کیا ہمیں کسی نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے؟


سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے "عوام پاکستان” کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق گورنر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب عباسی بھی اس جماعت کے بنانے والوں میں شامل ہیں ۔ ان تینوں سیاست دانوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے رہا ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس جماعت کو مسلم لیگ (ن) کا ناراض گروپ قرار دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس جماعت میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہو جائیں۔ شاہد خاقان عباسی دعویدار ہیں کہ انہیں اپنی سیاسی جماعت کا بہت اچھا ردعمل ملا ہے اور جلد بہت سے نمایاں سیاست دان اور دیگر افراد ان کی جماعت کا حصہ بن جائیں گے۔

جہاں تک سیاسی جماعت بنانے کا تعلق ہے تو پاکستان میں موجود قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی سیاسی جماعت بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں کی بہتات ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 175 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ کم و بیش ہر سیاسی جماعت خود کو قومی سطح کی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے۔ جبکہ ہمیں چند ایک کے علاوہ باقی جماعتوں کے نام تک سے آشنائی نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ ہمارے ہاں اعجاز الحق کی جماعت مسلم لیگ ضیا موجود ہے۔ بالکل اسی طرح شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی موجود ہے۔ یہ دونوں ون مین پارٹی ہیں۔ الیکشن میں بھی غالبا ایک ایک سیٹ پر الیکشن لڑتی ہیں اور بمشکل اسمبلی میں پہنچتی ہیں۔ پاکستان میں یہ عجیب رواج موجود ہے کہ کوئی بھی شخص اٹھتا ہے اور سیاسی جماعت بنا ڈالتا ہے۔ یہاں پر کوئی جج ریٹائرڈ ہوتا ہے اور سیاسی جماعت بنا لیتا ہے جیسا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بنائی۔ فوجی جرنیل ریٹائرڈ ہوتا ہے تو وہ سیاسی جماعت بنا لیتا ہے جیسا کہ جنرل حمید گل اور جنرل اسلم بیگ نے بنائیں۔ کوئی سیاست دان اپنی جماعت میں کسی بھاری بھرکم عہدے سے فارغ ہوتا ہے یا کسی وجہ سے ناراض ہوتا ہے تو سیاسی جماعت بنا لیتا ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر بھی سیاسی جماعت بنا لیتا ہے جیسا کہ جنرل مشرف نے بنائی تھی۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی اپنی سیاسی جماعت بنا لی تھی۔ اپنے زمانے کے معروف گلوکار جواد احمد نے بھی ایک سیاسی جماعت بنا رکھی ہے۔ ذرا سوچئے کہ ان تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کا کیا بھلا کیا؟ پاکستان کے بھلے کو ایک طرف رکھیے۔ یہ غور کیجئے کہ کیا ان سیاسی جماعتوں نے ملکی سیاست پر کوئی اثر ڈالا؟ یا ان سیاسی جماعتوں کی موجودگی نے پاکستانی عوام کو کوئی فائدہ پہنچایا ؟ سچ یہ ہے کہ ہمیں بیشتر جماعتوں کے نام بھی یاد نہیں ہیں۔

اب ذرا بھارت پر نگاہ ڈالیں۔ وہاں صرف 6 رجسٹرد جماعتیں ایسی ہیں، جنہیں قومی جماعت کا درجہ حاصل ہے۔ جبکہ دیگر 57 جماعتیں سٹیٹ پارٹیز کہلاتی ہیں۔ امریکہ میں صرف دو جماعتیں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن انتخابی میدان میں دکھائی دیتی ہیں۔ برطانیہ میں بھی دو جماعتی نظام موجود ہے۔ برسوں سے وہاں لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی حکمرانی کرتی ہیں۔ پاکستان میں کچھ لوگ دو جماعتوں کی حکومت کو باریوں کا نام دیتے ہیں، یہ دیکھے بغیر کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی دہائیوں سے دو جماعتیں ہی حکومت کر رہی ہیں۔

