے لفظ پر سرکار دربار کی آنکھ بھی ہے اور اہل بازار کے خالی از دلیل اشتعال پر بھی نظر رکھنا پڑتی ہے۔ آپ نے تو پچاس برس پہلے ایران میں بہت سا وقت گزار رکھا ہے۔ بازار کا فارسی مفہوم آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اور پھر مجھے خواہی نخواہی ایک ہزار لفظوں میں اپنی بات سمیٹنا ہوتی ہے۔ آپ کے اشہب قلم پر ایسی کوئی بندش نہیں۔ آپ کی سادہ بیانی پر آپ کے شب و روز کی چھوٹ پڑتی ہے اور آپ کے اس زندانی کی ژولیدہ بیانی میں اس کے معروض کا عکس جھلکتا ہے۔ مجھے آپ کی ناقدانہ رائے سے اختلاف نہیں، میں نے اپنی صورت احوال بیان کی۔ آپ کو یاد ہو گا، پابلو پکاسو نے بڑھاپے میں اپنے بچپن کے دوست کو خط میں لکھا تھا You have lived the life of a poet and I that of a convict۔
میں نے کرہ ارض پر موجود ناانصافیوں کے لیے ایک نسخہ تجویز کیا تھا۔ میرا جملہ تھا ’عورت اور مرد میں امتیاز کرنے والی دنیا ایک بنیادی ناانصافی پر کھڑی ہے۔‘ مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ اس مختصر بیان کے پس پشت کارفرما خیال کو پوری طرح واضح نہیں کر پایا۔ عرض ہے کہ کسی ناانصافی کو بنیادی قرار دینے سے یہ مفہوم برآمد نہیں ہوتا کہ یہ واحد ناانصافی ہے۔ دوسرا نکتہ جو میری کوتاہی کے باعث ان کہا رہ گیا، یہ تھا کہ جب میں صنفی امتیاز کو بنیادی ناانصافی قرار دیتا ہوں تو اس میں میرے پیش نظر ناانصافی کا شماریاتی حجم بھی ہے، اس کی ہمہ گیر موجودگی بھی اور اس کی متنوع صورتیں بھی۔
ہم جانتے ہیں کہ عورتیں اس دنیا کی آدھی آبادی ہیں۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک دنیا کی آدھی آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ آپ نے ’کالی آبادی‘ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذکر کیا۔ مجھے اتفاق ہے لیکن یہ بھی مدنظر رہے کہ اس وقت دنیا میں افریقن نژاد آبادی کی کل تعداد 14 فیصد ہے۔ 14 فیصد اور 50 فیصد کا فرق آپ خوب سمجھتے ہیں۔ کل آبادی آٹھ ارب ہے اور صرف ہندوستان میں دلت افراد 35 کروڑ سے زائد ہیں۔ آپ نے ان انسانوں کا ذکر کیا جو دنیا کی اکثریتی آبادی سے مختلف جنسی رجحان رکھتے ہیں۔ عرض ہے کہ عالمی آبادی میں ہم جنس افراد کی تعداد 3 فیصد ہے اور بائی سیکسوئل افراد کی تعداد 4 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار سے میرا مقصد آپ کو غلط قرار دینا نہیں۔ امتیازی سلوک ایک ناانصافی ہے اور ناانصافی اعداد و شمار کے الٹ پھیر میں اپنی ہیئت تبدیل نہیں کرتی۔ ایک فرد سے ہونے والی ناانصافی بھی اتنا ہی بڑا المیہ ہے جتنا ایک کروڑ انسانوں سے ہونے والی ناانصافی۔ سٹالن کا ایک جملہ اکثر روایت کیا جاتا ہے کہ ’ایک فرد کی موت المیہ ہے اور ایک کروڑ انسانوں کی موت محض ایک عدد‘۔ مجھے اس رائے سے سخت اختلاف ہے۔ موت ایک انسان کی ہو یا دس کروڑ انسانوں کی، موت اور زندگی کے درمیان ہونے اور نہ ہونے کا لامتناہی فاصلہ پایا جاتا ہے۔ یہ Being اور Nothingness کا سوال ہے۔ اسی طرح جس فرد کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے ہم اسے یہ کہہ کے نظرانداز نہیں کر سکتے کہ تمہارا دکھ دیکھیں یا لاکھوں دوسرے انسانوں کے رنج و الم پر توجہ دیں۔
مجھے اتفاق ہے کہ ہمیں رنگ، مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر ہر ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ احتجاج زندگی کے احسان کا معمولی تشکر ہے۔ تاہم جب ہم دنیا کے پھیلے ہوئے اور پیچیدہ منظر پر نظر دوڑاتے ہیں، قوموں میں بالادستی کی دوڑ دیکھتے ہیں، معصوم انسانوں پر ان جنگوں میں برستی آگ دیکھتے ہیں جن کا فیصلہ کہیں اور کیا گیا ہے۔ سرمائے اور غربت میں خلیج دیکھتے ہیں۔ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں دیکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پورے شمالی افریقہ میں عورتوں کی Genital Mutilation کی جنوبی ایشیا کے لوگوں کو خبر ہی نہیں۔ یورپ کے رہنے والوں کو کیا علم کہ ایشیا کے ایک گاؤں میں ’مصلی گھرانے‘ میں پیدا ہونے کا ’جرم‘ کس طرح زندگی کی راہیں متعین کرتا ہے۔ جب ہم کوڑے کے ڈھیر سے خوراک ڈھونڈتے ہوئے بچوں کے قریب سے بستہ اٹھائے صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس بچوں کو سکول جاتے دیکھتے ہیں، جب ہم کسی غریب شخص کو صرف پیسے نہ ہونے کی وجہ سے قابل علاج مرض کے ہاتھوں مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، جب ہم جہیز نہ ہونے کے سبب کروڑوں بچوں اور بچیوں کی بے آب و گیاہ زندگیاں دیکھتے ہیں (اور اخبار کے صفحات ہفتوں سے بھارت میں جاری ایک شادی کی ’دلچسپ‘ تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں)۔ جب ہم دنیا بھر کے تمام خطوں میں اور تمام طبقات میں، تعلیم یا ثقافت کے کسی فرق سے قطع نظر، گھریلو تشدد دیکھتے ہیں اور کسی ایک مسئلے کی نشان دہی کرنا چاہتے ہیں جس کی مدد سے دنیا میں دکھ کا گراف کم کیا جا سکے اور خوشی کی سبیل جاری ہو سکے تو ہم عورت اور مرد میں پائے جانے والے رتبے، حقوق اور مواقع کے فرق تک پہنچتے ہیں۔
ایک گزارش اور کرنا چاہوں گا۔ میری رائے میں ناانصافی ایسا بندوبست ہے جس میں صرف مظلوم ہی پر قیامت نہیں گزرتی، خود ظالم بھی ناگزیر طور پر مجروح ہوتا ہے۔ عورت اور مرد میں امتیاز کرنے والی دنیا کے سب مرد، مجھ سمیت، ذہنی اور اخلاقی طور پر بالشتیے ہو گئے ہیں۔ اس کا ایک نصابی سبب تو یہ ہے کہ امتیازی سلوک کا شکار ہونے والی ماؤں کے بچے ناگزیر طور پر جسمانی صحت، ذہنی صلاحیت، علمی پرواز اور پیداواری امکان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کا کہیں زیادہ خوفناک پہلو یہ ہے کہ ظلم کرنے والا یا اسے درست سمجھنے والا سیاسی، معاشی، قانونی اور علمی طور پر انصاف کی حرکیات سے نابلد ہونے کے باعث ایک پسماندہ مخلوق میں ڈھل جاتا ہے۔ امریکا کے اس سیاسی رہنما میں جو یہ کہتا ہے کہ ”Grab it …by“ اور پاکستان کے اس ادیب میں کیا فرق ہے جو اپنی مزعومہ مردانگی کے خمار میں اپنے سے کہیں زیادہ علمی قامت رکھنے والی دنیا کی ایک نامور گائناکالوجسٹ سے کہتا ہے ’آپ کرتی ہی کیا ہیں، ادھر ادھر سے کھینچ تان کے ایک بچہ نکال باہر کرتی ہیں‘۔ ایسا کہنے والا سیاسی رہنما ہو، ادیب ہو، استاد ہو، نام نہاد ڈرامہ نگار ہو، خود ساختہ مذہبی پیشوا ہو یا لاہور ہائی کورٹ کا وہ جج جس نے سرعام ”Finger Test“ کی حمایت کی، انسانیت کے قابل تحقیر نمونے ہیں۔ انسان صرف اسے نہیں کہتے جس نے دو ٹانگوں پر سیدھا کھڑا ہونا سیکھ لیا ہو۔
عورت اور مرد کی مکمل مساوات محض قانون سازی یا تلقین کا سوال نہیں۔ عورت اور مرد میں امتیازی سلوک آج کی دنیا کا وہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے سے ہم انسانیت کی اس اجتماعی اخلاقی توانائی سے استفادہ کر سکتے ہیں جو ہماری آج کی دنیا میں سیاست، معیشت، ثقافت اور تمدن کے خد و خال پر اثرانداز ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ عورت اور مرد میں حقوق، رتبے اور مواقع کی ممکنہ مساوات حیات آفریں پانی کا وہ دریا ہے جس پر ہم نے جہالت، تعصب اور غفلت کا بند باندھ رکھا ہے۔ اس دریا کو اذن روانی دیا جائے تو کرہ ارض پر ناانصافی، ظلم، جہالت اور استحصال کے بہت سے بدنما جزیرے غرق کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ’ہم سب‘ پر لکھنے والی دیگر قابل صد احترام خواتین کے ذکر پر مجھے شرمندگی ہوئی۔ ’ہم سب‘ نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا۔ عورت کے تخلیقی، علمی اور سماجی اظہار کو مساوی موقع فراہم کرنا دنیا بھر کے انسانوں پر ایک اجتماعی قرض ہے۔ ’ہم سب‘ نے اس قرض کی ادائی میں بساط بھر حصہ ڈالا تو یہ ’ہم سب‘ کے اعلان کردہ اقداری ڈھانچے کا حصہ ہے۔ مجھے توقع ہے کہ ہمارے بعد ’ہم سب‘ کو لے کر آگے چلنے والے اس اصول پر ہم سے کہیں بہتر طور سے کاربند ہوں گے۔
میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے محبت نامے سے مجھے موقع دیا کہ میں اس مکالمے کو آگے بڑھا سکوں۔

