کیسے کیسے لوگ تھے
میرے ابا کے چچا زاد تھے۔ اُن کا اپنا نام ”مثل خان“ تھا لیکن ہم سارے کزنز اُن کو علاقائی لہجے میں ”غوٹ یعنی غٹ ابا یعنی بڑے ابا“ کہتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ تین بھائیوں میں وہ پہلے نمبر پر تھے۔ جسامت کے لحاظ سے انھیں ”نرے ابا“ کہنا چاہیے تھا۔ درمیانہ قد، ہلکی سفید داڑھی اور آنکھوں پر نظر کا چشمہ جس کا ہینڈل دھاگے سے بندھا ہوتا تھا۔ مستقلاً سفید دستار سر پر باندھے رکھتے۔ کپڑوں کے معاملے میں لاپروا جو ہاتھ لگا پہن لیا۔
میں نے اُن کو کسی بات یا حرکت پر کڑھتے ہوئے تو بارہا دیکھا ہے لیکن کبھی غصے میں نہیں دیکھا ہے اس لیے ہم بچے اُن سے بالکل بھی نہیں ڈرتے تھے۔ سادگی اور بذلہ سنجی میں اُن کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وہ نیک، سادہ مزاج بلکہ بہت حد تک سادہ لوح۔ اُن میں نرم دلی اور زندہ دلی کی صفت پائی تھی۔ گرمیوں میں رات کو بیٹھک کے کھلے صحن میں سوتے تھے، دیر تک گپ شپ کی محفل سجتی اور بولتے بولتے سو جاتے۔ سردیوں میں رسوئی میں انگیٹھی کے گرد محفل سجائے رکھتے۔
اندھیرے سے اُن کو بہت خوف آتا تھا اس لیے عشا کی نماز کے لیے جاتے ہوئے اپنا خوف کم کرنے کے لیے کلمے کا ورد کرتے تھے۔ بہت پیاری آواز پائی تھی جس میں لوچ کے ساتھ درد پایا جاتا تھا۔ ہمارے گھروں کے دروازے ایک چوڑی گلی میں نکلتے تھے۔ ہمیں چونکہ اُن کے ڈر کا علم تھا اس لیے میں روزانہ عشا کی نماز کے وقت اُن کی آواز سن کر لپک کر کھڑکی کے ساتھ چپک جاتا اور باآواز بلند ”بوؤؤں“ کرتا جس سے وہ ڈر کر قریب قریب چیختے۔
اب نہ معلوم وہ ایسا مجھے خوش کرنے کے لیے کرتے یا واقعی ایسا ہی ہوتا کیونکہ یہ تقریباً روز کی سرگرمی تھی لیکن اُنھوں نے کبھی مجھے نہیں ڈانٹا اور نہ ہی والد صاحب سے شکایت کی۔ قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو واقعی انجانا خوف لاحق تھا۔ گاؤں میں جب پہلی بار ٹیکنالوجی نے دستک دی تو ہماری کچی مسجد میں بیٹری سے چلنے والا لاؤڈ اسپیکر آیا۔ پھر کیا تھا ہم دن بھر اُس کو تکتے رہتے اور شدید خواہش ہوتی کہ کبھی اس میں اذان دے سکیں لیکن گاؤں میں اذان دینے والوں کی کثرت ہو گئی تھی اس لیے ہماری یہ خواہش آسانی سے پوری ہونے والی نہیں تھی۔
اذان میں خوش الحانی کے نمبر ”غوٹ ابا“ لے گئے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ محمد ایوب عرف ماداڑ ابا کو بھی اذان دینے کا بہت شوق تھا اور اس کے لیے لڑنے بھڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے بلکہ یہاں تک کہ مولانا صاحب کے عین پیچھے والی صف میں جگہ بھی اپنے لیے مختص کر رکھی تھی۔ کوئی بھی وہاں کھڑا ہونے کی جرات نہیں کر سکتا تھا غلطی سے کوئی انجانا آ کر کھڑا ہوجاتا تو ماداڑ ابا باجماعت نماز چھوڑ کر گھر کی راہ لیتے۔ دوسری طرف ”غوٹ ابا“ صلح جو طبیعت کے مالک اور ماداڑ ابا کے سامنے نہیں ٹِک سکتے تھے جبکہ اذان دینے کا چسکا بھی پڑ گیا تھا۔
اب انھوں نے یہ طریقہ نکالا کہ ہر صورت میں اُن سے پہلے مسجد پہنچنے کی کوشش کرتے اور لاؤڈ اسپیکر آن کر کے ”لا الہ الا اللہ“ کا ورد شروع کرتے جو اس بات کی اطلاع ہوتی کہ وہ اذان کے لیے الرٹ ہیں کوئی اور زحمت نہ کرے اور پھر ٹھیک وقت پر اذان دے دیتے۔ اُن کی اذان میں واقعی ایک سحر تھی جو سامع پر طاری ہوجاتی۔ گاؤں والوں کو ”غوٹ ابا“ کی اذان کی عادت ہو چکی تھی جس کے لیے بیچارے کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے۔ کھیتوں میں ہل ادھورے چھوڑنے پڑتے، گائے کے لیے کم چارے پر اکتفا کرنا پڑتا، بے چینی میں مسجد کے آس پاس چکر لگانے پڑتے، میلے سے جلدی آنا پڑتا، تہجد کے وقت اُٹھنا پڑتا، اذان کے وقت کا تعین کرنے کے لیے سورج کو دیکھنا پڑتا، دیواروں کے سایوں کا سہارا لینا پڑتا کیونکہ وہ گھڑی کی جھنجھٹ سے آزاد تھے اور اگر کوئی گھڑی دلا دیتا تو کبھی بھی اُس کو سمجھ نہ آتی۔
وہ سکول کے پاس سے نہیں پھٹکے تھے اس لیے نہ ہندسوں کی سمجھ اور نہ سوئیوں کی گردش کا علم۔ ایک دن کھیتوں میں کام کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے ہانپتے ہوئے آئے ٹوٹی سانسوں میں مجھ سے کہا بیٹا جلدی سے ”بندھنئ“ یعنی لوٹا بھر کر لاؤ وہ (ماداڑابا) مسجد مجھ سے پہلے نہ پہنچ جائے۔ میں لوٹا لایا تو اس دوران مسجد سے اذان کی آواز گونجی۔ غوٹ ابا کی موٹی گالی اذان کی آواز میں تحلیل ہو گئی۔ تبلیغ والے مسجد میں آئے تھے جو شام کے اعلان کے لیے مشورہ کر رہے تھے غوٹ ابا نے سنتے ہی کہا جس کو اعلان کرنا ہے کر لے یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ اعلان کے لیے مشورہ ہو رہا ہے بس وقت گزاری کا اچھا بہانہ مل گیا ہے۔
غوٹ ابا کو بیٹر بازی کا جنون کی حد تک شوق تھا اور سدا کوئی نہ کوئی لڑاکا بٹیر اپنے پاس رکھا کرتے تھے جس کو میلوں میں لے جا کر باقاعدہ بازی لگایا کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر کنگال رہتے۔ جہاں بھی ہوتے بٹیر کا پنجرہ اُن کی بغل میں ہوتا۔ اُن کا ہر پنجرہ سیاسی پارٹیوں کے جھنڈوں سے بنا ہوتا جو الیکشن میں اُن کے ہاتھ لگ جاتے تھے۔ میں تو کہتا ہوں کہ سیاسی پارٹیوں کے جھنڈوں کا جتنا خوبصورت اور درست استعمال ”غوٹ ابا“ نے کیا ہے کوئی اور نہیں کر سکتا۔
بیٹر ہاتھ میں لے کر مسجد جاتے تو بٹیر کو پنجرے میں ڈال کر اُس میخ میں لٹکا دیتے جو انھوں نے مسجد میں اسی غرض سے ٹھونکا تھا۔ ہمارے امام مسجد عالم نہیں ”ملاُ“ ہوتے تھے جو عموماً ہمارے حجرے میں رہائش پذیر ہوتے۔ وہ ان بزرگوں کے رحم کرم پر ہوتے اس لیے کوئی روک ٹوک نہیں کرتے تھے۔ غوٹ ابا بٹیر بازی کے شوقین، ملک جان ابا جانوروں کے سوداگر، ماداڑ ابا غصیلے من موجی، من ابا فوجی اور خبروں میں دلچسپی رکھنے والے، سرور جان ماما گاؤں کے واحد ڈاکٹر، غنی ابا نگری نگری پھرا مسافر، میرے ابا کو گپ شپ اور سیاست کا چسکا، اس طرح اور بھی بہت سے کردار تھے جنہوں کی گاؤں کی زندگی کو دل کش بنایا تھا۔
مسجد میں بولنے پر کوئی پابندی اور کوئی خوف نہیں تھا اس لیے سدا مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہتا۔ حالات حاضرہ سے واقفیت مسجد میں ہوجاتی۔ نماز عصر کے بعد یہ مسجد کے مختلف کونوں میں ٹیک لگائے گرما گرم مباحثہ کرتے رہتے اور شام کی نماز تک کا یہ وقت گزاری کا وسیلہ تھا۔ ان میں سے اکثر تمہید گالیوں سے باندھتے جس کو ہلکی پھلکی گالیاں سے ہی کہا جا سکتا ہے اور یہ اُن کی عادت بن چکی تھی۔ دلچسپ صورت حال اس دن دیکھنے کو ملی جب پہلی بار مسجد میں ”عالم“ آئے جو باقاعدہ مدرسے سے پڑھے ہوئے تھے اُنھوں نے جب مسجد کی یہ صورت حال دیکھی تو نماز کے بعد اس پر قدرے سخت لہجے میں بیان دیا۔ مسجد سے نکلتے ہوئے جب ”غوٹ ابا“ نے ایک جوتا پہنا تو دوسرے میں پاؤں ڈالتے ہوئے ابا سے کہا :
”سڑائی خو مشرف دہ۔ چے زر شکر ویرغیڑ کو“ ”مولوی صاحب تو پرویز مشرف ہے۔ جلدی ان سے جان چھڑا لیں“ ۔
ایک دن ہمارے حجرے میں داخل ہوئے الیکشن کا سیزن تھا تو مرکزی دروازے سے ابا کو پکارا ”ممبرا! جھنڈے نہیں لائے ہو؟ میں بڑا حیران کہ“ غوٹ ابا ”کو سیاست کا بخار کیسے چڑھا؟ میری حیرانی انتہا تک پہنچنے سے پہلے ابا نے جواب دیا، ’’تمھارے بٹیروں کے پنجرے ختم ہو گئے ہوں گے‘‘۔ اس اچانک وار پر غوٹ ابا کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
ایک بار ہم بیمار گائے کے لیے طویل انتظار اور دوڑ دھوپ کے بعد وٹرنری ڈاکٹر ڈھونڈ لائے۔ جب وہ گائے کا اندرونی نظام انہضام ہاتھ ڈال کر دیکھ رہا تھا تو ”غوٹ ابا“ حجرے میں وارد ہوئے۔ ڈاکٹر کے لتھڑے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر زور سے ”آخخخ تھو“ کیا۔ ابا نے صورت حال سنبھالنے کے لیے کہا: ”مثل خونہ! ڈاکٹر صاحب نے سولہ سال تعلیم حاصل کی ہے۔“ غوٹ ابا کہاں سمجھنے والے تھے، ترکی بہ ترکی جواب دیا ”گائے کے لیے اس نے سولہ سال ضائع کیے ہیں۔ آخ تھو۔“ ڈاکٹر صاحب کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا۔
شمس الرحمان خٹک جب ایم این اے بنے تھے تو یہ ابا کے ساتھ مبارک باد دینے کرک گئے تھے جمعے کا دن تھا صوم صلوۃ کے پابند ”غوٹ ابا“ پہلی بار نماز جمعہ میں پھنس گئے۔ گاؤں آ کر سب کو بتاتے پتہ نہیں کس فرقے میں پھنس گیا تھا۔ یاد رہے کہ اُس زمانے میں ہمارے گاؤں میں نماز جمعہ اور نماز عیدین کا اہتمام نہیں ہوتا تھا۔
