کالم: کالرج کے قبلائی خان سے بسمل کے رہتل تک
جن دِنوں میں ادب و تاریخ میں ماسٹرز کر رہا تھا تب ہمارے استادِ محترم نے اک خاص نکتہ بتایا وہ فرمانے لگے :
”بلال بیٹا! تاریخ میں اہم واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ہم ’ارمیسو پوٹیمیا‘ سے ادبی تاریخ کا آغاز اسی سبب کرتے ہیں کہ وہاں پہ ہمیں اولین تاریخی شواہد ملے۔ ثبوت کی اہمیت جتنی قانون میں ہے وہی اہمیت ادب و تاریخ میں بھی موجود ہے۔ ہم کئی صدیوں پہلے اسکندریہ کی جلائی اور دریا بُرد کی گئی لائبریری پہ قیاس تو کر سکتے ہیں مگر وہ کتنی اہم تھی اس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ اسی کتب خانہ میں کوئی بہت مقدس کتاب ہو جو عربین نائٹس کی طرز پر موجود ہوتی یا شیکسپیئر کے پائے کا کوئی ادیب پہلے سے گزرا ہو گا۔ مگر وہ تو جنگوں کے شوقین جلا کر پانی میں بہا گئے۔ اِمکانات ہیں اور کسی بھی طور و سمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔“
دو دن پہلے مجھے یہ خیال تب آیا جب عبدالوحید بسمل کی کتاب ’ہندکو رہتل‘ مجھے پڑھنے کو ملی۔
ہندکو زبان میں لکھی گی اس کتاب کو جیسے جیسے پڑھتا گیا۔ اتنی ہی اس کی اہمیت میرے سامنے کھل کر اُبھرتی گئی۔ آج سے دس سال پہلے جب میں مانسہرہ کی تاریخ پہ ایک کالم لکھ رہا تھا۔ تب مجھے مانسہرہ لائبریری میں بہت سے مقامی رائٹرز کی کتب چھاننی پڑیں۔ مگر جس کتاب سے مجھے سب سے زیادہ معاونت ملی وہ ایچ ڈی واٹسن کی دستاویز Gazetteer of the Hazara District، 1907 تھی۔ جس کی مدد سے مجھے بیسویں صدی کے مقامی علاقوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد ملی۔
رہتل کو پڑھتے ہوئے مجھے بارہا مسرت و شادمانی ہوتی رہی۔ اس کتاب کو لکھنے میں بہت سی محنت اور ریسرچ شامل دکھائی دیتی ہے۔ میں پردیس میں اکثر انڈین و پاکستانی پنجاب کے دوستوں کو اپنے علاقے سے متعلق بتاتا ہوں۔ تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مثلاً شادیوں پہ کیسے ڈولی میں دلہن کو لایا جاتا ہے۔ اس میں وہی شاہانہ اندازہ پنہاں ہے۔ جو ماضی کی ملکاؤں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے ہوئے کیا جاتا تھا۔
اسی روایت سے متعلق بسمل صاحب لکھتے ہیں : (ہندکو سے اردو ترجمہ)
”نکاح کے بعد لڑکی والے ڈولی کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی مضبوطی کی خاطر رسوں سے باندھا جاتا ہے۔ وہیں اندر نرم بستر بچھایا جاتا ہے۔ پھر اسے دلہن کے قریب لایا جاتا ہے اور تین چار چادروں کے پردے میں دلہن کو ڈولی میں بٹھایا جاتا ہے۔ پھر والدین کی طرف سے دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ یعنی قرآن مجید دیا جاتا ہے۔“ (صفحہ نمبر 67۔ 68 )
آپ جیسے جیسے اس کتاب کو باریکی سے پڑھتے جائیں گے۔ ہزارہ میں آباد لوگوں کے رسم و رواج سے متعلق گہری شناسائی ملتی جائے گی۔ بہت سی ایسی بھی روایات و رہن سہن کے عناصر ہیں جو اکیسویں صدی میں ماضی کا حصہ بن کر رہ جائیں گے۔ سائنس، مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ہماری زمین اک گاؤں کی صورت ابھری ہے۔ ہم تنوع کی بجائے یکسانیت کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اور ایسے میں اس طرح کی کاوشوں سے ہم اپنے اجداد اور ماضی سے جڑے رہیں گے۔
مثال کے طور پہ جیسے مہمانوں کی مہمان نوازی کو ہر آنے والی نسل میں منتقل کرنے کی بھرپور سعی کی جاتی ہے۔ وہیں اگر گاؤں کا کوئی فرد جان بوجھ کر گاؤں کے اصول توڑ دے تو ممکنہ طور پہ ان سے سوشل بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔ تاں کہ اصولوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے اور ایک نظم و نسق قائم رہے۔ (صفحہ نمبر 31)
کتاب کو بحیثیت مجموعی چھ اہم پہلوؤں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ا) : پیدائش اور چھوٹی عمر کی رسمیں
2) : شادی و خوشی سے متعلقہ رسوم
3) : موت و دیگر غموں سے متعلق رسوم
4) : ہزارہ کے پیشوں سے متعلق رواج
5) : کچھ مشہور مقامی کھیلوں کا جائزہ
6) : اندرونِ خانہ زندگی کے رنگ
آپ اگر سندر آنسو یا جھیل سیف الملوک دیکھنے جائیں اور راستے میں کہیں کسی شادی پہ رکنے کا موقع ملے تو وہاں تلواریں چلتی دیکھ کر ششدر نہ ہوں۔ اسے مقامی زبان میں ’گتکہ پھری‘ کہتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے یہاں پہ راجہ اشوک کے کتبے بھی موجود ہیں۔ تو سید احمد شہید و شاہ اسماعیل شہید کی جنگوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اسی سبب مانسہرہ اور اس کے گردونواح میں کئی دہائیوں سے تلوار بازی کی اہمیت رہی ہے کہ قبیلہ میں وہی بہادر اور اہم بندہ ہے جو تلوار میں سب پہ بھاری پڑے گا۔ ایک نکتہ یاد رہے کہ یہ لوہے کی یا اصل تلواریں نہیں ہوتی ہیں بلکہ لکڑی سے بنی مختلف ڈیزائن سے مزین ہوتی ہیں۔ اگر یہ جسم کو چھو بھی جائیں تو مخالف بچا رہتا ہے۔
میں ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے درمیان آباد اک چھوٹے سے قصبے میں کئی سال پہلے گیا۔ مہندی کی رات کے موقع پہ مردوں میں کافی جوش پایا جاتا تھا اور پھر اچانک سے کچھ نوجوان برآمد ہوئے اور انہوں نے میوزک کے ساتھ تلواریں چلانا شروع کر دیں۔ آپ تصور کریں کہ پہاڑی کی چوٹی پر شام ڈھل رہی ہے اور یوں شادی کا جشن منایا جا رہا ہے۔
یہ سارے سُندر مناظر آج بھی دل میں ویسے ہی اترے ہوئے ہیں۔ یقین جانیں کہ لکھتے ہوئے وہ سکرین پہ چلنے لگے ہیں۔
پانچویں باب میں گتکہ پھری، کھوڑ، کوڈی، بلوراں، چھپالکی، ڈنڈے اور چیتو ڈوگہ جیسے کھیلوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ہزارہ سے باہر بسنے والے کئی رسوم و رواج کو سمجھ سکیں گے۔ وہیں مقامی لوگ جو اِن رَسموں کے خالص ہندکو ناموں کو بھولنے سے بچ جائیں گے۔ مثال کے طور پہ ہمارے ایک کتاب دوست انکل ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے دروازہ اور صحن کے خالص ہندکو ناموں کا پوچھا۔ تو تمام حاضر دوست بمشکل مقامی زبان میں ان ناموں کو بتا سکے تھے۔
عبدالوحید بسمل صاحب کو ویسے تو شاعرانہ مزاج کی وجہ سے زیادہ جانتا ہوں۔ مگر پہلی بار ان کی ہندکو نثر پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ ہمیں ایسے ہی سینیئر لکھاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ جو ہماری دنیا سے گم ہوتے مقامی امتیازی رنگوں کو واضح کر سکیں۔
باب دوئم پڑھتے ہوئے بسمل صاحب مجھے پاکستان سے ہجرت کرنے کی یادیں تازہ کروا گئے۔ میں گزشتہ سال جب واپس آسٹریلیا کی فلائٹ لے رہا تھا۔ تو ہماری پھوپھو جان نے میرے لیے اک خاص رسم کا اہتمام کیا۔ ویسے یہ رسم شادی سے مخصوص ہے مگر خوشی سے رخصت کرتے وقت بھی اسے منایا جاتا ہے۔
جب بھی کوئی مہمان واپس جا رہا ہو تو اس کے لیے خصوصاً پکوان بنائے جاتے ہیں۔ (صفحہ نمبر 74)
اور یہ میٹھے پکوان مہمان (اکثر دلہن یا پردیسی) اپنے ساتھ دوستوں و دیگر احباب میں بانٹتا ہے۔
جتنا زیادہ میں نے اس کتاب کو پڑھا ہے۔ اتنا ہی میں اپنے ماضی اور بچپن میں جاتا گیا ہوں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایس ٹی کالرج کی نظم Kubla Khan کے مرکزی کردار کی طرح ہوا میں تیرتے ہوئے قلعہ کو دیکھ رہا ہوں۔ اور اس کے کنارے پہ اک چشمہ بہہ رہا ہے وہاں سے میں اپنے ماضی میں اپنوں کو آوازیں دے رہا ہوں۔
ہاں یہ کتاب ہمیں اپنے شاندار ماضی سے ملانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کالرج کی ہی نظم کے چند اشعار یاد آرہے ہیں :
And all who heard should see them there,
And all should cry, Beware! Beware!
His flashing eyes, his floating hair!
Weave a circle round him thrice,
And close your eyes with holy dread,
For he on honey-dew hath fed,
And drunk the milk of Paradise.
(Kubla Khan, S.T Coleridge)
قصہ مختصر، نستعلیق مطبوعات کے زیرِ اہتمام ہندکو زبان میں گزشتہ مہینے میں شائع ہونے والی کتاب ’ہندکو رہتل‘ ہندکووان اور ہندکو ثقافت سے محبت کرنے والوں کے لیے اہم تحفہ ہے۔ سات سمندر پار اس کتاب کو پڑھ کر ٹائم ٹریول کا بھرپور موقع ملا۔


