ماضی کا دریچہ اور جفا کی رِیت


ویسے تو زندگی کی بہت سے جہتیں ہیں۔ میرے خیال میں وہ لوگ جو زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک کامیڈی ہے اور جو لوگ زندگی میں سوچتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک ٹریجڈی ہے۔

آئیے ذرا تاریخ عالم سے اس کا مطلب سمجھتے ہیں۔

زندگی اپنے تمام تر جوبن پر اگر کسی میں نظر آتی ہو تو وہ شے زمانے کے مروجہ اصولوں کے خلاف بغاوت کا آموختہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بدھا کے واعظ میں، سقراط کے ایتھنز میں، سفوکلیز کی تمثیل میں، وارث کی ہیر میں، کانٹ کے فلسفے میں، انیس کے درد میں، غالب کے رومان میں، فرائڈ کی نفسیات میں، ٹالسٹائی کے کتھارسس میں، غلام عباس کے کرداروں، میکاولی کی سیاست میں، کافکا کی فراست میں اور راشد کے حسن کوزہ گر کی سرگوشیوں میں زندگی کے متنوع موضوعات پنہاں ہیں جو کبھی رائیگانی کی صورت میں تو کبھی امیدوں کے طور پر قرطاس پر تحریر کیے جاتے ہیں۔

لیکن میری زندگی تمہارے درشن کی مرہون منت تھی۔ مجھے ان دقیق فلسفوں، روحانی کیفیتوں، عشقیہ شاعری اور تاریخی رمز میں دلچسپی نہیں تھی بلکہ میرے من میں ایک جوت تھی تمہارے قرب کی جوت!

لیکن میں نے زندگی تیرے وصال کی حسرت میں گزار دی۔

کافکا نے لکھا تھا کہ جب میری موت ہوگی تو اس کی وجہ فقط گھٹن نہیں بلکہ میری گردن پر لوگوں کے لفظوں کے نشانات بھی میری موت کا کارن ہوں گے۔ لفظ کیا واقعہ ہی اتنی ظالم چیز ہیں؟ جی ہاں! جو لفظ امیدوں کے چراغ کو گل کر کے یاس کے بادل لاتے ہیں وہ واقعتاً سفاک ہوتے ہیں۔

اے میری ہم راز!

میں آج بھی ساون کے دوسرے عشرے کا وہ حبس زدہ دن نہیں بھولا جس روز تم نے مجھ سے آخری بار کلام کیا تھا اور تمہاری زنبیل میں اس دن فقط کانٹوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس دن تم نے ہمارے درمیان ہجر کی ایسی لکیر کھینچی جو رہتی عمر تک میرے لیے پل سرات بن گئی جسے میں آج تک عبور نہ کر سکا۔

اے جان جاناں!

تم مجھ سے کہا کرتی تھی کہ کیمپس کی پگڈنڈیوں پر میں میگھا رت کی چنری لے کر آ جاؤں گی اور ہم غالب کے دیوان کے ساتھ بڑے غلام علی کی ٹھمری سنتے ہوئے ورشا کے پانی میں اشنان کریں گے۔ لیکن بد قسمتی سے آسمان آج رو رہا ہے لیکن تم کہیں دور جا چکی ہو۔ ویسے بھی یاس نگر کے باشندوں کے اتنا بھاگ کہاں کہ ایک خوبرو مستور ان کے لمڈے کے مقدر میں لکھی ہو۔

اے خوبرو مستور!

تجھے تو پتہ ہے میں نے تجھے تخیل کی بے نام وادی میں کوہ نور کی طرح چھپا رکھا تھا۔ کیمپس کی راہداریوں میں پہلی بار جب میں نے تمہیں دیکھا تھا تو تم نیلے جوڑے میں ملبوس اطلس زنگار کی مانند چمک رہی تھی۔

تمہارے کانوں میں لٹکے جھمکے مجھے کسی قدیم مندر کی گھنٹی کی مانند لگ رہے تھے جن کی آواز میرے لیے اس روز ایسے بھگت کی تھی جس کی دلی پراتنہ پوری ہو گئی ہو اور وہ مندر کی گھنٹی سن کر تشکر کے سجدے میں گر پڑا ہو۔

ہیر کے لئے رانجھے کی ونجلی میں پریت کا الاؤ تھا مگر میرے لیے اس روز ساری دنیا تمہاری پازیب کی چھم چھم تھی جو مجھے الف لیلوی داستانوں سا سرور دے رہی تھی۔

تمہارے رخساروں پر لہکتی زلفیں دریا کی وہ لہر نکلیں جن میں میں ڈوبا تو ابھرا نہیں۔

نیل کے ساحل پر تمہارے لیے وفا کی مٹی سے میں نے گھروندا بنایا تھا خدارا اس گھروندے پر اپنی جفا کی باڑ نہیں بلکہ التفات کی نگاہ ڈالو۔

اے میری شناسا!

ہو سکے تو تم پھر سے میرے تخیل کے بنجر ٹیلوں کو آباد کرنے چلی آؤ کہ اس سے پہلے لفظ جن کے سہارے جی رہا ہوں میں میرے شکستہ پہلو سے کنارہ کر جائیں۔

Facebook Comments HS