دستاویزات کی تصدیق کا مشکل عمل۔۔۔ وگرنہ گویم مشکل
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بوریوالا کے ایک نواحی گاؤں کے ہائی سکول میں بطورِ ہیڈماسٹر تعینات تھا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے وہاڑی میں ماہانہ میٹنگ بلوائی ہوئی تھی اور مجھے بھی اس میں شرکت کرنا تھی۔ میں اس خیال سے ایم سی ہائی سکول بورے والا میں پہنچ گیا کہ یہاں سے بھی ہیڈ ماسٹر نے میٹنگ میں جانا ہے اکٹھے مل کر جائیں گے لیکن یہاں کے ہیڈماسٹر وقت کے کچھ زیادہ ہی پابند تھے وہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہاڑی کے لیے نکل چکے تھے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ دو اڑھائی سو کے قریب طلباء ہیں جن کے ہاتھوں میں داخلہ فارم پکڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں تصدیق کروانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ داخلہ فارم ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس کی تصدیق ہیڈماسٹر کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا اور ہیڈ ماسٹر سارے کے سارے ہی ماہانہ میٹنگ میں شرکت کیلئے وہاڑی گئے ہوئے تھے اور داخلہ فارم بورڈ میں بھیجنے کی آج آخری تاریخ تھی. کل سے یہ فیس دوگنا ہو جانا تھی میں نے بچوں کی اتنی بڑی تعداد کو پریشان حال دیکھ کر وہاڑی میٹنگ میں شرکت کیلئے جانے کی بجائے ان بچوں کے داخلہ فارم تصدیق کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے ایک ملازم کو گھر بھیج کر وہاں سے اپنی سٹمپ منگوا لی۔ دفتر کے سامنے گراؤنڈ میں میز کرسی رکھ کر وہاں پر ڈیرا لگا لیا۔
تین چار مقامی اساتذہ کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ ایک طرف باؤجی کو بیٹھا دیا گیا اس کے بعد ملازم سے کہا کہ تصدیق کروانے والے جتنے بھی طلبا پھر رہے ہیں سب سے کہو کہ اس گراؤنڈ میں آکر قطاروں میں بیٹھ جائیں۔ اُن کے فارموں کی تصدیق یہیں پر ہو گی۔ اب ایک ایک لڑکا اٹھ کر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے اساتذہ کے پاس آتا وہ اس کا نام چیک کرتے, کسی بھی قسم کی غلطی یا کمی کوتاہی کی صور ت میں اس کی درستی کرواتے اور اس فارم پر سائن کر کے میرے پاس بھجوا دیتے۔ میں اس ایک فارم پر پانچ مختلف جگہوں پر سائن کر کے باؤجی کے پاس بھجوا دیتا اور باؤجی اس پر مہریں لگا کر تصدیق کا کام مکمل کرکے فارم متعلقہ طالب علم کو دے دیتے۔ تقریباً چار ساڑھے چار گھنٹوں کے بعد وہاں پر موجود تمام طلبا کے داخلہ فارمز کی تصدیق کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ یہاں سے فارغ ہو کر میں ریٹائرنگ روم میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اسی سکول کے ایک ٹیچر میرے پاس تشریف لائے اور بولے کہ آپ کو دستخط کر نے کا بہت شوق ہے لگتا ہے اپنی مہر بھی آپ اپنی جیب میں ہی رکھتے ہیں جہاں کہیں موقع ملتا ہے دستخط کر کے مہر ثبت کر نے میں دیر نہیں کرتے۔ ویسے اس کی بات بھی کافی حد تک درست تھی اگر کوئی اور ہیڈماسٹر ہوتے تو وہ ہر فارم پر کوئی نہ کوئی اعتراض ضرور کرتے۔ مثلاً تم میرے سکول کے نہیں ہومیں تمہیں جانتا نہیں ہوں تمہارے دستخط ایک دوسرے سے ملتے نہیں ہیں اس نے ان دو اڑھائی سو لڑکوں میں سے زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس لوگوں کے فارم تصدیق کرنا تھے۔ جبکہ بقیہ لوگوں کو بے نیل مرام واپس لوٹنا پڑتا۔
مذکورہ ٹیچر اسی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ اگر میں آج ان لوگوں کے فارم تصدیق نہ کرتا تو ان سب لوگو ں کو پندرہ سو روپے لیٹ فیس کے پڑجانے تھے۔ میں نے بچوں کو اس فضول جرمانے سے بچانے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے۔ اس ساری بحث کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ سرکاری طور پر اگر کسی فرد کے پاس اختیارات ہیں اول تو وہ بذاتِ خود ہی دوسرے لوگوں کو سہولت اور آسانی فراہم کرنے میں بہت محتاط بلکہ بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی فرد ان اختیارات کو پبلک انٹرسٹ میں فیاضانہ طریقے سے استعمال کرتا ہے تو اُسے اردگرد کے لوگ کچھ اچھا محسوس نہیں کرتے جیسا کہ اوپر کی مثال سے ظاہر ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پینڈو لوگ اول تو شہر میں آنے سے ہی گھبراتے تھے۔ لیکن اگر کبھی کسی فارم یا سرٹیفیکیٹ کی تصدیق درکار ہوتی تو اس کیلئے سو پاپڑ بیلنے پڑتے۔ گاؤں سے ڈیڑھ دو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے پہلے حاجی شیر کے بس سٹینڈ پر آتے وہاں پر بس میں گھسڑم گھسڑا کے بوریوالا میں آتے۔ اس بس سٹینڈ پر اتر کر پھر تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے شہر میں پہنچتے۔ اُن دنوں فوٹو سٹیٹ مشینیں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے پہلے سرٹیفیکیٹ کو کسی ٹائپسٹ سے ٹائپ کروایا جاتا تھا پھر تصدیق کیلئے گرٹیڈ افسر کو ڈھونڈنا پڑتا۔
کالج میں ان لوگوں کی دستیابی کے زیادہ چانسز ہوا کرتے تھے۔ وہاں پر کسی کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر اُسے تصدیق کے لیے درخواست کرتے کچھ لوگ تو سرے سے ہی انکار کر دیتے اگر کوئی فراخ دل صاحب اس کام کیلئے تیار بھی ہو جاتے تو وہ اصل دستاویز کا ٹائپ کردہ کاپی کے ساتھ بڑی باریک بینی سے موازنہ کرتے۔ پن سے کہیں کوما،کہں فل سٹاپ اور کہیں سپیلنگ کی غلطیاں نکالتے جاتے اور اس سارے کاغذ کو نیلو نیل کر کے ہمیں واپس تھما تے ہوئے حکم صادر فرماتے کہ جاؤ اسے درست کر کے لاؤ۔ ہم کالج سے واپس ٹائپسٹ کے پاس آتے اس سے دوبارہ ٹائپ کروا کے واپس کالج پہنچتے تو اکثر تو وہ موصوف کہیں جا چکے ہوتے۔ اب کسی اور کے منت ترلے کرنے پڑتے اور بعض اوقات تو یہ نئے صاحب اس نئے پرنٹ سے غلطیاں بھی نئی نکال کر ہمارا کام ایک بار پھر بڑھا دیتے۔ اگر اﷲ اﷲ کر کے سرٹیفیکیٹ پر تصدیقی دستخط ثبت ہو بھی جاتے تو عموماً دفتر سے کلرک غائب ہوتا۔ اگر وہ خوش بختی سے مل جاتا تو اسے مہر نہ ملتی۔ گویا کہ کسی دستاویز کی تصدیق کروانا کسی بھی طرح جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوا کرتا تھا۔
جب ہم سرکار کے نوکر ہو کر تصدیق کرنے کے قابل ہوئے تو ہم نے ایک مہر بنا کر گھر میں بھی رکھ لی۔ دفتر میں ایک مہر باؤ کے پاس ہوتی اور ایک اپنے پاس رکھتے جو بھی فرد تصدیق کروانے کے لیے آتا تو جھٹ پٹ دستخط اور مہر کا کام نمٹا کر اُسے چلتا کرتے۔ بلکہ بعض اوقات میں راؤنڈ پر ہوتا لوگ میرے پیچھے وہاں پر پہنچ جاتے میں وہیں پر چلتے چلتے ہی سائن کر دیتا۔ میرے اس رویہ کو دیکھتے ہوئے میرے اکثر ماتحتوں کا میرے بارے میں یہ گمان تھا کہ میں ایک اچھا افسر نہیں ہوں۔ بلکہ اکثر سیانے قسم کے ماتحت مجھے مفت مشورے سے بھی نوازتے کہ ان لوگوں کا کام فوراً مت کیا کریں بلکہ انہیں انتظار کروایا کریں۔ اس سے آپ کے مقام ومرتبے اور عزت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے برعکس میں نے تو گھر میں بھی ایک سٹمپ رکھی ہوئی تھی اور بچوں کو ہدایت کی ہوئی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بھی کوئی شخص تصدیق کے لیے آئے تو میرے دستخطوں کی گھگھی مار کر اور مہر لگا کر تصدیق کا عمل مکمل کر دیا کریں۔ میرے اس سارے رویے کی پیچھے تصدیق کروانے کے سلسلہ میں جھیلی ہوئی وہ سب مشکلات تھیں جو مجھے پیش آیا کرتی تھیں۔
لیکن اس طرح آنکھیں بند کر کے گھگھی مارنے سے کبھی کبھار مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ جا تا۔ میں اُن دنوں گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول بورے والا میں ڈپٹی ہیڈ ماسٹر تعینات تھا ایک دن میرے ہیڈ ماسٹر صاحب اپنی سیٹ پر بیٹھے ڈاک دیکھ رہے تھے کہ اچانک میری طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے کہ خالد صاحب یہ آپ نے کیا کیا ہے۔ کل آپ نے مجھے غیر حاضر کر دیا۔ میں نے ا س بات کی تردید کی تو انہوں نے کل کی مانیٹرنگ والوں کی ایک رپورٹ میرے سامنے رکھ دی۔ جہاں بڑے واضح حروف میں درج تھا کہ ہیڈماسٹر غیر حاضر ہے اور نیچے مابدولت کے دستخط پوری آن بان اور شان سے جگمگارہے تھے۔ کل ہیڈ ماسٹر صاحب سکول میں موجود نہیں تھے۔ مانیٹرنگ سیل والوں نے آکر اپنی ماہانہ رپورٹ تیا رکی اور وہ باقی روٹین کی ڈاک میں ہمارے باؤجی نے میرے پاس بھجوا دی اور میں نے حسبِ عادت باقی ساری ڈاک کیساتھ ہی اس پر بھی دستخط ثبت فرما دیے۔
اسی طرح ایک دفعہ میں گورنمنٹ ہائی سکول 495/EB میں ہیڈ ماسٹر تھا چھٹی ہو چکی تھی اور میں گھر آنے کے لیے موٹر بائیک پر بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے باؤجی دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور بولے کہ سر اس چالان فارم پر ستخط کر دیں۔ جماعت دہم کے بچوں کی داخلہ فیس جمع کروانی ہے۔ یہ باؤجی میرے بڑے قابل ِ اعتبار محنتی اور ایمان دار شخص تھے اور اپنے کام میں بھی خاصی سمجھ بوجھ کے مالک تھے۔ میں نے بے دھیانی میں اس چالان فارم پر بھی دستخط کر دیے۔ دوتین دنوں کے بعد باؤجی گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور بولے کہ سر ہم نے بچوں کی داخلہ فیس ملتان بورڈ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی بجائے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے کھاتے میں جمع کروا دی ہے اور ساتھ ہی میرے سامنے وہ چالان فارم بھی رکھ دیا جو ملتان بورڈ کی بجائے زکریا یونیورسٹی کا تھا اور اس چالان فارم پر باؤ جی کے دستخطوں کے ساتھ ساتھ میرے ستخط بھی موجود تھے اور حبیب بنک کی وصولی کی مہر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی گویا کہ ہم تقریباً پچاس ہزار روپے کی رقم ملتان بورڈ کو بھجوانے کی بجائے زکریا یونیورسٹی کو بجھوا چکے تھے۔ فوراً ہی بنک مینجر سے ملے اور انہیں حالات کی سنگینی سے آگا ہ کیا۔ بھلا آدمی تھا اس نے ذاتی دل چسپی اور خصوصی تگ و دو کے بعد بالآخر وہ رقم بورڈ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی۔
میری ریٹائرمنٹ قریب تھی کہ ایک دن ایف آئی اے ملتان کی طرف سے ایک فون موصول ہوا کہ آپ کی گارنٹی پر ایک شخص کو یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن نے مینجر بھرتی کیا تھا وہ پانچ لاکھ روپے کا فراڈ کر کے فرار ہو گیا ہے۔ اب حسب ضابطہ یا تو آپ اس مفرور شخص کو ڈھونڈ کر ہمارے حوالے کریں یا پانچ لاکھ کی رقم خود ادا کریں۔ اب مجھے یاد نہیں پڑتا تھا کہ میں نے کبھی ایسی کوئی گارنٹی دی ہو میں نے انہیں کہا کہ مجھے گارنٹی لیٹر بھجوائیں۔ گارنٹی لیٹر پہنچا تو اس پر ہمارے سکول کے پی ای ٹی رمضان کے دستخط تھے اورمیں نے اسے کاؤنٹر سائن کیا ہوا تھا۔ پی ٹی صاحب کو بلوایا اور وہ گارنٹی لیٹر ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے صورتِ حال کچھ اس طرح بتائی کہ یہ شخص ہمارا محلے دار ہے۔ ایک دن میرے پاس یہ لیٹر لے کر آ یا کہ اگر کوئی کلاس ون گرٹیڈ افسر اس پر دستخط کر دے تو مجھے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں نوکری مل سکتی ہے۔ شام کا وقت تھا میں اسے لے کر سیدھا آپ کے پاس آپ کے گھر میں پہنچ گیا۔ آپ اس وقت ریکٹ پکڑے ہوئے بائیک پر بیٹھے کلب میں گیم کرنے کے لیے بس جانے ہی والے تھے۔ وہیں پر آپ کو صورتِ حال سے آگاہ کیا اور آپ نے بائیک پر بیٹھے بیٹھے ہی دستخط کر دیے اور آپ کے گھر سے سٹمپ لگوا کر میں نے لیٹر متعلقہ فرد کو دے دیا۔
اب یہ شخص فراڈ کر کے گھر سے بھی غائب ہو گیا ہے اب ساری بات میری سمجھ میں آچکی تھی۔ ایک تو گارنٹی لیٹر جس وقت مجھے پیش کیا گیا۔ میں کلب جانے کے لیے جلد ی میں تھا جو میرے لیے ایڈکشن بن چکا تھا اور نفسِ مضمون انگریزی زبان میں تھا جس سے ہم دیہاتیوں کی شروع سے ہی لاگ ڈاٹ ہے اورتیسری نفسِ مضمون اس قدر باریک لکھا ہوا تھا کہ اُسے عینک کے ساتھ پڑھ لینا بھی کارِ دارد تھا۔ اسی لیے میں نے فور ی طور پر دستخط کرنے میں ہی عافیت محسوس کی ہوگی۔ یہ بنکوں اور دوسرے کاروباری اداروں کی شرائط اور قواعد وضوابط عموماً اس قدر باریکی سے تحریر کیے جاتے ہیں جسے پڑھنے کے لیے کم از کم ہم جسے افراد کو محدب عدسہ در کار ہوتا ہے۔ بہر حال پانچ چھ ماہ اسی طرح شور شرابا ہوتا رہا ہمارے پی ٹی صاحب میرے حوصلہ اور تسلی دینے کے باوجود ذہنی دباؤ کی بدولت شوگر کے میریض ہو گئے۔ میں نے حسب ِ معمول اسے روٹین میں ہی لیا۔ اسی دوران وہ مفرور شخص فوت ہوگیا اور اس طرح وہ ہمہ قسم کے دنیاوی جھنجنٹوں سے آزاد ہوگیا۔ ایف آئی اے کی بھی شاید یہی منشا تھی کیوں کہ اس کے بعد اُن لوگوں کا ہم سے رابطہ ختم ہوگیا۔ ان ساری چھوٹی موٹی قباحتوں کے باوجود میں تصدیق کرنے کے معاملے میں پبلک کے لیے سہولت اور آسانی فراہم کرنے کو آج بھی اپنے لیے ایک اعزاز خیال کرتا ہوں۔



نیکیاں گھر کی پالی بلیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ آپ جب جب چھوڑیں گے کبھی نہ کبھی آپ کے در پر پھر بیٹھی ہونگی آپ کی آسانی کے لئے۔
اس کا بدلہ آپ اور آپ کے اقارب کو بھی کئی بار ملا ہوگا کسی ایسے وقت جب وہ پھنسے ہوئے ہونگے اور کسی نادیدی شخص نے ان کا مسئلہ حل کردیا ہوگا۔
لیکن یہ پاکستان ہے اتنے اندھیر کے ساتھ تصدیق نہیں کرنی چاہئے۔
مفید اور آپ کے خلوص نیت سے دئیے گئے مشورے کا بہت بہت شکریہ لیکن اب تو وقت گزر چکا تصدیق کرنے کا اب تو ریٹائر منٹ کی زندگی گزاری جا رہی ہے