غوٹ ابا کی زندگی گاؤں اور آس پاس کے گاؤں تک محدود تھی جس میں وہ ہمیشہ پیدل سفر کرتے نظر آتے۔ اُن کی شخصیت اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ جس کے ہاں چلے جاتے تو بچے بڑے سب خوشی کا اظہار کرتے اور اُن کی خاطر داری میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ غوٹ ابا بڑے حساس مزاج کے مالک تھے جب میرے ابا فوت ہو گئے تو وہ بہت خفا تھے اور ہماری دل جوئی کے لیے ہمارے گھر رہنے لگے۔ تیسرے دن مجھے شرارت سوجھی اور اُن کو والد صاحب کی چارپائی سونے کو دی۔ سخت سردیاں تھیں جب وہ رضائی اوڑھ کر لیٹ گئے تو میں نے تمہید باندھی کہ ”غوٹ ابا یہ زندگی بھی کتنی بے وفا ہے جس چارپائی پر ابا سوتے تھے آج اُس میں آپ سو رہے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ رضائی دور پھینکی اور جست لگا کر چارپائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کہا“ ممبر مجھے بہت عزیز تھا لیکن اُن کی چارپائی میں نہیں سو سکتا۔ ”
ساری عمر زمینوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ پالتے رہے۔ آسمان پر بادل نظر آئے تو فوڑاً بیلچہ اُٹھا کر دور زمینوں کی طرف چل پڑتے تاکہ بارانی زمینوں کو بارش کا پانی دے سکے۔ ان کے دو بیٹے عبدالرحمان پیشے کے لحاظ سے استاد رہے اور ہم سب نے ابتدائی تعلیم اُن سے حاصل کی۔ منظور پاک آرمی میں رہے جبکہ باقی کے دو بیٹے حمزہ علی اور نصیر خان مزدوری کرتے تھے۔ ان میں حمزہ علی کے ساتھ غوٹ ابا کی نوک جھونک سننے اور دیکھنے کے قابل ہوتی۔
آخری دنوں میں وہ سی ایم ایچ پشاور میں داخل تھے تو میں اُن سے ملنے گیا۔ مجھے دیکھتے ہی مریضوں والی یونیفارم سے متعلق اپنے مخصوص انداز میں شکایت کی۔ ”دئے سہ گاگرے روغستے دو“ یہ کیا گاگرے (ہماری طرف خواتین کا روایتی لباس ہے) پہنائی ہے۔ تھوڑی دیر بعد نرس آئی اور کہا ”بابا ڈرپ لگانا ہے۔ غوٹ ابا نے کہا اس سے کیا ہو گا؟ نرس نے جواب دیا، ’’بابا ٹھیک ہو جاؤ گے‘‘۔ غوٹ ابا نے اپنے ٹھیٹ علاقائی لہجے میں کہا ’’او سخوندا ربوارنہ جوڑ شی‘‘۔ (ہاں ہاں ہٹا کٹا بیل بن جاؤں گا)۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ پتہ نہیں حمزہ علی عرف میم نے بٹیروں کو دانہ پانی دیا ہو گا کہ نہیں۔ اور میں سوچنے لگا کہ واقعی شوق کا کوئی مول نہیں جس کا خود دانہ پانی ختم ہونے والا ہے، اُن کو بٹیروں کے دانہ پانی کا غم ہے اور خود سے لاپروا ہیں۔ اُن کا اپنا دانہ پانی انہی دنوں میں پورا ہو چکا تھا اور پھر گاؤں کا یہ جان دار کردار اُن کے پاس چلا گیا جو اُن سے پہلے جا چکے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا حافظہ بڑا پختہ ہوتا ہے کئی سال گزر گئے لیکن آج بھی محفلوں میں ان کا ذکر اور اُن کے قصے بڑے شوق سے بیان ہوتے ہیں۔ آہ کیسے کیسے لوگ تھے۔ ان کو کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں؟

