دانی ماں کہاں گئیں؟
بابا آج تو اچھا خواب دیکھ کر بھی مجھے بہت رونا آ رہا ہے، یہ الفاظ آٹھ سالہ ردا کے تھے جو اس نے صبح آنکھ کھلتے ہی اپنے بابا سے کہے اور پھر ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کیا ہوا میری بیٹی کو، کیا دیکھ لیا خواب میں، ردا کے والد کا دل بیٹی کے آنسوؤں نے چیر دیا تھا۔ بابا میں نے دیکھا کہ دانی ماں واپس آ گئی ہیں لیکن وہ تو آئی ہی نہیں ہیں، ردا نے رونا ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
دانی ماں کون تھیں، افسانوی نہیں بلکہ ایک حقیقی کردار، انسان کے روپ میں فرشتہ، ابیہا اور ردا کے بابا کی پھپھو لیکن ایسی پھپھو جو کسی بھی طرح ماں سے کم نہیں تھیں۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ بھائی کے بچوں کی پرورش کی اور اپنی زندگی ان کے لئے وقف کردی۔ بھائی کے بچوں کو پالنا ایک ایسے حادثے کا نتیجہ تھا جب ان بچوں کی والدہ صرف اٹھائیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں، سب بچے چھوٹے تھے اور پھر ان پھپھو نے اپنی زندگی، ارمان اور خوشیاں ماں سے محروم بچوں کے نام کر دیے اور محبتوں کا سلسلہ اگلی نسل تک چلتا رہا جب وہ دانی ماں بنیں اور پھر ابیہا اور ردا کی زندگی کا محور ہو گئیں۔ یہ وہ احسان تھا جو صرف بھائی پر نہیں بلکہ نسلوں پر تھا جس کی ادائیگی ممکن نہیں۔
جب کوئی رشتے دار دل دکھاتا، بدلہ نہیں لیتیں، کبھی کینہ نہیں پالا، بس رو کر دل ہلکا کرتیں اور اس کے ساتھ بھی نیکی کرتیں۔ خوش نصیب تھے وہ لوگ جنہوں نے ان کی قدر کی اور بدنصیب وہ جو قدر نہیں کر سکے۔
ابیہا اور ردا کو کرونا کی وبا کے دوران بیتے لمحات اور حالات نے بہت حساس بنا دیا تھا۔ ابیہا نے اس عظیم ہستی کو کھویا تھا جس پر ٹانگ رکھے بغیر اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو خود ایک بزرگ ہوتے ہوئے بھی خدمت اور بھاگ دوڑ میں سب سے آگے ہوتی تھیں۔ دانی ماں کی جب اس دنیا سے روانگی قریب تھی اور کرونا نے پھیپھڑے قابو کر لئے تھے تو ہسپتال جاتے وقت بھی ردا کے لئے کچن میں سموسے فرائی کر رہی تھیں۔
یادیں ہوتی بہت عجیب ہیں، جب کوئی موقع ماضی کی یادوں کو تازہ کرے تو انسان بے قرار ہو جاتا ہے اور آنسوؤں پر قابو مشکل ہو جاتا ہے۔ موت نے کبھی نہیں دیکھا کہ کون انسان کتنا اہم ہے اور اس کے چلے جانے سے کسی کی زندگی کتنی متاثر ہوتی ہے، بس جو اللہ نے لکھ دیا وہ ہو کر رہتا ہے، یہ دنیا تو بس گزرگاہ ہے اور وقتی قیام گاہ جس کو انسان مستقل بنانا چاہتا ہے۔
دو ہزار اکیس میں جب کرونا نے اس گھرانے ہر حملہ کیا تو دو جنازے اٹھے، نومبر کا مہینہ قیامت بن کر آیا، سب بیمار ہوئے اور پھر محبت بھرے دو رشتے نانی امی اور دانی ماں آگے پیچھے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ ابیہا اور ردا کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ پھپھیاں، خالہ سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے جن کے زخم آج تک بھر نہیں سکے۔ گھر مکان بن گیا اور ایچ الیون اسلام آباد قبرستان ان نیک ہستیوں کا میزبان بنا، اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور ٹوٹے دلوں کو صبر عطا کرے۔ میرے کچھ اشعار پیش خدمت ہیں۔
ماں ہی تو تھیں تم اب حال دیکھو
اجڑ گئے ہیں وہ بچے تنہا کر آئی ہو
چند ہیں دیار غیر میں ان کا سوچو
پاس تھا جو بیٹا اسے بکھیر آئی ہو
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے اور جو چلا گیا وہ کبھی ہماری طرح زندہ تھا۔ اس یقین کے باوجود جانے والے کی یادیں بے چین رکھتی ہیں۔ اگر اللہ تعالٰی انسانی یادداشت میں تکلیف دہ یادوں کو وقت گزرنے کے ساتھ دھندلا نہ کرے تو پیچھے رہ جانے والوں کا زندہ رہنا ممکن نہ رہے۔ وقت کو مرہم کہا جاتا ہے جو کسی پر جلدی اثر کر جاتا ہے اور کوئی انتظار میں رہتا ہے۔
وقت کو مرہم کیسے مانا جائے
زخم نہ بھرے ہو روح سوالی
آئیں اب بات کرتے ہیں کہ دانی ماں جیسے مثالی کردار اور فرشتہ صفت شخصیت کے حامل کون لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہوتے ہیں جو دینے پر یقین رکھتے ہیں، چھیننے پر نہیں۔ اس زندگی کو صرف زبان سے نہیں عارضی کہتے بلکہ جزا اور سزا کی حقیقت پر یقین رکھتے ہیں۔ حقوق العباد کو بھی حقوق اللہ مانتے ہیں کیونکہ یہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ ایسے انسانوں میں جذبہ قربانی اور محبت غیر مشروط ہوتا ہے۔ دانی ماں جیسی ہستیاں حسد اور بغض سے پاک ہوتی ہیں جن کے وجود کی مقناطیسیت دوسروں کو محبت اور احترام کرنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سب کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ دانی ماں کہاں گئیں؟


