تصویر کا دوسرا رخ ضرور دیکھیے
کہتے ہیں کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو بعض اوقات صرف یہ ایک رخ ہی نظر آتا ہے جس سے وہ اپنی رائے قائم کر لیتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس تصویر کا دوسرا رخ جو پہلے منظر سے بہت مختلف ہوتا ہے دیکھے بغیر کسی کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ تمام انسانوں کے دیکھنے اور سمجھنے کا اپنا اپنا انداز اور اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ یہ دیکھنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کسی پانی کے گلاس کو دیکھ کر یہ اندازہ کرے کہ وہ آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے۔
جس کی تخلیق ہے یہ ہائے وہ احساس لطیف
یہ حقیقت ہے بجا تاج محل پتھر ہے
چند دن قبل سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر سانگھڑ میں ایک اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے واقعہ نے پورے معاشرہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اونٹ کی دھاڑیں اور آنسو دیکھ کر لوگ لرز اٹھے تھے۔ ہر جانب سے اس واقعہ کی مذمت ہوئی۔ ہر دل دکھی ہوا۔ ملزمان کی گرفتاری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ بہت سے لوگوں کی جانب سے اس اونٹ کی مصنوعی تانگ لگوانے کی پیشکش بھی سامنے آئی۔ اس دل خراش واقعہ نے کئی دن تک لوگوں کے دلوں میں درد پیدا کیے رکھا۔
ظالم کو سزا دینے کی باتیں اور مطالبے بھی کیے گئے۔ اور پھر واقعے پر یکایک پراسرار خاموشی چھا گئی۔ کوئی نہیں جانتا کہ پھر کیا ہوا؟ اونٹ اور اس کے مالک کا اب کیا حال ہے؟ یقیناً کسی سمجھوتے نے اس واقعہ کو ماضی کا حصہ بنا دیا ہو گا۔ واقعہ ٹانگ کاٹنے کا ہو یا ذاتی دشمنی پر کسی بھینس کو زندہ جلانے کا سب ہی قابل مذمت ہیں۔
اسی طرح آج تصویر کا دوسرا رخ ایک ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا تو مجھے بھی اس دکھ میں کچھ کمی محسوس ہوئی بلکہ یوں سمجھیں کہ پڑھ کر اور دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ ویڈیو دیکھ کر احساس ہوا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے جہاں سندھ میں ایک زمیندار نے اونٹ کو کھیت میں جانے پر اس کی ٹانگ کاٹ دی وہیں دوسری جانب دیکھیں کی عید کے دن سیر و تفریح پر آنے والے کچھ نوجوان جنہوں نے روہی (چولستان) کے ویران صحرا میں اس شدید ترین گرمی میں ایک دلدل میں کئی دن سے بری طرح پھنسے ہوئے اونٹ کو دیکھا اور اس کو ریسکیو کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی پہلے اسے کھانا پانی دیا تاکہ وہ تازہ دم ہو جائے اور آخر کار اس اونٹ کو کئی گھنٹوں کی لگاتار محنت اور جدوجہد کے بعد بحفاظت دلدل سے نکال لیا اور اس کی زندگی بچا لی۔
بے شک رحم دلی ایک ایسی زبان ہے جسے بہرا بھی سن سکتا ہے اور اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھ کر ان نوجوانوں کی انسانیت دوستی کو سلام پیش کرنا پڑتا ہے۔ ویڈیو کے مطابق یہ نوجوان شہری بچے دکھائی دیتے ہیں جن کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ بے شک اسے ہی انسانیت کہتے ہیں۔ ویڈیو میں ان نوجوانوں کی تمام کارروائی محفوظ ہے۔ کوئی ان کا نام تک نہیں جانتا وہ کسی حکومتی اعزاز یا شاباش کے بھی طلبگار نہیں ہیں۔
لیکن ان کی اس کارروائی نے ہماری قوم پر سے جانوروں پر ظلم کا داغ دھو دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے اچھے اور برے لوگ ہر قوم میں ضرور ہوتے ہیں لیکن معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے پوری قوم کو قصور وار ٹھہرانا درست نہیں ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مثبت سوچ اور رویے ہی معاشرے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ قومیں ایسے ہی بنتی ہیں۔ ہمیں ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اور اس ویڈیو کو ارباب اختیار تک بھی ضرور پہنچنا چاہیے۔
یہ اسی عید الاضحیٰ کے دوران کا واقعہ ہے جو علاقہ ”چھوٹا مانا والا“ پر پیش آیا جہاں پر ایک غیر ملکی مشروب ساز فیکٹری کی بوتلوں سے لدے ہوئے ٹرک کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا۔ جونہی ہماری عوام کی نظر ان بوتلوں پر پڑی تو ساری جنتا سڑک پر پڑی ان بوتلوں پر ٹوٹ پڑی اور صرف پانچ منٹ میں اٹھا کر فرار ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ گاڑی کا ڈرائیور گرفتاری کے خوف سے بھاگ گیا تو مرد خواتین بچوں اور بڑوں نے بلا تفریق لوٹ مار شروع کر دی اور مال غنیمت سمجھ کر ٹوٹ پڑے اس لوٹ مار کی وڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تو لوٹ مار کا یہ منظر دیکھ کر حیرانی یہ نہیں ہوئی کہ ایسا کیوں ہوا؟
بلکہ حیرانی یہ ہوئی کہ لوگ کس قدر بے حس ہو چکے ہیں؟ میں سوچ رہا تھا کہ یہ چند بوتلیں مفت کا مال سمجھ کر گھروں کو لے جانے والے بھی ہمارے مسلمان بھائی ہی تھے۔ جو اس لوٹ مار میں بھی سبقت لے جانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ دکھ اس بات کا بھی ہے کہ یہ اس دوران ہوا جب پوری دنیا اور پاکستان کے مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی و ایثار کے عظیم مشن کو پورا کرنے میں مصروف تھے۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ قانون بے بس ہو کر رہ گیا۔
اس دوران انہیں یہ بھی احساس نہیں تھا کہ موبائل میں موجود کیمروں کی بے شمار آنکھیں یہ سب دیکھ رہی ہیں اور محفوظ بھی کر رہی ہیں۔ ان وڈیوز کے ذریعے شناخت ممکن بھی ہو سکتی ہے۔ اس افسوسناک واقعہ سے مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ ہماری سوچ اور رویے کیسے ہوتے جا رہے ہیں؟ ہم ایک قوم کی بجائے ہجوم کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ میں نے اس واقعہ پرایک کالم لکھا تو میرے ایک دوست کا پیغام آیا کہ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا کریں اور ساتھ ہی لکھا کہ اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایسے واقعات پورے ملک میں ہوتے رہتے ہیں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ایسی لوٹ مار دیکھنے میں آئی ہو۔
ایک ناخوشگوار واقعہ کے پیچھے بے شمار اچھے واقعات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ پھر گزشتہ روز ایسا ہی واقعہ پیر محل میں پیش آیا جہاں رات گئے اسی طرح کا ایک نجی کمپنی کا ٹریلر چک نمبر 755 گ ب کے قریب سے گزرتا ہوا ہائی وے پر الٹ گیا۔ گاؤں والوں نے متعلقہ افراد کا بھر پور ساتھ دیا۔ ڈرائیور اور عملے کو کھانا چائے اور چارپائی بستر فراہم کیا اور گاؤں کے لوگوں نے خود وہاں بیٹھ کر نگرانی کی۔ مجال ہے کہ کسی نے ایک بوتل بھی اٹھائی ہو یا اٹھانے کی کوشش بھی کی ہو۔
جی ہاں یہ بھی پاکستان ہے۔ سارا پاکستان یکساں نہیں ہے اس ملک میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ بالکل ایسا ہی واقعہ خیبر پختونخوا میں پیش آیا وہاں بھی عوام نے اسی طرح کا برتاوُ کیا اور الٹے ہوئے ٹرک کے مال کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار بات دیکھنے میں نہیں آئی۔ بے شک انسانیت وہ چیز ہے جو دشمن کو بھی سہارا دینے پر مجبور کر دیتی ہے اور احساس وہ چیز ہے جس میں غیروں کا دکھ بھی آپ کو اپنا لگتا ہے۔ عادتیں، سوچ اور زندگی کے متعلق ہمارے رویے یک دم نہیں بدلے جا سکتے یہ ایک مسلسل جدوجہد اور کوشش کا نام ہے۔ احساس کے انداز بدلنے سے تصویر کا دوسرا رخ کتنا خوبصورت ہو جاتا ہے۔ اس کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔

