پروفیسر ساجد صاحب کے ساتھ ایک ملاقات
دو روز پہلے، مجھے، فیس بک پر فعال ”پاکستانی ان ڈوئچ لینڈ“ نامی گروپ کے روحِ رواں، میونخ میں مقیم، عزیزی شارق جاوید صاحب کا فون آیا کہ وہ برلن میں ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ، بروز اتوار، مورخہ چودہ جولائی قبل از دوپہر، ایک پاکستانی ریستوران میں مل کر ناشتہ کرنے کا پلان بنایا ہے جس میں وہ مجھے مدعو کر رہے ہیں۔ اس غیر رسمی ملاقات کا کوئی باقاعدہ ایجنڈا نہیں ہے۔
آج علی الصبح فون پر بات چیت کے دوران انہوں نے مجھے میرے گھر سے لینے کی پیش کش کی لیکن میں نے انہیں منع کیا کیونکہ مذکورہ ریستوران میرے گھر سے پیدل فاصلے پر ہے اور میں اپنی روزانہ کی سیر کا متبادل سمجھتے ہوئے، پیدل چل کر پہنچنا چاہتا تھا۔
قبل از دوپہر، درجہ حرارت اکیس درجے سینٹی گریڈ ہونے کے باوجود، دھوپ میں شدت تھی اور سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ تھرمامیٹر پر نظر آنے والا، درجہ حرارت ایک دھوکا ہوتا ہے جدید ماہرین نے تھرمامیٹر پر دکھنے والے ہندسوں کے لئے ایک فیل لائیک نامی اصطلاح، یعنی جسمانی احساسی درجہ حرارت، متعارف کروائی ہے جو موسم گرما میں زیادہ اور سردیوں کے موسم میں کم ہوتی ہے۔ خاکسار نے پیدل چلنے کا خیال ترک کیا اور پارکنگ ایریا سے اپنی کار نکال کر ریستوران پہنچ گیا
میرے وہاں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد پروفیسر غلام حسین ساجد صاحب اپنی فیمیلی کے ساتھ تشریف لائے۔ میرے لئے یہ ایک نہایت خوش گوار حیرت تھی۔ میں، ساجد صاحب کو صرف فیس بک کے حوالے ہی سے جانتا تھا/ہوں۔ وہ میرے فیس بکی دوست ہیں اور نہ ہی میں آج تک، ان سے پہلے کبھی، بنفس نفیس، ملا تھا۔
اس کے بعد ، جناب شارق جاوید، جناب سرور غزالی، جناب عارف سومرو کے علاوہ دوسرے، میرے لئے اجنبی، دوست بھی پہنچ چکے تھے۔ ناشتے کا آرڈر دینے کے بعد ہم سب آپس میں گفتگو کرتے رہے۔ مجھے پروفیسر ساجد صاحب سے گفتگو کرنے کا بہت لطف آیا۔ انہوں نے اردو ادب کے حوالے سے اپنی مشہورِ زمانہ اُردو اور پنجابی زبانوں میں تخلیقات کا ذکر کیا۔ اور سبھی شرکائے محفل، ان کی خوبصورت باتوں سے، بھرپور لطف اندوز ہوئے۔ ناشتے کے دوران بھی ہلکی پھلکی گفتگو چلتی رہی۔ ناشتے کے اختتام پر جناب شارق جاوید نے سبھی حاضرین کو اپنا اپنا تعارف کرانے کی درخواست کی تاکہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے سبھی حضرات ایک دوسرے سے متعارف ہو سکیں۔ آج کل، اردو ادب کی مناسبت سے پروفیسر ساجد صاحب، جناب سرور غزالی اور خاکسار کے علاوہ، دوسرے سبھی دوست آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
حاضرین مجلس نے اُردو اَدب کے حوالے سے سوالات بھی کیے اور دلچسپ بحث و مباحثہ ہوا۔ ایک نوجوان دوست کی فرمائش پر پروفیسر غلام حسین ساجد صاحب نے اپنی ایک خوبصورت غزل بھی سنائی
شمع روشن ہو نہ ہو آنکھوں کی تابانی تو ہو
دن ڈھلے بامِ اُفق پر کوئی آسانی تو ہو
کون کہتا ہے قدم دہلیز سے باہر پڑے
دشت یاد آئے نہ آئے، گھر میں ویرانی تو ہو
کوئی نسبت تو روایت سے بھی رہنی چاہیے
آئنہ چونکے نہ چونکے وصفِ حیرانی تو ہو
وہ کسی دن جب اچانک سامنے آ جائے تو
دل میں چنگاری نہ ہو پر آنکھ میں پانی تو ہو
جس گلی میں زندگی برباد کرنی ہے ہمیں
اُس گلی میں کارِ وحشت کی فراوانی تو ہو
وصل کی خواہش اگر پوری نہیں ہوتی نہ ہو
پر کسی کے دور رہنے سے پریشانی تو ہو
در گُزر کرتا ہوں ساجد میں فقط یہ سوچ کر
آپ کا مد مقابل آپ کا ثانی تو ہو
پروفیسر صاحب کی خوبصورت غزل سننے کے بعد کچھ مزید گفت و شنید ہوئی۔ اور یہ خوبصورت ادبی، فکری اور علمی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔




