خوشیوں کے تعاقب کی وبا ( 2 )
نئی دنیا نے پرسیوٹ آف ہیپی نیس کو قومی ترانہ بنا کر سماجی معاشی خوشحالی اور سیاسی ترقی کے ہم معانی و ہمم پلہ قرار دیا۔ ویسے پہلے اور دوسرے صنعتی انقلاب کی منفعت سمیٹنے والوں کے لیے یہ تھی بھی ایک ہی بات۔ گو سائنسی اور تہذیبی ترقی کا یہ دور باآسانی ہر انسان کے لیے ایک سی خوشحالی و فراوانی، مساوات اور انصاف، ترقی اور تعلیم کی ارزاں فراہمی کا دور ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے مساوات اور خوشحالی کے معانی کچھ اور تھے۔ ان کے خواب زیادہ بڑے تھے۔ ہتھیار بھی زیادہ مہلک تھے۔
بدلتے سیاسی منظر نامے میں استعماری قوتوں نے انسانی اور مشینی غلامی کے بل پر باہمی استحصال، قتل و غارت اور سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کی۔ یہ انسانی عظمت۔ اس کی سماجی و روحانی اقدار کی بڑی شکست تھی۔ لیکن اپنی جنیاتی بنت کی وجہ سے کسی نیوکلیس، کسی مرکزی خیال کے گرد پھیرے ڈالتے رہنا اس مٹی کی مجبوری ہے۔ مادی وسائل کی ہوس اور بکثرت فراہمی اور اس سے وابستہ خوشی نیا قبلہ تھا اور انسان سر بہ سجدہ۔ وہی کہ غم عشق گر نہ ہو گا غم روزگار ہو گا۔
پچھلے سو ڈیڑھ سو سال سے خوشی دولت کے حصول اور ریل پیل کے ساتھ نتھی ہے کہ دولت زندگی کی آسائشوں کے حصول میں مددگار ہے۔ آسائشیں تن آسانی اور لطف اندوزی کے لیے وقت مہیا کرتی ہیں۔ دولت معاشرے میں طاقت، اثر رسوخ، قبولیت، مقبولیت وغیرہ کی سہل فراہمی ممکن بناتی ہے۔ اور یہ یقینی بنایا گیا کہ ہم مساوات انصاف امن اور خوشحالی کی بجائے صرف خوشی کے تعاقب میں مبتلا رہیں۔ اور خوش تو کون نہیں رہنا چاہتا؟
مووی پرسیوٹ آف ہیپی نیس میں ول سمتھ ایک امریکی خواب کا پیچھا کرتا ہے۔ مووی اصل میں ایک کرس گارڈنر کی اسی نام کی کتاب پر بنائی گئی ہے جو اپنی زندگی میں اپنی محنت سے اپنی زندگی تبدیل کرتا ہے اور کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ اپنی دولت سے وہ دوسرے غریب اور بے گھر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کتاب بہرحال مووی کی نسبت کم گلوسی اور حقیقت کے زیادہ نزدیک ہے۔ عوام الناس مووی سے شاید یہی پیغام اخذ کریں گے کہ اگر آپ بھی خوشی چاہتے ہیں تو امیر ہو جائیں۔
مووی کے آغاز ہی سے ناظرین کا ووٹ سخت کوش مگر مجبور ہیرو کی جدوجہد کرتے ول سمتھ کے حق میں ہو جاتا ہے۔ ہم اس کی تمام تر مشکلات کے حل ہونے کے بارے میں پرامید رہتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے اس کی محنت بجا اور اس کا دل اور دماغ صحیح سمت میں ہیں۔ لیکن وہ مصر ہے کہ اسے غریبی میں نہیں بلکہ امیری میں نام پیدا کرنا ہے۔ اسے اپنے خاندان کے لیے صرف ایک محفوظ مستقبل یا کچھ بہتر زندگی نہیں چاہیے۔ اسے بہترین اعلی ترین پر آسائش زندگی چاہیے۔ اسٹیڈیم کی باکس سیٹیں۔ اسپورٹس کار۔ بڑے مکان۔ مالی فارغ البالی۔ نوکری کے لیے بھی اس کی نظر وال۔ اسٹریٹ پر ہی ہے۔
ول جو کرس گارڈنر کا کردار ادا کر رہا ہے کہانی میں مختلف مقامات کو مختلف نام دیتا ہے جیسے۔ ایک حصہ ”بس پر چڑھنا“ ہے پھر ”بیوقوف بننا۔“ ”دوڑنا۔“ ”انٹرن شپ۔“ ”ٹیکس ادا کرنا۔“ اور آخر میں جب اس کو نوکری مل جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے ”یہ حصہ۔ یہ چھوٹا سا حصہ۔ کہلاتا ہے خوشی۔“ لوگ اس بات پر زیادہ اعتراض نہیں کرتے کہ کامیابی سکرین پر اتنی آسان کیوں لگتی ہے۔ کیونکہ ہالی وڈ کی موویز میں بہرحال غربت کا تصور تھوڑا آگے پیچھے ہوجاتا ہے۔ غربت کو سمجھنے کے لیے اس کو جینا پڑتا ہے اور ہالی وڈ تک پہنچ کر شاید یوں بھی پرانی یاداشت دھندلا جاتی ہوگی۔
اعتراض کا اصل نکتہ یہ ہے کہ ایک حد تک انصاف پسند اور آزاد معاشرے سے خوشی کے تعاقب کا یہ فلسفہ باقی کی دنیا میں بلا تخصیص پھیلتا ہے تو ایک ظالمانہ خود غرضانہ وبا کی طرح ہر شخص کو لپیٹ لیتا ہے۔ آبادی اور وسائل کے اتنے متنوع تناسب کو کامیابی کے ایک انسانی کلیہ سے حل کرنا کبھی بھی ممکن نہیں رہا۔ اور اگر آپ بھی میری طرح اپنے دیس میں بس پر چڑھنے سے بیوقوف بننے اور دوڑنے سے انٹرن شپ تک کہانی کے سب حصے نپٹائے چکے ہیں تو آپ کو خوشی کے اس مختصر لمحے کی اصل قیمت کا بخوبی اندازہ ہو گا۔
دنیا کے دوسرے سرے پر ہندی مووی سیریس مین میں ایان مانی اپنی بیوی کو فور جی ماڈل سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زندگی میں یا سوئمنگ پول کے گرد بے فکری سے جینے کے لیے چار جنریشن لگتی ہیں اور اس کی بنیاد تعلیم کی اہمیت سمجھنا ہے۔ کرس کے برعکس ایان دیے گئے امکانات میں اپنے فلسفے سے اپنی متوقع کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ یہاں لوگ اپنی خوشیوں اور کامیابیوں کی توقعات کو اگلی نسل کو رول۔ اوور کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر ان کی فتح یابی کی داستانیں بھی ترتیب پاتی ہیں اور خوشیوں کا تعاقب بھی جاری رہتا ہے۔
ایک طرف خوشیوں کا حصول ہماری زندگی کا مرکزی خیال ہے تو دوسری طرف خوشی کا تصور کو اعلی سماجی آسائش اور بیش بہا مادی وسائل سے جڑا ہے جس میں کسی بھی کمی کو ہماری ناکامی اور ناخوشی کا انڈیکیٹر سمجھا جاتا ہے۔ جب تک ہم مادی اشیا حاصل اور اپڈیٹ کرتے رہیں گے ہم کامیاب اور خوش سمجھے جائیں گے۔ اور تیسرے صنعتی انقلاب کے بعد سے کامیابی اور خوشی کی یہ تبدیل شدہ تعریف دنیا کے ہر خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ مسلمان معاشروں میں بھی۔ خوشیوں کا تعاقب ہمارا حق نہیں۔ فرض عین ہے۔ اب اگر ہم بیک وقت معاشی طور پر کامیاب اور امیر۔ سماجی طور پر مشہور و مقبول۔ ذہنی طور پر ہوشیار و چالاک، ۔ جسمانی طور پر خوبصورت و تندرست۔ خاندانی طور خوش باش بال بچے دار ڈاکٹر انجنئیر یا بزنس مین۔ اور مذہبی طور پر صاحب نصاب، حج شدہ نہیں ہیں تو ہم ناکام ہی نہیں غمگین بھی ہیں۔ شاید ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر کھا گئی ہے۔ پس ہمیں ٹی وی والے عالم صاحب یا ساتھ والی آنٹی سے ایک عدد وظیفہ لے لینا چاہیے۔ وہ آنٹی نظر اور وظیفے کے بارے میں اپنی معلومات سے ہمیں شدید متاثر کر دیتی ہیں لیکن پھر ہمیں یاد آتا ہے مشکل اور آسانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ہم اس کمی پر ڈبل مائنڈڈ ہو جاتے ہیں۔
دنیا نے اپنے اپنے طور امریکن ڈریم کو قومیانے اور اپنانے کی بھرپور کوشش کی یہاں تک کہ امریکہ تمام خوابوں کی منزل بن گیا۔ ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافہ بھی ہو گیا۔ مگر خوشیوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ ہیپی نیس سروے قریبا دو دہائیوں سے انسانی خوشی کا گراف اور نیچے گرتا کیوں دکھا رہے ہیں؟ اور جو کچھ کرنسیوں کے ڈی۔ ویلیو ہونے سے خوشیوں کی قیمتیں بے تحاشا بڑھ گئی ہیں۔ پھر یہاں یہ سوال بھی حل کرنا ضروری ہے کہ اگر زندگی کا اصل مقصد خوشیاں سمیٹنا ہو اور خوشیاں بیش قیمت ہوں تو کیا فل پرائس پر لے لیں یا پھر سیل لگنے کا انتظار کریں؟ (جاری ہے۔ )


