قلعہ لاہور میں لوہ مندر


یوں تو میری شہرِ لاہور سے بڑی گہری وابستگی ہے، لیکن پچھلے 11 ماہ سے لاہور میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور ریسرچر کام کرنے کے دوران، میں نے لاہور کی تاریخ کو بڑے خوبصورت انداز میں سمجھا۔ میں نے بے شمار فائلیں دیکھیں جنہوں نے مجھے شہرِ لاہور کی تاریخ سے آگاہ کیا۔ میرا زیادہ دھیان غیر مسلم مزارات، ہندو اور بدھ آثار قدیمہ اور مقامات پر ہوتا، لیکن مجھے کبھی ان فائلوں میں لاہور قلعے میں موجود مندر کے بارے میں کچھ لکھا ہوا نہیں ملا۔

ایک دن، کنزرویشن نوٹ کو پڑھتے ہوئے ایک معمولی سی سطر ملی جس نے میری توجہ حاصل کی۔ یہ لاہور میں موجود اس مندر کے برسوں سانس لینے کی نشانی تھی۔ یہ مندر عالمگیری گیٹ کے سیدھ میں دائیں جانب، مغل باورچی خانے کے نزدیک واقع ہے۔ اس جگہ سے میں کئی مرتبہ گزر چکی تھی، لیکن کبھی اس مندر کی موجودگی کا احساس نہ ہوا۔ اس مندر کے تعمیر ہونے کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں ملتا، سر ایڈورڈ میکلاگن اور نذیر احمد چوہدری کے مطابق، لوہ مندر کی تعمیر کی شیئریت اور اس کا زمین کے باہر کے سطح کے برابر واقع ہونے کی وجہ سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ شاید لاہور قلعے میں سکھ دور میں تعمیر کیا گیا تھا، اور اسے پہلے کا کلیدی مندر نہیں مانا جا سکتا۔ لیکن دونوں ماہرین تاریخ نے اس مندر کی تعمیر کی تقریبی تاریخ کو بھی بیان نہیں کیا۔

قلعہ لاہور کی اصل بنیادوں کے بارے میں بھی مختلف اندازے ہیں۔ جبکہ حالیہ بناوٹ کو مغل بادشاہ اکبر اور ان کے بعد کے حکمرانوں کا کام مانا جاتا ہے، تاریخی ثبوت ہیں کہ یہ قلعہ ان سے بہت پہلے سے موجود ہے۔ یہ مندر جو لوہ کے نام سے منسوب ہے۔ لوہ، جسے ہندو دیومالا میں بھگوان رام کا بیٹا کہا جاتا ہے، لاہور شہر کے قدیم نام اور تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے رام کے بیٹے لوہ نے قائم کیا تھا، اور اسی لیے اس کا اصل نام لوہ کے نام سے ہی منسوب ہے جو پہلے لوہ آوار، لوہ کوٹ اور لاوپور رہا اور بعد میں لاہور کے نام سے مشہور ہو گیا۔ (تاریخِ لاہور، کنہیا لال) ۔ اس مندر میں دیے اور پھولوں کی مرجھائی ہوئی لڑی اس بات کی نشاندہی تھی کہ اس مندر میں پوجا بھی ہوتی ہے۔ وہاں موجود ایک صاحب، جو والڈ سٹی اتھارٹی کی طرف سے یہاں کام کر رہے تھے، نے مجھے بتایا کہ پچھلے سال اس مندر میں پوجا ہوئی تھی، اس کے بعد سے اب تک یہ زیرِ تعمیر ہے۔ یہ مندر پچھلے کئی سالوں سے گمنامی کا شکار رہا جو کہ اب والڈ سٹی اور آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ کئی برس سے تعمیر کروا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS