پاکستانی امریکی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا کیا ہے، کیا کرتی ہے؟ ڈاکٹر نسیم شیخانی سے گفتگو


امریکہ میں بسے پاکستانی نژاد اطباء کی سب سے بڑی تنظیم کا نام اپنا ہے۔ آئیے آج ہم ڈاکٹر نسیم شیخانی سے اپنا کے بارے میں جانتے ہیں۔ شیخانی ایک انتہائی فعال سماجی شخصیت ہیں جو متعدد تنظیموں کے روح رواں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔

خرم نیازی: ہمارے قارئین کو اپنے متعلق کچھ بتائیں۔

نسیم شیخانی: میرا تعلق کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے ہے جہاں مجھے 1980 ء میں طلباء یونین کا منتخب صدر بننے کا تاریخی اعزاز حاصل ہوا۔ جنرل ضیاء کا تاریک دور تھا۔ مجھے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ گریجویشن کے بعد میں امریکہ چلا آیا جہاں میں نے اپنی تربیت مکمل کی۔ بعد ازاں پاکستان سے تجاہل اور تغافل کا شکار نہیں ہوا اور اپنی سطح پر کئی پروجیکٹ میں شریک رہا۔ مثلاً کوہی گوٹھ میں ہم خیال دوستوں کے ساتھ اعلی معیار کا مفت شفاء خانہ کھولا جو اب دو سو چالیس بستروں کا اسپتال بن چکا ہے۔ یہاں ایک مڈوائفری ٹریننگ پروگرام جاری ہے جس میں زیر تربیت ایک سو بچیوں کے رہنے سہنے کا انتظام ہے یہ لڑکیاں نا صرف اندرون سندھ بلکہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے دور دراز علاقوں سے آتی ہیں اور انہیں تربیت کے دوران رہائش اور کھانے پینے کے علاوہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

ڈاؤ میڈیکل کالج سے متصل لیاری کے علاقے میں بھی میں کئی سرگرمیوں میں مصروف رہا ہوں۔ ہم نے وہاں فٹ بال کھیلنے والے بچوں کی ایک ٹیم بنائی ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے یتیم اور مفلوک الحال ہیں۔ اس وقت اسی ٹیم سے نکل کر ایک لڑکا اور تین لڑکیاں پاکستان کی قومی ٹیموں کا حصہ بن چکے ہیں۔ سوچ کے نام سے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں ایک تنظیم قائم ہے اس کے ارکان ڈاؤ سے ملحقہ سول اسپتال جاکر وارڈوں کی صفائی کرتے ہیں اور سٹیپ ڈاؤن یونٹ بھی بناتے ہیں۔ میں اس تنظیم کا سپورٹر ہوں۔ کئی خیراتی اداروں کی سرپرستی کرتا ہوں۔ یہ میرا ایک مختصر سا تعارف ہے۔ اس سال پاکستان اور امریکہ میں غیر معمولی خدمات پر مجھے اپنا کے اعلی ترین گولڈ میڈل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

خرم: اپنا کیا ہے؟

شیخانی: شمالی امریکہ میں پاکستانی میڈیکل کالجوں کی المنائی ہوا کرتی تھیں۔ 1977 ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج والوں نے پہل کرتے ہوئے مشی گن میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں پھر ڈاؤ سے متعلق ڈاکٹر بھی شریک ہو گئے۔ اس طرح کئی پاکستانی میڈیکل کالجوں کی ایک انجمن وجود میں آ گئی جسے اپنا کہتے ہیں۔

س: اپنا کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟

شیخانی: ابتدائی طور پر تو مقصد صرف یہ تھا کہ امریکہ میں نووارد پاکستانی ڈاکٹروں کی رہنمائی کی جائے اور ان کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ریزیڈنسی (ٹریننگ) کے مواقع پیدا کیے جائیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنا کی سرگرمیاں بہت منظم ہو گئیں جنہیں تین کیٹیگریز میں سمجھا جاسکتا ہے۔

