اندور: مہارانی اہلیا بائی ہلوک، مرہٹے، جاٹ اور مغل حکمران


1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے,

جب ہماری گاڑی رتلم سے نکلی تو میں نے نقشے میں دیکھا کہ ہم مدھیہ پردیش میں داخل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ہم دلی سے چنائی جاتے ہوئے مدھیہ پردیش کے مشرق سے گزرے تھے اور اب ہم اس کے مغرب سے گزر رہے تھے۔ ہمارے بائیں طرف راجستھان جب کہ دائیں طرف مدھیہ پردیش تھا۔ میں نے کتاب میں اندور شہر اور اندور ریاست سے متعلق بہت ہی دلچسپ باتیں پڑھیں جس سے مجھے اس علاقے کے بارے میں مزید جاننے کا شوق پیدا ہوا۔ رتلم سے ایک صاحب ہماری ٹرین میں سوار ہوئے جن کا تعلق اندور سے تھا۔ میں نے ان سے اس شہر کے بارے میں کافی معلومات حاصل کیں۔ جن کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ اس علاقے کے بارے میں جان کر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمیں تو ہندوستان کے بارے میں بہت ہی کم علم ہے۔

این کے حرکاوات کی کتاب The Indore State Hand Book: The Postal History of Indore State from 1829-1950جو 1974 ء میں شائع ہوئی میں تفصیل سے اس ریاست کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اندور کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ مالوا کے حکمرانوں کے ماتحت تھا۔ وہ بہت ہی خوشحال اور اثر رسوخ والے لوگ تھے۔ انھیں ہمیشہ مغل حکمرانوں کی سرپرستی حاصل رہی ۔ یہ علاقہ مدھیہ پردیش کے مغرب میں واقع ہے اور مدھیہ پردیش کا سب سے اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔ اس شہر کو منی ممبئی بھی کہا جاتا ہے ۔

تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مئی 1724 ء میں نظام اور مرہٹہ پیشوا باجی راؤ کے درمیان ایک معاہدے کی رو سے پیشوا نے مالوا پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا اور اپنے کمانڈر ملہار راؤ ہولکر کو صوبے کا صوبیدار (گورنر) مقرر کیا۔ بعد ازاں ملہار راؤ ہولکر کو ایک وسیع علاقہ دے کر ریاست ہولکر کی بنیاد رکھی اور اس کا دارالحکومت مہیشور منتقل کردیا۔ اس کے باوجود اندور کی اہم تجارتی اور فوجی مرکز کی حیثیت قائم رہی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہولکر قبیلے کے سردار ملہار راؤ ہولکر نے ایک جنگ میں فتح حاصل کی اور اندور کا شہر بطور مالِ غنیمت اس کے ہاتھ لگا۔

اس ریاست نے مرہٹوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے کئی جنگیں لڑیں مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد اس ریاست کے جانشینوں نے انگریزوں کے ساتھ صلح کر لی اور ان کی ایک طفیلی ریاست کے طور پر رہنے لگے۔ اب تک میں نے جو پڑھا اس کے مطابق ہندوستان کی اکثر ریاستوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر کسی نہ کسی مقامی ریاست کے خلاف جنگ کی اور اس طرح اپنی ریاست بچانے میں کامیاب ہوئے لیکن جب انگریزوں نے ان کی ریاست پر حملہ کیا تو وہ اپنی ریاست کو بھی نہ بچا سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک مرہٹہ اور اس کی ذیلی ریاستیں بھی ہیں۔ اندور بھی انھی میں شامل ہے۔

تیسری اینگلو مراٹھا جنگ میں ہولکر حکمرانوں کو شکست ہوئی جس کے نتیجے میں 1818 ء کو انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ریاست اندور کے دیوان تتیہ جوگ نے انگریزوں اور ریاست کے حکمرانوں کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس میں ہولکر خاندان کی ریاست پر حکمرانی قائم رہی۔

ابتدائی دور میں جنگی حالات کی وجہ سےتیس سال تک اس ریاست کی حکمرانی ایک عورت کے ہاتھ رہی۔ ان کا نام اہلیا بائی ہولکر تھا جو 1725 ء کو مہاراشٹرا ، احمد نگر ، جام کھیڈ کے چونڈی گاؤں میں ایک راؤ سردار کے ہاں پیدا ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اندور ریاست کا حکمران ملہار راؤ ہولکر ایک گاؤں کے پاس سے گزر رہا تھا تو اس نے اسے دیکھا اور اسے اپنے بیٹے کی بیوی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح یہ خاتون ایک عام سے قصبے سے محل میں آ گئی۔ اس وقت اہلیا بائی کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ گا ؤں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے اہلیا بائی کے والد نے انھیں گھر پر ہی لکھنا پڑھنا سکھایا

جاٹوں نے 1754 ء میں ایک جاٹ مہاراجہ سورج مل کی قیادت میں دلی پر چڑھائی کی تو مغل سردار عماد الملک کے کہنے پر اہلیا بائی کے شوہر کھنڈ راؤ ہولکر نے جاٹوں کے خلاف ایک زبردست جنگ کی۔ کشمیر میں ایک لڑائی کے دوران کھنڈ راؤ ہولکر اپنی فوج کا معائنہ کر رہا تھا کہ جاٹ فوج نے اس پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں وہ مارا گیا۔ رواج کے مطابق اہلیا بائی کو بھی ستی ہونا تھا لیکن ملہار راؤ نے اہلیا بائی کو ستی کرنے سے منع کر دیا۔ ملہار راؤ ہولکر حکومت کرتا رہا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا پوتا حکمران بنا لیکن وہ بھی جلد ہی فوت گیا۔ کسی مرد کے نہ ہونے کی وجہ سے اہلیا بائی اندور کی حکمران بن گئیں اور تیس سال تک ریاست کی حکمران رہیں۔۔ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔

آروند جاولیکر نے اہلیا بھائی کے متعلق ایک کتاب Lokmata Ahilyabaiکے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب کے مطابق اہلیا بائی نے اس علاقے میں بے شمار ترقیاتی کام کیے اور اس دور میں ہونے والی تمام جنگوں کی قیادت بھی خود ہی کی۔ وہ ایک مذہبی خاتون تھی ۔ اس نے ہندوؤں کےلیے بے شمار مندر ، گھاٹ ، کنویں اور سرائیں تعمیر کروائیں۔ اس نے ایک نادار بچے کی کفالت کا انتظام کیا جس کی یاد میں اندور کے شہریوں نے 1996 ء میں ان کے نام پر ایک ایوارڈ ترتیب دیا جو ہر سال کسی نہ کسی اہم شخصیت کو دیا جاتا ہے۔ اہلیا بائی سے متعلق بہت سے لوگوں نے بے حد خوبصورت باتیں لکھی ہیں ۔ پنڈت نہرو نے جو کہا وہ کچھ یوں ہے۔

وسطی ہندوستان میں اندور کی اہلیا بائی کا دور تیس سال تک رہا۔ جو ایک افسانہ لگتا ہے۔ اس دور میں بہترین نظام اور اچھی حکومت غالب رہی اور لوگ خوشحال ہوئے۔ وہ ایک بہت ہی قابل حکمران اور منتظم تھیں جو اپنی زندگی کے دوران انتہائی خدا ترس اور نیک خاتون جانی جاتیں تھیں اور بے شمار لوگ اس کی بے حد عزت کرتے تھے۔ بھارتی حکومت نے ان کے نام کا ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے۔

انگریزوں کے عمل دخل ،ریاستی حکمرانوں کی علم دوستی اور عوام الناس کے جذبہ خیر خواہی کی وجہ سے 1906 ء میں شہر بھر میں بجلی کی فراہمی کا کام شروع ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہر میں 1909 ء فائر بریگیڈ کا عملہ بھی تعینات تھا۔ اس شہر میں 1918 ء پہلا ماسٹر پلان ایک انگریز آرکیٹیکٹ اور ٹاؤن پلانر ،پیٹرک گیڈیز سے تیار کروایا گیا۔

بعد ازاں آنے والے ہولکر خاندان کے حکمرانوں نے بھی ریاست کی ترقی میں بے حد اہم کارنامے سر انجام دیے۔ اس دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا جو اس ریاست کے حکمرانوں کی انصاف پسندی کی اہم نشانی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ توکوجی راؤ کے دور میں ایک رقاصہ قتل ہو گئی جس کا الزام راجہ پر لگا۔ اس الزام کی وجہ سے راجہ کو تخت سے علیحدہ کرد یا گیا۔ یشونت راؤ ہولکر دوم، اندور ریاست کے آخری حکمران تھے جنہوں نے 1950 ء میں بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اب یہ علاقہ مدھیہ پردیش کا حصہ ہے۔

اندور شہر میں ایک تاریخی محل ہے جس کا نام راجوادہ ہے۔اسے دو صدیاں قبل مراٹھا سلطنت کے ہولکر خاندان کے بانی ملہار راؤ ہولکر نے 1747 ء میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ ایک سات منزلہ عمارت ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اسے ہولکر محل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس وقت یہ اندور کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں رانی اہلیا بائی کا مجسمہ ایک چشمہ اور مصنوعی آبشار بھی موجود ہے۔

تاریخی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر دو ہزار سال پرانا ہے۔ ماضی میں اس کا نام اندرا پورہ تھا لیکن اب اسے اندور ہی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں واقع سورج مندر بھی ہندوؤں کے نزدیک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اندور مدھیہ پردیش کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی بیس لاکھ سے بھی زائد ہے۔ یہ مالوا پلوٹو کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔اونچائی پر ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں گرمی نسبتا ً کم ہوتی ہے۔ یہ شہر ریاست کے دارالحکومت بھوپال سے 190 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ پرانے وقتوں میں یہ شہر دکن اور دلی کے مابین تجارتی قافلوں کی گزرگاہ تھا۔ اس وجہ سے یہ شہر تجارتی نقطۂ نظر سے بھی بے حد اہم تھا۔

اسمارٹ سٹیش، مشن کے تحت اسمارٹ سٹی کے طور پر تیار کیے جانے والے سو ہندوستانی شہروں میں سے اندور کو بھی ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ شہر مسلسل چار سال تک پورے بھارت میں صفائی کے لحاظ سے اول نمبر پر رہا ہے۔ گاڑیوں کی پیداوار کی وجہ سے اسے بھارت کا ڈیٹرائیٹ بھی کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں سے سومیترا مہاجن، مسلسل پچیس سال سے بی جے پی کی طرف سے الیکشن جیتتی آ رہی ہیں۔

Tuko ji rao III – Maharaja Holkar
Facebook Comments HS