”فرنٹیئر میل“ پشاور ٹو بمبئی
ہر طرف روشنیاں قہقہے اور خوشبوئیں، ایک ٹراپیکل خطے کی آب و ہوا، رات کا پہلا پہر، ایک خوبصورت بلند عمارت کا بیک یارڈ، جہاں انواع و اقسام کے کھانے سجے تھے، باوردی ویٹرز ہاتھ میں ٹریز لیے لوگوں کو مختلف مشروبات اور سنیکس سرو کر رہے تھے، مجھے تو جیسے سب ایک خواب لگ رہا تھا۔
اس شام کا کوئی لمحہ مس نہ ہو جائے اس لیے کسی ایک جگہ ٹھہر نہیں پا رہا تھا، کبھی اس کونے میں تو کبھی دوسرے، خوبصورت سجے ہوئے لوگ، چھوٹی چھوٹی منڈلیاں سجائے خوش گپیوں میں مصروف تھے، ان خوبصورت چہروں میں بہت سے جانے پہچانے چہرے دیکھ کر دل منہ کو آ رہا تھا، اس سے پہلے کہ میں ان کو متوجہ کرتا وہ مڑ کر مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتے، تھپکی دیتے، اور پوچھتے کہ یہاں آ کر کیسا لگ رہا ہے؟ کہیں لاہور کو مس تو نہیں کر رہے؟ بھئی ہم تو بہت مس کرتے ہیں، کاش کہ اتنی آسانی ہو کہ ہم جب چاہیں لاہور جا سکیں اور اس کی گلیوں میں گھوم سکیں۔
وہاں سے آگے بڑھ کر کسی ایسی جگہ اکیلا کھڑا ہو گیا جہاں سے مجھے سارے کا سارا پنڈال صاف نظر آ رہا تھا، اسی اثنا میں ایک بزرگ نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولا، ینگ مین، تم بور تو نہیں ہو رہے؟ فکر نہ کرو تمہاری کمپنی بھی آ رہی ہے، اس نے ایک ویٹر کو بلایا جس کی ٹرے میں خوبصورت گلاسوں میں سجے مشروبات تھے، ویٹر نے ٹرے میری طرف بڑھائی کہ میں اپنی مرضی کا گلاس اٹھا لوں، میں بولا سر میں ”کوک“ نہیں پیتا، اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، ینگ مین تم کہیں شرما تو نہیں رہے؟ اور ویٹر سے گہرے رنگ کے پانی سے بھرا ”دم“ والا گلاس مجھے تھمانے کو کہا، میں نے ان کا دل رکھنے کے لیے وہ گلاس پکڑ لیا، جو آخر تک میرے ہاتھ میں رہا، جس سے میرا بھرم بھی رہ گیا۔
یہ شہر تھا بمبئی اور بلڈنگ تھی پرتھوی ہاؤس اور وہ بزرگ تھے ششی کپور جو پرتھوی تھیٹر میں ہماری تھیٹر پرفارمنس کے بعد پاکستان سے آئی کاسٹ اور بھارتی فلم انڈسٹری کے لوگوں کے اعزاز میں پرتکلف ڈنر کی میزبانی کر رہے تھے۔
کپور فیملی اس دن بہت خوش تھی، پرتھوی تھیٹر کا یہ ایک یادگار دن تھا، جس میں پاکستان سے آئے ایک تھیٹر گروپ نے پارٹیشن سے پہلے پرتھوی تھیٹر میں پرتھوی راج کپور کے ساتھ کام کرنے والی دو بہنوں کو دوبارہ اسٹیج پر اکٹھا کیا تھا، ڈرامے کا اسکرپٹ اسی سٹوری لائن پر بیس کرتا تھا۔
یہ تھیٹر کمپنی تھی اجوکا تھیٹر لاہور اور اس منفرد کھیل کے تخلیق کار تھے شاہد محمود ندیم، جنہیں اس دل کو چھو لینے والی تخلیق پر ان کی غیر موجودگی میں بہت سراہا جا رہا تھا۔
اچانک کسی نے میرے بازو میں اپنا بازو ڈالا اور ایک طرف کھینچ کر کہا، آؤ تمہیں اپنے بیٹے سے ملواؤں، دراصل یہی وہ کمپنی تھی جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا، کیونکہ اس ساری محفل میں سب سے نوجوان میں ہی تھا، وہ رشی کپور تھے جو مجھے اپنے بیٹے رنبیر کپور کے پاس لے گئے جو اپنی والدہ نیتو سنگھ کے ہمراہ محفل میں ابھی ابھی پہنچا تھا، ان دنوں شاید وہ کالج کی چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا۔
ایک نوجوان، ممی ڈیڈی، سلیبرٹی سن مجھے کیا کمپنی دے سکتا تھا؟ کچھ ہی دیر کے بعد میں جان بوجھ کر گم ہوا اور دوبارہ ششی کپور کے ارد گرد منڈلانے لگا۔
اس بار وہ ایک مزید بزرگ کے ساتھ لان میں لگے ایک لمبے بینچ پر بیٹھے باتوں میں مصروف تھے، مجھے دیکھتے ہی بولے ان سے ملیے یہ ہیں اے۔ کے ہینگل، کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟ میں نے نام سن رکھا تھا لیکن میرے چہرے پر عیاں تجسس کو دیکھتے ہی وہ فوراً از راہ تفنن گویا ہوئے، بھئی شعلے فلم میں جو امام مسجد بنے تھے، ہینگل صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ہاں وہی شعلے کا امام مسجد،
مجھے یہ سب چند گھنٹے پہلے اسٹیج پر دیکھ چکے تھے اس لیے میرے تعارف میں مسئلہ نہیں ہو رہا تھا۔
میں ان کے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے فوراً پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں کا ذکر شروع کر دیا، بتانے لگے کہ پی ٹی وی کے ڈرامے میں بہت اہتمام سے دیکھا کرتا تھا، پی ٹی وی کے اداکاروں کی مہارت لاجواب تھی، ”وارث“ کے بہت سے کرداروں کے حلیے انہیں یاد تھے لیکن کرداروں کے نام یاد کرتے ہوئے انہیں مسئلہ ہو رہا تھا، بولے، پگڑی والے کردار نے تو بہت کمال کیا تھا۔
اسی دوران میں نے ششی کپور سے پوچھا، آپ لوگوں کا تعلق تو پشاور سے ہے نا؟ وہ بولے ہاں لیکن دراصل ہمارا تعلق لائل پور کے پاس کے علاقے سمندری سے ہے، وہاں سے پشاور گئے اور پھر 1929 میں بمبئی شفٹ ہوئے۔
” ان دنوں بمبئی سے پشاور اور پشاور سے بمبئی ایک مشہور ٹرین چلا کرتی تھی جس کا نام“ فرنٹیئر میل ”تھا، آج سوشل میڈیا پر کہیں اس ٹرین کی تصویر دیکھی، اس تصویر میں ایک عجیب سا نوسٹیلجیا چھپا تھا، کیسے کیسے لوگوں نے اس پہ سفر کیا ہو گا، کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے، کچھ گئے اور واپس نہ آئے۔“







