کیا وہ روحیں تھیں؟ ۔ افریقیات (4)


” وہ غالباً سینٹ جوزف اسپتال کے نرسنگ اسکول کی طالبات تھیں جو درختوں سے گھرے ایک خوبصورت ہاسٹل میں رہتی تھیں۔ یہ 1967 کا زمانہ تھا۔ ہاسٹل اور اسپتال کے درمیان پیدل راستہ تھا۔ پھر ایک طالبہ شام کو ہاسٹل جاتے ہوئے حادثہ میں فوت ہو گئی۔ ابھی لوگ اس بات کو بھولے بھی نہیں تھے کہ ایک اور حادثہ بھی سڑک کے اُسی موڑ پر پیش آیا۔ جب تیسری طالبہ بھی اسی جگہ حادثہ میں ہلاک ہوئی تب اُس اسپتال، چرچ اور نرسنگ اسکول کے کرتے دھرتے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اب معاملہ کی تہہ تک پہنچنا تھا۔ تینوں حادثے سنیچر کے روز شام اور رات کے درمیان ہوئے تھے۔ جب چوتھی لڑکی بھی حادثہ میں فوت ہو گئی تو ہاسٹل ہی بند کر دیا۔ تب سے اب تک اُس جگہ کوئی حادثہ نہیں ہوا“ ۔

” اچھا! پھر کیا ہوا؟“ ۔ میں نے دلچسپی سے اُن صاحب سے سوال کیا۔

”پھر یہ ہوا کہ کسی اخبار کا رپورٹر اِس کہانی کی تلاش میں ہاسٹل میں پوچھ گچھ کرنے آیا۔ یہاں کے عملے نے اُسے ایک چونکا دینے والی بات بتائی کہ اکثر سنیچر کی شام درختوں کے پاس کبھی ایک کبھی تین لڑکیاں نرسنگ یونیفارم میں نظر آتی ہیں۔ وہ رپورٹر بھی ڈھیٹ ہڈی تھا۔ اُس نے اخبار میں تصویروں کے ساتھ یہ کہانی شائع کروا دی۔ وہ دِن اور آج کا دِن سنیچر کی شام سے کچھ پہلے سڑک کا یہ حصہ دو تین گھنٹوں کے لئے عمومی ٹریفک کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔ عوام سڑک کی دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلوں سے موم بتیاں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہاں سنیچر کے روز یہ اکثر نظر آتی ہیں۔ یہ البتہ عجیب بات ہے کہ بہترین فلم اور کیمرے کے باوجود تصویر مکمل صاف نہیں آتی جب کہ انسانی آنکھ سے یہ بالکل واضح دکھائی دیتی ہیں‘‘۔

غالباً ایک دو روز بعد ہی سنیچر کا دِن تھا۔ میں اور وہ صاحب اپنے اولمپس کیمرے کے ساتھ مطلوبہ جگہ جا پہنچے۔ باقاعدہ میلے کا اہتمام نظر آیا بہت ہی چہل پہل تھی۔ بس لنگر کی کمی تھی! مقامی انتظامیہ کے رضاکار جا بجا نظر آ رہے تھے۔ روڈ پر دونوں جانب ہونے والا چراغاں، غم کا تو نہیں البتہ خوشی کا تاثر ضرور دے رہا تھا۔ بالکل ہمارے ہاں کی طرح پھیری والے چیزیں بیچ رہے تھے۔ اچانک کہیں سے سواحلی زبان میں نعرہ بلند ہوا پھر خاموشی چھا گئی۔

ابھی سڑک کا وہ ٹکڑا بالکل خالی تھا اور اب نہ جانے ایک دم کہاں سے دو لڑکیاں نرسوں کی یونیفارم میں آتی دکھائی دیں۔ ایک کے چلنے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ دھڑا دھڑ کیمرے اور فلیش کام کرنے لگے۔ ہم لوگوں نے بھی کئی ایک تصویریں اُتاریں۔ وہ لڑکیاں ماحول سے بے خبر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہاسٹل کی جانب مُڑ گئیں۔ وہاں کھڑے لوگ سڑک پر اِن کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ ہم بھی ادھر ہی لپکے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ دونوں دروازے سے اندر داخل ہوئیں۔ سیکنڈوں کے وقفے سے قریب کھڑے لوگ بھی اندر گئے۔ گو یہ ہاسٹل بند تھا لیکن وہاں ہال میں اسپتال کا عملہ رہتا تھا۔ حیرت کی انتہا ہو گئی جب دروازے کے قریب بیٹھے شخص نے کہا کہ کون سی لڑکیاں؟ یہاں تو کوئی بھی نہیں آیا! جب میں نے وہاں پر لوگوں سے بات چیت کی تو علم ہوا کہ عام خیال ہے کہ یہ وہ روحیں ہیں جو اِس جہاں اور اگلے جہاں میں کہیں اٹک کر رہ گئی ہیں۔ سُننے میں یہ بھی آیا کہ کبھی یہ زخمی حالت میں بھی نظر آتی ہیں۔

اِس قصے کا حاصل کلام یہ ہے کہ دوسرے روز جب تصویریں دھل کر آئیں تو زیادہ تر دھندلی تھیں لیکن دو چار قدرے بہتر۔ اُنہیں انلارج کروایا گیا۔ فوٹوگرافی سمجھنے والے کافی افراد کو یہ دِکھلائی گئیں لیکن کسی نے بھی کوئی حتمی بات نہیں کہی۔

واضح ہو کہ 7 جولائی 1967 کو لال کوٹھی، ڈرگ روڈ کراچی ( موجودہ شاہراہِ فیصل) میں ایک کسٹم افسر کو سڑک کنارے ایک زخمی عورت نظر آئی۔ اُس کے ساتھ ہمدردی کرنا جان لیوا ثابت ہوا۔ اگلے سال اِسی تاریخ کو ایک اور صاحب اپنی جان سے گئے البتہ تیسرے سال والے صاحب بچ گئے۔

1980 میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں شعبہ پروگرام سے منسلک ہونے کے دوران اِس موضوع پر میں نے روزنامہ جنگ کراچی کے 1967 سے لے کر کئی سال آگے کی اِن تاریخوں کے جولائی کے اخبارات کو خوب کھنگالا۔ پھر اُن تیسرے بچ رہ جانے والے صاحب اور ان کے گھر والوں سے تحقیق کی۔ خیال تھا کہ طویل دورانیہ کا ڈرامہ بنایا جائے۔ یہ تو نہ ہو سکا لیکن اُنہی دِنوں کراچی سے غیر قانونی طور پر مشرقِ وسطیٰ جانے والوں کی پرانی لانچ بیچ سمندر میں خراب ہو گئی اور جانی نقصان بھی ہوا۔ اِس واقعہ کو بنیاد بنا کر سینیٹر، ڈرامہ نویس اور اداکار تاج حیدر صاحب سے ایک طویل دورانیہ کا ڈرامہ ’جو گہرائی میں گئے‘ لکھوا کر سینئیر پروڈیوسر جناب بختیار احمد کے ساتھ کیا۔

سلطان قابوس کا قابلِ تعریف کام

میرے اِس یونٹ میں ایک منصوبے اور دوسرے کے درمیان اکثر ہفتہ پندرہ دِن کا وقفہ ہو تا جِس سے میں فائدہ اُٹھاتا۔ ایسے ہی ایک وقفے کے دوران میں نے مملکتِ بورونڈی کے دارالحکومت بُوجُونبُورا سے تنزانیہ کے شہر کِگوما جانے کا پروگرام بنایا۔ کیمپ سے باہر نکلا ہی تھا کہ قریبی بستی سے ڈھول بجنے کی آوازیں آنے لگیں۔ اب تو مجھے بھی پتا لگ گیا تھا کہ اِس قِسم کے ڈھول کا مطلب کوئی غیر معمولی واقعہ یا اعلان مقصود ہو تا ہے۔

یقین کیجیے بہ رضا و رغبت یونٹ والوں سے کہا کہ میں کام پر جانے کے لئے تیار ہوں۔ ایسے مواقع پر اکثر اچھے کَٹ اویز مِل جاتے تھے۔ ہم بھی اِسی نیت سے نکلے۔ ہمارا رُخ اندرون جنگل ایک مختصر سی بستی کی جانب تھا۔ یونٹ ریکارڈ کم وقت میں آواز کی سمت بڑھ گیا۔ ویسے اِس سے قبل مقامی افراد کو معلومات لینے کے لئے آواز کی سمت بھیجا جا چکا تھا۔ ابھی ہم راستے ہی میں تھے کہ سامنے سے کچھ لوگ دوڑے آئے۔ یقیناً کوئی اچھی خبر لائے تھے کیوں کہ خوشی اُن کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔ آنے والے تیزگام کی رفتار سے کچھ بتلا رہے تھے۔ کورونڈی زبان میں کہیں کہیں سواحلی کے یہ الفاظ ہی سمجھ آ سکے: ہیلی کو پتا (ہیلی کو پٹر) ، ماجیشی (مِلٹری/فوجی) ، علیمو (تعلیم) ۔ پھر مترجم نے بتایا کہ آگے جنگل بستی میں کسی عرب ملک کی شاہی فوج کے ہیلی کاپٹر آئے ہیں۔ اِن میں آنے والے فوجی، مقامیوں کو تعلیم کے وظائف دے رہے ہیں۔ کافی چلنے کے بعد ایک ہموار میدانی علاقہ نظر آیا جہاں 5 بڑے ہیلی کاپٹر ترتیب سے کھڑے تھے۔ اِن کے قریب تین خاصی بڑی تہہ ہو جانے والی میزیں اور کئی ایک کُرسیاں رکھی تھیں۔ ہیلی کاپٹروں پر سلطنت آف اومان لکھا تھا۔ ہر ایک میز کے ایک طرف فوجی وردی میں تین افراد اور اُن کے سامنے تین کرسیوں پر مقامی لوگ بیٹھے تھے۔ میز پر کاغذات کا انبار اور ان گنت کاغذی پلندے قریبی بکسوں میں رکھے ہوئے تھے۔

یونٹ کے سربراہ نے مترجم کے ذریعے جو گفتگو کی اُس کے مطابق سلطنتِ اومان کے سلطان قابوس بِن سعید کی ذاتی خواہش پر افریقہ کے غریب ترین ممالک کی غریب ترین بستیوں کے مسلمانوں میں مقامی حکومت کی اجازت سے تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں۔ یہاں صرف دو سرکاری ثبوت دیکھے جا رہے تھے۔ ایک یہ کہ وظیفہ لینے والا اُس ملک کا باشندہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ مسلمان ہو۔ جو بھی یہ ثبوت دیتا اُس کی کایا پلٹ ہو جاتی۔ وہ ایسے کہ خواہ سامنے والا پرائمری، سیکنڈری درجے، کالج یا یونیورسٹی جانے کا خواہش مند ہے اِن درجِ بالا دو ثبوت دینے کے بعد سلطان قابوس کی سلطانی مُہر والے سرکاری فرمان لینے کا اہل ہو جاتا۔ فرمان پر لینے والے سے متعلق لکھا جاتا کہ فلاں ملک کے فلاں اسکول، کالج، یونیورسٹی، پیشہ ورانہ درس گاہ میں اِس طالبِ علم کی تعلیم کے مکمل اخراجات (فیس، رہائش، کھانا پینا) سلطان قابوس کی ضمانت پر ہے۔

یہ ایسا سلطانی فرمان تھا جیسے دنیا بھر کے بین الاقوامی بینکوں میں مانا جانے والا کوئی چیک! اِس سارے عمل کو سلطانی عملہ کی اجازت سے فلم اور صدا بند کیا گیا۔ جو طلباء بالغ نہیں تھے اُن کے سرپرستوں سے لکھت پڑھت کی جاتی۔ میری تو مارے حیرت سِٹّی ہی گُم ہو گئی جب دیکھا کہ پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے خواہش مند کینیا، تنزانیہ کے نام لیتے اور مراد پاتے۔ سیکنڈری درجے کے بچے کا سرپرست، برسلز میں تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہوا۔

کمال کی بات کہ اُس کا یہ ارمان پورا بھی کر دیا گیا۔ ایک بات اومانی حکام مستقل دہراتے رہے کہ کسی کو ایک فرانک ( مقامی کرنسی ) بھی نقد نہیں مِلے گا۔ جب فیس، ہاسٹل، کھانا پینا اور سال میں ایک مرتبہ اپنے وطن آنا اور واپس جانا مفت ہو تو پھر بات ہی ختم ہوئی نا؟ وہ یہ بھی کہتے کہ وظیفے والوں کا مکمل ریکارڈ بشمول تعلیم حاصل کرنا، حاضری اور نتائج براہِ راست سلطان کو جائیں گے جو اُن کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ آیا آئندہ سال کا وظیفہ جاری رکھا جائے یا نہیں؟

عرب شیوخ، غریب اِسلامی ممالک کے عوام کی بہبود کے لئے امداد تو دیتے ہیں لیکن وہ ’معلوم‘ وجوہات کی بِنا پر ضرورت مندوں تک نہیں پہنچتی! افریقی غریب مسلمانوں کے لئے سلطان قابوس کی یہ مدد ہی در اصل اِسلام کی خدمت تھی۔ اِس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہو گی۔ سلطان قابوس بِن سعید (1940۔ 2020)، 1970 میں اپنے والد، سعید بِن تیمور کا تختہ اُلٹ کر سلطنتِ اومان کے سُلطان بنے۔ وہ موجودہ عرب دُنیا میں واحد سب سے لمبے عرصہ کے فرماں رواں ہیں۔ 23 جولائی 1970 سے 10 جنوری 2020 تک۔ سلام ہے سلطان قابوس پر جنہوں نے تیل کی دولت سے افریقی پسماندہ علاقوں کے مسلمانوں کا بھی خیال رکھا۔

Serengeti سِرانگیِٹی نیشنل پارک (تنزانیہ) کا واقعہ

میں نے اس وقت تک تو جنگل میں صرف کام ہی کیا تھا لیکن اب اُس جاپانی نوجوان ناکاگاوا کی طرح بس میں تقریباً 500 میل کے فاصلے پر واقع سِرانگِیٹی نیشنل پارک دیکھنے کا ارادہ کیا۔ مجھے شیروں کو اُن کے قدرتی ماحول میں دیکھنے کا شوق تھا۔ کِگوما میں لوگوں سے معلومات لیں کہ کسی گروپ کے ساتھ منسلک ہو کر جانے میں خاصی بچت ہو گی۔ سِرانگیٹی پہنچ کر خوش قِسمتی سے تین افراد کا گروپ مِل گیا۔ اِن میں یورپ کے میاں بیوی اور اُن کے ایک قریبی مِلنے والے تھے۔ ضروری کاغذی کارروائی کے بعد ہم لوگ ایک گائیڈ کے ساتھ چھ سیٹوں والی رینج روور میں سرانگیٹی نیشنل پارک میں داخل ہوئے۔

راستہ میں جو چھوٹا موٹا جانور مِلتا، تمام حفاظتی ہدایات کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ لوگ گاڑی سے باہر نکل کر کیمروں سے تصاویر ُاتارنے لگتے۔ اِن میں سے ایک صاحب 8 ایم ایم سُپر موشن پِکچر کیمرے سے عکس بندی کر رہے تھے۔ ایک جگہ گائیڈ نے ٹھہرنے کو کہا۔ خاصے فاصلے پر شیروں کا ایک گروپ بیٹھا نظر آیا۔ حسبِ عادت یہ لوگ گاڑی سے اُترنے لگے۔ گائیڈ نے منع کیا لیکن اُترنے میں سب سے شیر تو خود گروپ کی خاتون ہی تھی۔ منہ ماری ہونے لگی۔

گائیڈ کا کہنا تھا کہ آپ کی اپنی حماقت سے آپ کے ساتھ کچھ ہوا تو میرا لائسنس ختم ہو جائے گا۔ وہ خاتون اپنے اِسٹل کیمرے کے ساتھ گاڑی سے باہر اُتری اور اُن کے شوہر اُس سے کچھ فاصلے پر اپنا فِلم کیمرہ اسٹینڈ پر فِٹ کرنے لگے۔ پھر اچانک جو ہوا وہ سیکنڈوں کی بات ہے! وہ شیر گاڑی سے خاصی دور تھے۔ ظاہر ہے اگر قریب ہوتے تو یہ بے وقوف لوگ نیچے نہیں اترتے۔

میری بھی توجہ شیروں اور اِن میاں بیوی کے درمیان بٹی ہوئی تھی لیکن گائیڈ پیشہ ور تھا۔ اُس کی تمام تر توجہ شیروں پر تھی۔ اچانک وہ خبردار کرنے کے لئے چیخا۔ اور ساتھ ہی ہوائی فائر کر دیا۔ ایک نسبتاً چھوٹی شیرنی بجلی کی سی تیزی سے اُن دونوں کے سر پر آ گئی۔ ایک اور ہوائی فائر ہوا اور ساتھ ہی چیخ پُکار شروع ہو گئی۔ ادھر دوسری طرف بیٹھے ہوئے باقی شیر بھی غصہ میں غرانے لگے۔ وہ دو نوں میاں بیوی فوراً گاڑی میں بیٹھ گئے۔ وہ عورت خوش نصیب تھی کہ چھوٹی شیرنی کا ایک پنجہ کمر پر رسید ہوا۔ شیرنی کے پنجے نے اُس کی پیٹھ ادھیڑ ڈالی تھی۔ پھر بھی زندگی کی بچت ہو گئی۔ کوئی بڑی شیرنی ہوتی تو نہ جانے کیا ہوتا! باقی شیروں کے تیور بھی کوئی اچھے نظر نہیں آ رہے تھے۔ ڈرائیور نے گاڑی بڑھائی اور تیزی سے کیمپ آفس کی جانب دھول اُڑاتے چلا۔

کیمپ آفِس میں خاتون کی ہنگامی مرہم پٹی کی گئی۔ شاید وہاں سے کسی بڑے اسپتال میں منتقل کیا جانا تھا۔ مجھ سمیت سب ہی کے سرکاری بیانات قلمبند کیے گئے۔ کیوں کہ گائیڈ کے لائسنس کا سوال تھا۔ خاتون اپنی ہیکڑی بھول کر اب سہمی ہوئی تھی۔ وہاں علم ہوا کہ ببر شیر اور شیرنیاں سیاحوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ ایسا شاذ و نادر ہو تا ہے۔ اُس خاتون کی وجہ سے پارک کی سیاحت ادھوری رہ گئی! یہیں ایک میل نرس سے مُلاقات ہوئی جِس کا تعلق زائر (پرانا نام کانگو) سے تھا۔

اُس نے اپنے ملک کی جو مختصر تاریخ سُنائی اُس کو سُن کر بہ حیثیت مسلمان، شرمندگی سے سر جھُک گیا۔ وہ ایسے کہ کانگو کی پُراسرار سرزمین کے قصے کہانیاں یورپ میں بہت مقبول تھے۔ کہ وہ خطرناک جنگلوں اور آدم خوروں کی جگہ ہے وغیرہ۔ پھر قریب کی تاریخ میں غلاموں کی تجارت میں اِس ملک کا نام مشہور ہوا۔ وہ بتلا رہا تھا کہ اوروں کے ساتھ اِس انسانیت سوز تجارت میں ایک بڑا حصّہ عرب مسلمان تاجروں کا بھی رہا۔ جو غلاموں کے علاوہ ہاتھی دانت کا بھی کام کرتے تھے۔

دریائے کانگو کا سفر

سرانگیٹی کی سیاحت تو ’وَڑ‘ گئی البتہ میرے پاس ابھی کچھ دِن باقی تھے لہٰذا کانگو اور دریائے کانگو میں سفر کرنے کا سوچا۔ دریائے کانگو کی سیاحت کی ایک بڑی وجہ میرے والد صاحب کی سنائی ہوئی اسی خطہ کی مہم جوئی کی ایک کہانی تھی ( خاکسار نے کہیں سے اُس ناول کا بندوبست کر کے ترجمہ بھی کر دیا ہے)۔ حجم کے لحاظ سے دریائے کانگو دنیا کا دوسرا بڑا دریا ہے۔ اِس کا طاس کئی ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اِس طرح یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا جنگلاتی طاس ہے۔

اُس میں مختلف نوعیت کے دلدل اور نہایت گھنے جنگلات ہیں جہاں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں۔ تنزانیہ، روانڈا، بُورونڈی، زائر اور دیگر ممالک میں اس کا طاس واقع ہے۔ جھیل ٹانگا نیکا کا پانی بھی دریائے کانگو میں آتا ہے۔ اس کے لئے مجھے واپس کِگوما جا کر دریائے کانگو میں سفر کرتے ہوئے چھوٹے شہر ’کلیمی‘، ’کبالو‘ اور ’کِنڈو سے‘ ہوتے ہوئے کِساَنگاَنِی اور پھر وہاں سے ’کِنساشا‘ جانا تھا۔ صرف اِن دو مقامات کا ہی دریائی فاصلہ ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ دریا تنزانیہ میں ختم ہو کر بحرِ اوقیانوس میں گِرتا ہے۔

اِس سفر کی خاص خاص باتیں

باقاعدہ کیبن یا سیٹوں والی کشتی اُس وقت میسر نہیں تھی لہٰذا مال بردار بڑی لانچ، جِس کو سندھ بلوچستان میں ہَوڑا کہا جاتا ہے اِس کے فرش پر بیٹھ کر سفر شروع کیا۔ ( 1976 میں خاکسار نے جامعہ کراچی کے دوست جعفر علی خان کے ساتھ بولان میل میں کوئٹہ سے کراچی کا سفر، ایسے ہی فرش پر بیٹھ کر کیا تھا) ۔ اُس زمانے میں مال بردار لانچوں کی آمد و رفت کا کوئی مقررہ وقت نہیں تھا۔ عام چلن تھا کہ کہیں بھی مسافر اور سامان چڑھا اُتار سکتے تھے۔

کِساَنگاَنِی اِس لانچ کا آخری اسٹاپ تھا۔ یہاں سے سیٹ والی لانچ ملی جِس پر کِنساشا تک ہزار کِلومیٹر سفر کرنا تھا۔ یہ بہت بڑی لانچ تھی جِس میں کاریں اور مویشی بھی تھے۔ چھوٹی کشتیوں اور چپو والی ڈنگیوں سے اِس چلتی ہوئی لانچ میں سامان چڑھایا جاتا رہا۔ خود کنساشا شہر میں میلوں اِسی دریائے کانگو سے سفر ہوتے دیکھا۔ دو تین مرتبہ قریبی دلدل میں مختلف حجم کے مگر مچھ نظر آئے۔ عملہ کے افراد نے بتایا کہ اب بھی کناروں پر بڑے جانور جیسے شیر وغیرہ نظر آ جاتے ہیں۔

کونین کی گولیاں اور مچھر بھگانے کا تیل یہاں اہمیت کا حامِل تھا۔ مجھے اول روز کیمپ میں بتا دیا گیا تھا کہ وسطی افریقہ میں درندوں اور مگر مچھوں سے اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے ملیریا سے۔

کسانگانی پہنچ کر چپو والی کشتی بمع ملاح سے طے ہوا کہ وہ کھاڑیوں اور جزیروں میں لے جائے۔ تقریباً پورا دِن لگ گیا لیکن وہ سب خود دیکھ کر بہت اطمینان حاصل ہوا جیسے کے ٹو پہاڑ سر کر لیا ہو! صرف اِس دِن کا مشاہدہ اب تک کی اِس دریائی مہم کا حاصل اور قطعاً گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ یہ کہنا بیکار ہو گا کہ اِس کی مدد سے میں نے والد صاحب کی سُنائی ہوئی کہانی میں مناسب رنگ بھرنے کی کوشش کی۔

کسانگانی اور کنساشا کے لمبے سفر نے مجھ پر اثر کیا۔ کونین کی گولیاں اپنی جگہ لیکن مجھے بخار نے آ لیا۔ کنساشا کے پورٹ اسپتال میں ڈاکٹر کو دکھایا۔ آثار اچھے نہیں تھے۔ ٹیسٹوں اور آرام کے لئے سرکاری اسپتال میں داخلہ مِل گیا۔ ایک رات تو بخار بہت تیز تھا پھر اللہ نے کرم کیا۔ چار روز اسپتال میں رہا۔ میں اسپتال سے مطمئن تھا۔ پھر فیصلہ کیا کہ یہیں سے ہوائی جہاز سے بوجومبورا چلا جاؤں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ ائر تنزانیہ کے فوکر جہاز میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پیر الہٰی بخش کالونی کراچی کی 8 نمبر کھٹارہ بس میں سفر کر رہا ہوں!

بوجومبورا میرا مسکن نہیں لیکن اتنی بھیڑ بھاڑ کے مقابلے میں اِس کم آبادی والی جگہ آ کر بہت راحت مِلی۔ میرا اُس یونٹ میں زرافوں سے متعلق آخری کام تھا جِس میں کوئی خاص قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ پھر میں چھٹی لے کر کراچی چلا گیا۔ وہاں پہنچنے کے 20 روز میں اللہ کے فضل سے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کراچی مرکز میں شعبہ پروگرام میں معاون پروڈیوسر کی حیثیت سے منسلک ہو گیا۔ یہ ملازمت کیسے ملی؟ ملازمت تو دور کی بات ہے، میں نے اور میرے عزیز دوست سہیل اختر علوی (م) نے اس ملازمت کی درخواست کس پس منظر میں لکھی؟ آئندہ سہی!

Facebook Comments HS