اب چونکہ پاکستان میں جماعت بنانا نہایت آسان ہے۔ سو کوئی بھی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ جہاں تک شاہد خاقان عباسی کا تعلق ہے تو وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں ۔ وہ صاف ستھری شہرت کے حامل ہیں۔ سردار مہتاب اور مفتاح اسمعیل پر بھی کرپشن وغیرہ کا کوئی داغ نہیں ہے۔ یہ تینوں پڑھے لکھے بھی ہیں۔ سو سیاسی جماعت بنانا ان کا حق ہے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ہمیں مزید کسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو درپیش مسائل کا حل کوئی نئی سیاسی جماعت ہے؟ کیا کوئی نئی جماعت او ر اس میں شامل افراد اس قدر قابلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکیں؟ آج کل شاہد خاقان عباسی مختلف ٹیلیویژن چینلوں پر انٹرویوز دے رہے ہیں۔ چند انٹرویوز میری نگاہ سے بھی گزرے ہیں۔ شاہد خاقان سے سوال ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی منشور کیا ہے؟ یا یہ کہ وہ کس طرح ملک کو مسائل کے انبوہ سے نکالیں گے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ تاہم ان کے پاس بتانے کے لئے کوئی واضح ایجنڈا یا منشور نہیں ہے۔ وہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں، جو مسلم لیگ (ن) کا نعرہ ہے۔ وہ فارم 47 کی حکومت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جو تحریک انصاف کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔

اس نئی جماعت کے بارے میں یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ جب شاہد خاقان وزارت عظمیٰ جیسے منصب بلند پر تھے، تب وہ کیا تبدیلی لائے تھے۔ یہی سوال مفتاح اسماعیل اور سردار مہتاب عباسی سے بھی ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ بقول شاہد خاقان، انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو نظریاتی اختلافات کی وجہ سے خیرباد کہا ۔ لیکن ابھی تک ان کی بہن سعدیہ عباسی مسلم لیگ (ن) کی سینٹ کی سیٹ پر براجمان ہیں۔ کیا اصولی طور پر انہیں یہ سیٹ چھوڑ نہیں دینی چاہیے۔ یہ سوال بھی ہو رہا ہے کہ یہ تینوں صاحبان جنہوں نے "عوام پاکستان” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی ہے، ان کا تعلق اشرافیہ سے ہے, وہ عوام کے مسائل سے کس حد تک آگہی رکھتے ہیں۔ ان سینیئر سیاست دانوں کی عمروں کا حوالہ دے کر یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو اڑان بھرنے اور مقبولیت حاصل کرنے کیلئے برسوں درکار ہوتے ہیں۔ کیا ان سیاست دانوں کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس نئی سیاسی جماعت کی مقبولیت کیلئے دس بیس سال انتظار کر سکیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

کیا یہ بہتر نہ ہو کہ الگ الگ سیاسی جماعتیں بنانے کے بجائے، شاہد خاقان جیسے اچھے سیاست دان اپنی پرانی جماعتوں میں رہ کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کام کریں۔ اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی سیاست میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ پارٹی کے اچھے برے فیصلوں اور پالیسیوں پر اثر انداز ہوں۔ کسی جماعت میں رہ کر کسی نہ کسی سطح اور کسی نہ کسی معاملے پر اثر انداز ہونا، الگ پارٹی بنا کر سیاسی منظر نامے سے غائب ہو جانے سے کہیں بہتر ہے۔ پاکستان اس وقت مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی انتشار، کمزور عدالتی نظام، بجلی، گیس، پانی کے مسائل، تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان۔۔۔ یہ اور ایسے ان گنت مسائل نے عوام کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے۔ اس وقت ہمیں نئی سیاسی جماعتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت تین بڑی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ سیاسی تقسیم اور انتشار کا شکار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تقسیم بھی ختم ہو۔ یہ سیاسی جماعتیں ملک کے مسائل کے حل کے لئے مل بیٹھیں۔ کجا یہ کہ نئی نئی سیاسی جماعتیں بنا کر پہلے سے موجود تقسیم میں اضافہ کیا جائے۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ عوام پاکستان پارٹی سیاسی منظر نامے میں کیا تبدیلی لاتی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ جماعت کوئی بھی تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS