حکمران جب کمزور پڑنے لگتے ہیں


ناکام یا ناکامی کے دہانے پر کھڑی ریاستوں میں وسائل اور اختیارات پر چند طاقتور گروہ قابض ہو جاتے ہیں تو اسے Elite capture کہا جاتا ہے۔ اِن الیٹ گروہوں کا پہلا ہدف آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے متعدد طریقے معروف ہیں۔ ریاستی دھونس دھاندلی حکمرانوں کے ہاں عام حربہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ بظاہر طاقت کے زور پر ججوں سے من مانے فیصلے لئے جانے کی روایت سے داغدار ہے، تاہم ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں بھی کئی ایک ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جو بظاہر تو آئینی اور قانونی دکھائی دیتے ہیں تاہم ان کا مقصد ناپسندیدہ ججوں سے چھٹکارا پانا اور پسندیدہ افراد کو عہدوں پر برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کورٹ میں متعین ججوں کی تعداد یا طے شدہ عمر یا عہدے کی میعاد میں تبدیلی پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اسی عمل کو ’کورٹ پیکنگ‘ کہتے ہیں۔

یہ جسٹس منیر ہی تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے نظام کے ’نتیجہ خیز‘ ہونے کی تاویل کے ذریعے ایک ذہنی طور پر نیم مفلوج گورنر جنرل کے حکم کی توثیق کی تھی۔ یہی جسٹس منیر بعد ازاں ایک فوجی آمر کے وزیرِقانون مقرر ہوئے۔ جسٹس حمودالرحمن یحییٰ خان کے دور میں بطور چیف جسٹس پاکستان کو دولخت ہوتے چپ چاپ دیکھتے رہے۔ ملک کے پہلے منتخب وزیرِاعظم 1973 کا آئین متفقہ طور پر منظور ہونے کے ساتھ ہی عدلیہ کو زیرِ بار لانے کے لئے آئینی ترمیموں کے لئے کوشاں ہو گئے۔

جنرل ضیاءالحق نے ججوں کو پی سی او پر حلف اٹھانے کا حکم دیا تو صرف تین جج ایسے تھے جنہوں نے انکار کی جرآت کی۔ پی سی او پر حلف اٹھانے والے انہی ججوں میں سے ایک سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اپنی خودنوشت میں نواز حکومت کی بحالی کے ’جرآت مندانہ‘ فیصلے کا کریڈٹ بار بار لیتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے مگر ان کے اسی فیصلے کو ’چمک‘ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ بطور وزیرِاعظم محترمہ اکثر اپنی مرضی کے ججوں کی تعیناتی پر مُصر رہیں۔ نتیجے میں عدلیہ کے ساتھ ان کے تعلقات عمومی طور پر ناخوشگوار ہی رہے۔ اسی عرصے میں مگر ان کے حریف سیاسی خاندان کا اثر و رسوخ ایک منظم نیٹ ورک کی صورت میں عدلیہ سمیت ریاست کے تمام شعبوں میں سرایت کرتا چلا گیا۔ اس اثر و رسوخ میں بظاہر وقفہ اس وقت آیا جب مشرف نے مطیع عدلیہ کے ساتھ برسوں حکومت کی۔ تاآنکہ عین بامِ عروج پر وکلاء تحریک نے ان کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکا۔

کہا جا سکتا ہے کہ ’ناموافق عدلیہ‘ کے ساتھ شریف فیملی کا واسطہ اب سے پہلے صرف دو بار پڑا ہے۔ ایک بار جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ وزیرِاعظم نواز شریف کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی پر مُصر تھے، تو دوسری بار جب انہیں پانامہ کیس میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس سجاد کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ حکومتِ وقت کی پشت پر کھڑی تھی۔ چنانچہ حکومت عدلیہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے چیف جسٹس کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہو گئی۔

تاہم پانامہ کیس میں فیملی زیرِ عتاب آئی تو اس بار میاں صاحب تنہا تھے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے انہیں ایک مبہم الزام میں سزا سنا دی۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ اور موافق عدلیہ کے کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے۔ ان کے تین سالہ عرصہ نیم اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ ہی عدلیہ کے ساتھ احتساب سمیت دیگر معاملات کو بحیثیتِ مجموعی دیکھتی رہی۔ تاہم یہ صورتحال بہت دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔ اب تو سب جانتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں کیسے شریف خاندان نے زیرِ زمین رابطوں کے ذریعے کمال مہارت کے ساتھ معاملات سلجھائے۔

کہیں جلسے جلوسوں میں عسکری قیادت سمیت ’پانچ افراد‘ کو للکارا جاتا، تو کہیں پریس کانفرنسوں میں دو مخصوص ججوں کو ’ایمانداری‘ کا سرٹیفیکیٹ عطا کیا جاتا۔ اسی دوران سزا سنانے والے ماتحت عدلیہ کے مرحوم جج کو زیرِ دام لائے جانے کے لئے ایک ہوشربا آپریشن بھی جاری رہا۔ تاہم ان سب بظاہر مزاحمتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خفیہ مذاکرات بھی جاری رہے کہ جس کا نقطۂ عروج ’ایکسٹینشن‘ میں تعاون کو قرار دیا جا سکتا ہے۔

اپریل 2022 ء میں شریف فیملی برسرِاقتدار آئی تو اسٹیبلشمنٹ حکومت کی پشت پر کھڑی تھی۔ تاہم چیف جسٹس آف پاکستان سمیت کئی ’نا پسندیدہ جج‘ اب بھی اعلیٰ عدلیہ کا حصہ تھے۔ تاہم عدلیہ کے ساتھ کھلی محاذ آرائی کا آغاز اسی وقت ہوا جب پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کی حکومت کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا۔ کہا گیا آئین کو ’ری رائٹ‘ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ایک کے بعد ایک واقعے کے نتیجے میں محاذ آرائی بڑھتی چلی گئی۔

صورتحال یہاں تک پہنچی کہ حکومت نے ناصرف سپریم کورٹ کے آئینی احکامات کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینکنا، بلکہ چیف جسٹس سمیت ’نا پسندیدہ ججوں‘ کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوامی جلسوں میں سرِ عام ہدف تضحیک بنانا شروع کر دیا۔ اس دوران سپریم کورٹ اُن کوششوں کے نتیجے میں خود دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی، کہ جن کا آغاز ’پانچ بُرے آدمیوں‘ اور ’دو ایماندار ججوں‘ کے بیانئے سے ہوا تھا۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان اسی صورت میں ہوا جب ’ناپسندیدہ چیف جسٹس‘ ریٹائر ہو گئے۔

عدلیہ کی ناقابلِ رشک تاریخ اور اس پر ریاستی دباؤ کوئی انوکھی بات نہیں۔ تاہم کہا جا سکتا ہے کہ دو روز قبل عدلیہ ایک ایسے بڑے حملے سے بچ نکلی ہے کہ جس کی کامیابی کی صورت میں قومی اداروں کے لئے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا کئی عشروں تک ممکن نہ رہتا۔ مبینہ عدالتی پیکیج کو کہ جس کی بازگشت کئی ہفتوں سے سنائی دے رہی تھی، بیک وقت ’ترغیب‘ اور ’کورٹ پیکنگ‘ کی ایک خوفناک مثال کہا جا سکتا ہے۔ وہ حکومت جو ہائی کورٹس کے قائم کردہ انتخابی ٹریبونلز سے بچنے کے لئے رائج الوقت انتخابی قوانین کو راتوں رات بدل دے، ایک ایسی حکومت کہ جس کی سادہ اکثریت تک مشکوک ہو، اسے آئین میں ترمیم کے اختیار سے نوازے جانا، کیا اس سے بڑی کسی اور ہولناک صورتحال کا تصور بھی ممکن ہے؟

ایک بار پھر عدلیہ کے ایک بڑے حصے نے دریا کی منہ زور لہروں کے خلاف تیرنے کی ٹھانی ہے۔ ان ججوں پر حملوں میں شدت بڑھے گی۔ تاہم ان آٹھ ججوں نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہت سوں کے لئے زندگی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ وزیرِقانون ایک بار پھر آئین کو ’ری رائٹ‘ کیے جانے کا الزام دہرا رہے ہیں۔ فیصلے کے بعد ہجوم نے گھنٹوں اسلام آباد ایکسپریس وے بلاک کیے رکھی۔ ایک کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوتی رہے گی۔ پارلیمنٹ آگ اگلتی تقریروں کی منتظر رہے گی۔ اس پُرآشوب دَور میں مگر ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ حکمرانوں کو جب یہ احساس ہو جائے کہ وہ کمزور پڑ رہے ہیں، تو یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب وہ بے حد خطرناک ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS