جب خط لکھنے کا واقعی فائدہ ہوتا تھا


سن انیس سو ستر کی بات ہے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ہر ہفتے ایک پیریڈ گھر والوں کو خط لکھنے کا ہوتا تھا۔ کالج کی طرف سے ہر بچے کو ایک کاغذ اور لفافہ دیا جاتا تھا۔ ٹکٹ کالج کی طرف سے لگتا تھا۔

اگر بچہ گھر والوں کو خط نہ لکھنا چاہے تو بھی اسے کسی نہ کسی رشتے دار، دوست احباب، کسی نہ کسی کو خط ضرور لکھنا پڑتا تھا، جسے پھر اس لفافے میں بند کر کے اور اُس پر پتہ لکھ کر ڈاک کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔

چھٹیوں کے بعد ایک کیڈٹ گھر سے تازہ تازہ آیا تھا۔ جب اسے پہلے ہی دن اِس پیریڈ میں خط لکھنا پڑ گیا۔

کیڈٹ کو ہوابازی اور خلائی مہمات سے عشق تھا۔ امریکہ کے نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن، 1969 میں، چاند کی تسخیر (اپالو 11 کے ذریعے ) کر کے زمین پر آچکے تھے اور ساری دنیا کے اہم شہروں میں جاکر لوگوں سے مل بھی چکے تھے۔ اُس وقت کے پاکستان میں بھی وہ ڈھاکہ آئے تھے۔ حسن اَبدال کے بچے کو خلش تھی کہ کاش وہ بھی انہیں دیکھ اور مل سکتا۔

اب اس زبردستی کے خط کے چکر میں اسے ایک شرارت سوجھی اور اُس نے ایک فی البدیہہ خط انگریزی میں نیل آرمسٹرانگ کو لکھ ڈالا وگرنہ اسے پیریڈ مذکورہ کے استاد سے سزا ملتی۔

خط میں اس نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا کہ نیل آرمسٹرانگ اگر آپ اسلام آباد یا لاہور آتے تو میں ضرور آپ سے ملتا کہ مجھے بھی خلا اور ہوابازی سے عشق ہے ساتھ اس نے لاتعداد سوال جو چاند کے سفر سے متعلق، اس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے لکھ ڈالے۔

خط مکمل کر کے اس نے لفافے میں بند کر دیا۔ ٹیچر کو دھوکہ دینے کے لئے اس نے لفافے کے باہر ایک فرضی پتہ بھی تکے سے انگریزی میں لکھ دیا۔

مسٹر نیل آرمسٹرانگ، ناسا ہیڈکوارٹرز، دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، امریکہ

اگرچہ خط لکھنے کی سہولت صرف دوستوں، رشتے داروں تک محدود تھی لیکن جلدی جلدی لفافے جمع ہوئے اور پھر باقی ساری کلاسوں کے ہزاروں خطوں کے انبار میں جمع ہو کر وہ خط بھی دب گیا۔

دو تین مہینوں کے بعد پھر تعطیلات کے لئے یہ کیڈٹ اپنے گھر جاتا ہے اور واپس آتا ہے تو دور دور سے ہر کیڈٹ اسے دیکھ کر اشارے کر رہا ہوتا ہے۔ یہ پریشان۔ کچھ اور آگے ہاسٹل پہنچا تو وہاں بھی یہی ہوا۔ ساتھ حکم ملا کہ ہاؤس ماسٹر نے بلایا ہے۔ وہاں پہنچا تو اس نے مسکراہٹ اور غصے کے امتزاج سے اُسے بتایا کہ تمہارا خط آیا ہے جا کر وصول کرلو۔ یہ کیڈٹ ڈاک خانے پہنچا تو خط دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

اس کے نام ناسا سے نیل آرمسٹرانگ نے اپنے ہاتھ سے جوابی خط اپنے لیٹر پیڈ پر لکھ کر بھیجا تھا۔ اور یہ بہت بڑی سے بھی بڑی بات تھی۔ خط کے آخر میں نیل کے راکٹ میں ہم رکاب ساتھیوں نے بھی دستخط کیے ہوئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ جس وقت یہ جوابی خط آیا۔ ناسا کی طرف سے جوابی خط لکھنے اور دستخط کرنے کو منع کر دیا گیا تھا۔ نیل آرمسٹرانگ کا کہنا تھا کہ یہ پہلا خط ہے جو پاکستان سے آیا ہے اور وہ بھی ایک بچے کا ۔ اس لئے میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔

بعد ازاں یہی بچہ پاکستان ائر فورس میں شمولیت اختیار کرتا ہے اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران کئی فضائی جھڑپوں میں بھی حصہ لیتا ہے۔

ائر کموڈور قیصر طفیل (ریٹائرڈ ) کے لئے وہ خط آج بھی زندگی کے حاصل سے کم نہیں۔

Facebook Comments HS