ہم چلے صدرِ پاکستان بننے


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم چونکہ زمانہ طالبِ علمی میں اسکول کی بزمِ ادب کے صدر رہ چکے تھے اور اسٹیج پر جا کے بات کرنے کا شوق اور تجربہ بھی رکھتے تھے اور سونے پے سہاگہ کہ یار دوست مائیک پر بات کرنے کے ہمارے انداز و آواز کو بھی پسند کرتے تھے لہٰذا ہم دوستوں کے بہکاوے میں آ گئے۔ اُن کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے گئے۔

قصہ یوں ہے کہ دوست کہنے لگے کہ ”نیوز کاسٹر بن جاو اور ٹی وی پر خبریں پڑھا کرو“ ۔ لہٰذا تھوڑی بہت مشق کے بعد بن سنور کے ہم پی ٹی وی پش اور اسٹیشن جا کھڑے ہوئے۔ ضروری کارروائی کے بعد ابتدائی آڈیشن ہوا اور ہم پاس ہو گئے۔

کُل 36 اُمیدوار تھے، مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد 6 کا انتخاب ہوا جن میں ہم بھی شامل تھے۔ جب حتمی تین کا انتخاب ہوا تو قسمت کی دیوی پھر ہم پر مہربان رہی۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔ چند دن تربیتی مراحل سے گزرے، خوب مشقیں کیں، آواز کا ریاض کیا اور بحیثیت نیوز کاسٹر خواب سجانے لگے۔ مگر ہماری مایوسی کی اُس وقت انتہا ہی ہو گئی جب اِس ذمہ داری کے لئے ہماری مذہبی شناخت آڑ گئی اور ہمیں پی ٹی وی پر خبریں پڑھنے کے لئے ”نا اہل“ قرار دے دیا گیا۔

پچھلے دنوں شام کی بارش نے موسم سہانا بنا دیا تھا۔ سورج ڈھل چکا تھا مگر سنہری شعاعوں کی رنگینی ابھی اُفق پر باقی تھیں۔ بارش تھم چکی تھی مگر فضا میں خُنکی کا احساس زندہ تھا۔ موسم کی سانولی رنگت گہری سیاہ رات میں ڈوب رہی تھی۔ مغرب کی جانب پرندوں کا آخری جھُنڈ خاموشی سے اپنی منزل کو رواں تھا۔ کچھ دیر بعد چاند ستاروں کی بارات نمودار ہوئی تو آسماں رات کی سیاہ چادر تان چکا تھا، لہٰذا ہم بھی اس رومانوی رات کی آغوش میں جا سوئے۔

یہاں ہم ایک اور چمتکار کا انکشاف کیے دیتے ہیں۔ چند نامعلوم مسافر ہمارے غریب خانہ پر آن ٹھہرے۔ خیر و عافیت معلوم کی اور خاطر تواضع کے بعد اُن کی آمد کا مقصد پوچھا تو اُن کا جواب سُن کر ہماری آنکھیں اور منہ کھُلے کے کھلے ہی رہ گئے۔ ہم تو گویا کو مہ میں جانے کو تھے۔ خیر ہوش سنبھلے تو ہم نے عرض کیا کہ آسان لفظوں میں بیان کیجئیے تو وہ یک دم بولے ”صدرِ پاکستان کے عہدے کے لئے آپ کا انتخاب ہوا ہے“ ، او جیزس!

ہم بے اختیار بول اُٹھے اور حیرت اور بے چینی کی کیفیت میں کروٹ بدلتے ہوئے پوچھا ”اس ذمہ داری کے لئے ہم ہی کیوں“ بولے ”آپ اس عہدہ کے عین مطابق اہلیت اور قابلیت رکھتے ہیں“ ۔ ہم نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا اس کے لئے قابلیت کا کیا تعلق؟ ( ”قابلیت“ کی وضاحت میں آگے جا کے کروں گا) ۔ خیر حامی بھرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا سو ہم نے سرِتسلیم خم کر لیا۔

لو جی تیاریاں شروع۔ مٹھائیاں، مبارکبادیں، ہار اور ضروری کاغذی کارروائی کے ساتھ ساتھ شیروانی کے آرڈر بھی چلے گئے۔ مگر ہم سوچنے لگے کہ صدرِ پاکستان بن کر کریں گے کیا؟ لہٰذا ہم خیال دوستوں سے مشورے ہونے لگے اور کچھ بنیادی کام طے ہو گئے۔ چلیے آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ ہم نے صدرِ پاکستان بننے کے بعد کیا کچھ کرنے کے ارادے باندھے۔

سب سے پہلے ہم غیر ضروری پروٹوکول سے انکار کریں گے۔ ماحولیات کی حفاظت اور آلودگی میں کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نہیں چلیں گی۔ سکیورٹی کے نام پر راستے بند کر کے ہم عوام کے لئے وبالِ جاں نہیں بنیں گے۔ ملکی اور غیرملکی دوروں کے دوران اخراجات میں کمی کی جائے گی نیز درجنوں افراد کو ہمراہ ساتھ رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ غرض، ملک و قوم کے مفادات کو ہر قدم پر ترجیح دی جائے گی۔

صدرِ پاکستان بنتے ہی ہم قومی کمیشن برائے اقلیت کو قومی اسمبلی اور سینٹ سے قانون سازی کے ذریعے تشکیل دینے پرزور اور فوری منظوری دیں گے۔ اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کے لئے ویسا ہی کمیشن تشکیل دیا جائے گا جیسا کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے کمیشن کام کر رہے ہیں۔

بحیثیت صدرِ پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دس سال پرانی چیف جسٹس تصدق حُسین جیلانی صاحب کی ججمنٹ (جون 2014 ) پر من و عن عمل کروانے کے لئے اقدامات کروں گا۔ نیز مذہبی اقلیتوں کے لئے تعلیم اور ملازمت کے کوٹہ پر عمل کروانا بھی میری ترجیحات میں شامل ہو گا۔

نصابِ تعلیم میں سے نفرت پر مبنی مواد کو خارج کر کے سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے سے متعلق مواد شامل کرنے پر زور اور منظوری دوں گا، نیز تعلیم کو کسی ایک عقیدے کی ترویج کی بجائے سماج کی مجموعی فلاح کی بنیادوں پر اُستوار کیا جائے گا۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22 الف پر اُس کی اصل روح کے عین مطابق عمل کیا جائے گا اور جس شہری کا جو عقیدہ نہیں ہے زبردستی اُسے وہ تعلیم نہیں دی جائے گی۔ تعلیم کے فروغ کے لئے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کرواؤں گا اور نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں تعصبات کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

کم عمر اقلیتی لڑکیوں کی جبری شادی اور جبراً تبدیلی مذہب رکوانے کے لئے تمام شعبہ جاتِ زندگی کے ماہرین سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر قانون سازی عمل میں لائی جائے گی نیز کسی کی جبراً ایمانی تبدیلی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ قانون پر عمل درآمد کروایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔

معاشرے میں عدم رواداری، توڑ پھوڑ کا سبب اور ملک و قوم کی بد نامی کا باعث بنے والے قوانین میں ترامیم تجویز کی جائیں گی تاکہ ہم معاشرے کو متشددانہ سوچ سے نکال کے ایک کشادہ ذہن سماج کو پروان چڑھا سکیں۔

جیلوں میں قیدیوں کے لئے سہولیات کا انتظام مساوی حقوق کی بنیاد پرکیا جائے گا نیز اُن کی سزاؤں میں کمی کا قانون مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے تمام قیدیوں کے لئے مساوی ہو گا۔

انتہائی پسماندہ طبقہ جو گلیوں نالوں اور گٹروں کی صفائی کی ذمہ داری نبھا رہا ہے، کام کے دوران اُن کی جان کی حفاظت اور ایمرجنسی کی صورت میں طبی سہولیات کا سنجیدگی سے اہتمام کیا جائے گا نیز حکومت اور متعلقہ اداروں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اُن کے لئے حفاظتی سامان کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور اُس کا استعمال لازمی قرار دیا جائے۔

آئینِ پاکستان میں بہت ساری ترامیم بھی کروانی ہوں گی تاکہ اس اہم آئینی دستاویز کو ہر طرح کے امتیاز سے پاک کیا جا سکے۔ آئینِ پاکستان کو مذہبی بنیاد کی بجائے سماجی اور فلاحی بنیاد پر مرتب کیا جائے گا نیز تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔

آئین کا آرٹیکل 41 ( 2 ) اس حوالے سے خاص طور پر میری نظر میں ہو گا تاکہ عہدہ صدارت کے لئے اُمیدوار کا اکثریتی مذہب سے تعلق رکھنا لازمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اِس آئینی ذمہ داری کے لئے قابلیت ہونا لازمی ہے۔ (اس بات کا اظہار میں نے اُن مسافروں سے بھی کیا تھا) ۔

اس خیال کے ذہن میں آتے ہی اپنا سر تو یک دم چکرا ہی گیا کہ آئین کے آرٹیکل 41 ( 2 ) کی موجودگی میں میرا عہدہ صدارت کے لئے انتخاب کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اس آرٹیکل میں تو مذہبی بنیاد پر امتیاز ہے۔ بس پھر کیا تھا ہمارے تو سارے خواب ہی چِکنا چُور ہو گئے اور ہم رات بھر کی گہری میٹھی نیند سے ہڑ بڑا کر جاگ اُٹھے اور یوں صدرِ پاکستان بننے کا ہمارا یہ خواب، خواب میں بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا کہ اس ملک کے شہری ہونے کے باوجود اِن عہدوں کے لئے ہماری مذہبی شناخت رکاوٹ ہے۔