1۔ تعلیمی سرگرمیاں۔ ہم سالانہ چار اجلاس منعقد کرتے ہیں جن میں تین امریکہ اور ایک پاکستان میں کیا جاتا ہے جہاں طب سے متعلق جدید ترین معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ ورکشاپس کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ ہمارا ایک میرٹ پروگرام ہے جس کے تحت پاکستان کی میڈیکل جامعات کو مختلف قسم کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

2۔ خیراتی سرگرمیاں۔ پاکستان میں زلزلہ، سیلاب، ہیٹ ویو اور دیگر ناگہانی آفات میں اپنا کے اراکین اپنی بہترین طبی تربیت کے ساتھ ہم وطنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ خود امریکہ میں جہاں پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اپنا نے مفت کلینک قائم کی ہوئی ہیں (یاد رہے امریکہ میں برطانیہ کی طرح این ایچ ایس نہیں ہے۔ خرم) جہاں ڈاکٹروں کو مناسب مشاہرہ ملتا ہے ساتھ ہی پاکستانیوں اور مسلمانوں کے بارے میں رائے عامہ بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

3۔ ایڈووکیسی۔ اپنا امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور ای سی ایف ایم جی سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے اور ویزے کے مسائل اور مشکلات حل کرنے میں پاکستانی ڈاکٹروں کے مدد کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم مختلف امریکی ریاستوں (صوبوں ) کے منتخب سیاسی نمائندوں سے مل کر ان کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہم نے ایک قانونی کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

س: کیا اپنا ایک جمہوری تنظیم ہے؟

شیخانی: جی بالکل۔ اپنا ایک جمہوری ادارہ ہے جو قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کا تحریر شدہ آئین ہے۔ اس آئین کے تحت بہت باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کو 47 سال ہوئے اور اس دوران سینتالیس صدور آئے۔

س: کیا اپنا امریکہ کی سیاست میں حصہ لیتی ہے؟

شیخانی: اپنا ایک غیر سیاسی تنظیم ہے لیکن امریکی قانون کے مطابق اسے ایڈووکیسی کی اجازت ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو ہم ڈاکٹروں کے مسائل کی طرف امریکی کانگریس اور سینیٹ کے ارکان کی توجہ مبذول کراتے ہیں وہیں ہم پاکستان کے عوامی مسائل کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی حکومت کے نمائندے نہیں البتہ عوامی ایشوز کو اجاگر ضرور کرتے ہیں۔

س: نو ستمبر 2001 ء میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے دوران اپنا نے کیا کردار ادا کیا؟

شیخانی: جو پاکستانی ڈاکٹر امریکہ ہجرت کرچکے ہیں ان کے لئے امریکہ بھی وطن ہے۔ اس مشکل موقع پر اپنا نے متاثرین کے لئے فنڈز جمع کیے ۔

س: امریکی سیاسی منظر نامے پر ٹرمپ چھائے ہوئے ہیں جو مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف کھل کر گل افشانی کرتے ہیں۔ آپ لوگ اس صورتحال سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

شیخانی: پاپولزم کا عروج ایک عالمی وقوعہ ہے۔ ٹرمپ ایک پاپولسٹ رہنما ہیں جن کے جاں نثار بے شمار ہیں۔ پاکستان میں عمران خان بھی اسی طرح ایک پاپولسٹ لیڈر ہیں جن کے فدائین کچھ سننے کے لئے تیار نہیں۔ جہاں تک اپنا کا تعلق ہے ہم ایک غیر سیاسی تنظیم ہیں جس کا وجود پاکستانی ڈاکٹروں اور پاکستانی اور امریکی عوام کے لئے ہے۔ ہمارا کوئی تعلق سیاسی جماعتوں سے نہیں۔

س: امریکہ میں بھارتی نژاد ڈاکٹر کس قسم کی سرگرمیاں کرتے ہیں؟

شیخانی: امریکہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے پچیس فیصد بیرونی ممالک سے آتے ہیں ان میں سب سے بڑی اکثریت بھارت نژاد ہے۔ ان کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہے۔ ان کی تنظیم کا نام آپی ہے۔ آپی کی تمام سرگرمیاں بالکل اپنا ہی کی طرز پر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپی کا قیام اپنا کے بعد ہوا۔ یاد رہے کہ پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تعداد لگ بھگ سترہ اٹھارہ ہزار ہے۔

س: امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کو کس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے؟

شیخانی: کام کرنے کے ماحول، اعلی تربیت، سہولیات، طرز زندگی اور آمدنی کے لحاظ سے امریکہ ساری دنیا کے ڈاکٹروں کے لئے پسندیدہ ترین ملک جانا جاتا ہے۔ مسلمان ہونے کے باعث چیلنجز ضرور پیش آسکتے ہیں۔ 911 سمیت بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف منافرت بھڑکائی گئی لیکن عمومی طور پر کوئی خاص مشکل حالات نہیں۔

س: برطانیہ میں باہر سے آنے والوں کے یہاں کے ماحول میں انضمام کی اہلیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ کیا امریکہ میں بھی کچھ ایسی صورتحال ہے؟

شیخانی: برطانیہ کے مقابلے میں امریکہ میں پاکستانی اور مسلم آبادی بہت کم ہے ہماری اکثریت تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے اس لئے سماجی انجذاب کے جس بحران کا آپ نے حوالہ دیا ادھر اتنا شدید نہیں پھر بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ گرجا گھروں سمیت دوسری عبادت گاہوں میں جائیں اور بین العقیدہ میل جول اور ڈائیلاگ کا سلسلہ ٹوٹنے نہ دیں۔ جیسا میں نے ذکر کیا تھا ہماری کوئی سترہ کلینک امریکہ کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں جہاں ہمارے ڈاکٹر رنگ، نسل، عقیدہ، صنف اور جنسی رجحان سے بالاتر ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور کمیونٹی کا مثبت تاثر قائم کرتے ہیں۔

س: پاکستان کے نظام صحت کو بہتر بنانے میں اپنا نے کیا کردار ادا کیا؟

شیخانی: ہم پاکستانی میڈیکل یونیورسٹیوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ویزوں کے حصول میں نوجوان فزیشنز کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر قانونی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔ حال ہی میں پی ایم ڈی سی نے ہمارے لئے ایک علیحدہ ڈیسک قائم کی ہے جو بڑی خوش آئند پیش رفت ہے۔

س: آج کل پاکستانی خبروں میں اپنا کا تذکرہ بہت سننے کو مل رہا ہے۔ پچھلے کافی سالوں سے اپنا اور دیگر المنائی کے پلیٹ فارم پاکستانی انفلوئنسر کو دیے جاتے رہے ہیں جس پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ آپ کیا کہیں گے؟

شیخانی: اپنا کی میٹنگز میں ایک حصہ سوشل فورم کا ہوتا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز 2006 ء سے ہوا۔ اس سے پہلے اپنا صرف پاکستانی حکومت کو سپورٹ کرتی تھی۔ یاد رہے کہ 2006 ء میں پاکستان میں مشرف کا مارشل لاء لگا ہوا تھا۔ ہم نے آہستہ آہستہ یہ سمجھانا شروع کیا کہ ہمیں پاکستانی حکومت کے بجائے پاکستانی عوام کا ترجمان بننا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ شخصیات نمودار ہوتی ہیں اور رخصت ہوجاتی ہیں۔ فی الوقت عمران خان ہیں اور دیگر سیاستدان بھی ہیں۔

اس معاملے میں دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیاں ہونی ہی نہیں چاہیئیں۔ دوسرا نکتۂ نظر یہ ہے کہ اگر اسٹیج ایک پارٹی کو دیا جا رہا ہے جیسے اس دفعہ انہوں نے پی ٹی آئی کو دیا تو دوسری جماعت کو بھی موقف پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ میں ذاتی طور پر مہذب اظہار خیال اور مباحثہ کے حق میں ہوں۔

 

Facebook Comments HS