دلوں میں بستے جنگل


جولائی کی حبس زدہ صبح دارالحکومت کی ایک کنکریٹ کی بنی سفید بے لچک سڑک پہ گاڑی چلاتے اور دونوں طرف معدوم ہوتی ہلکی سُرخ پہاڑیوں کا نوحہ پڑتے ایک ہی خیال تواتر سے آپ کے دل میں ترازو رہتا ہے

کیا یہ وہی خوبصورت، پُرسکون اور سرسبز قصبہ ہے جس کا آسمان پرندوں، سبز شاخوں اور مری کی پہاڑیوں سے اُترتی خنک ہوا سے نیلگوں رہتا تھا؟

آج سے چار عشرے پہلے کا اسلام آباد شاید ہی کسی کو یاد ہو، چہار سمت سے آئے کچھ برس بسے مکین اسے چھوڑ چُکے، کئی بادل نا خواستہ دوسری زمینوں پہ جا بسے اور بہت سے ہم جیسے اس شہر خوباں کو مکمل سرکاری و غیر سرکاری نیم تعیش زدہ کالونیوں کا جامہ اوڑھتے دیکھتے رہے۔

نخوت کی کولتار ہر سبز شجر اور ہر کوچۂ دلدار کو سیاہ تر کر چُکی۔
ردائے شہر مسموم اور نازنینانِ شہر یار ہر پل دیار غیر میں شرح آرزو کی طلبگار ہوتی سُنی گئیں!
اس برزخِ سنگ دلاں میں کتنے ہوں گے جو زاد راہ ہوتے ہوئے بھی ہجرت سے پسپائی اختیار کر چُکے ہوں؟
کیا خبر اور کس کو پتہ!
بندہ نارسائی کے خوف سے ناروائی پہ اُتر آئے تو اشرف المخلوق تو نہ ہوا!

خیر یہ سب تو جملہ ہائے معترضہ ہیں اصل تفصیل اس اجمال کی یوں ہوئی کہ ہمارے مُربی اُستاد، پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس جو کہ تقریباً پانچ چھ دھائیوں سے پاکستان کے دو بڑے تعلیمی مراکز میں اپنا علمی و تدریسی کیرئیر کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد اسی شہر خوباں و افسران میں واپس آ چکے ہیں، نے سندیسۂ ملاقات بھیجا۔

یہ دعوت بہت سے بچھڑے ہوؤں کی یاد تازہ کرنے، گزشتہ دو دہائیاں جو پروفیسر صاحب نے اسلام آباد اور تخت لاہور کے بیچ ہفتہ وار ’موٹروے گردی‘ کی روُداد سُننے کے علاوہ ایک اور طمع خالص کے لئے بھجوائی تھی، وہ اپنے فارم کا وزٹ بھی تھا۔

مجھے اپنے ہاتھوں سے اُگایا جنگل دکھانے کی بات کرتے ہوئے وہ معمول سے زیادہ پُرجوش لگے!

اسی کی دہائی میں جامعہ قائداعظم کے کلیۂ سماجیات میں کئی نادر اساتذہ اس شہر اور دیگر ملکوں کے لئے نوجوان پاکستانیوں کی دو نسلوں کی تعلیم و تربیت

میں محو تھے جنہوں نے وفاقی و صوبائی بیوروکریسی، فارن سروس، تعلیم اور ابلاغیات کے شعبوں کی پختہ قیادت فراہم کی۔ پروفیسر احمد حسن دانی ہوں، یا پروفیسر وحید الزماں صدیقی، پروفیسر محمد رفیق افضل جیسے نابغہ روزگار محقق ہوں یا کنیز فاطمہ یوسف جیسی شفیق ہستی! پروفیسر رئیس سمیت ہر ایک نے اپنا فرض پوری تندہی سے نبھایا جس کی مثالیں انہی کوچہ ہائے رفتگاں میں بکھری پڑی ہیں۔ اور کہیں کسی قائدین کی یاد گم گشتہ کو صدا لگائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی اس سرسبز پہاڑوں میں گھری جامعہ میں ایک بار آیا با بار آیا!

”سب اُسی زلف کے اسیر رہے“ والا معاملہ۔ کس کس کا نام لیں کہ ہمہ خانہ آفتاب بُود۔

مقررہ جائے ملاقات تو ایک جہان حیرت تھا۔ راجن پور کے گاؤں میں دو سال کے بچے کا تصور زیست اور آج اپنی محنت سے بنسیس ایک خواب نگر۔ زیتون، آم، کبوتر، طویل و عریض سبز گھنے پیڑ،

کنالوں پھیلے سبزہ رنگ صحنوں کے بیچ کنول تالاب اور اس میں اُگے ہر رنگ اور دیس کے سُوسن

بچوں جیسی شیفتگی کے ساتھ میزبان ہر شجر کی تاریخ، قد و قامت اور پھل کی تعداد و مقدار پہ روشنی ڈالتے رہے۔

ان کے ہمسائے میں ہی محترم سینئر قائدین جناب ظفر گوندل صاحب بھی حق زمیندارہ نبھاتے ایک تقریباً اسی طرح کے جنگل کے مکین ہیں ہر دو کی

محنت پیہم اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ مٹی اور زمین سے اُکھڑے لوگ دراز تر کار جہاں کے باوجود دلوں میں سرسبز زمینوں کے خواب لئے پھر رہے ہیں۔ یہ خواب شہروں کی مسموم ہوا میں کچھ دیر کے لئے مدھم ہیولوں ُکی شکل ضرور اختیار کر لیتے ہیں مگر جب زندگی راستہ دے تو دلوں کے جنگل زمین پہ مجسم ہو جاتے ہیں اور برسوں پہلے اُن میں رچی کچی مٹی میں گندھے بیر، شہتوت اور جامن کے خواب آج کے ایواکاڈو، زیتون اور سنگتروں کے جنگل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

یہی چند لوگ خواب دیکھنے والے ہیں! جنہوں نے اپنی آشفتہ سری کی بدولت مٹی کی محبت اور دلوں میں بسے قدیمی جنگلوں کو ہرا بھرا دیکھا!

دُعا ہے کہ رب عظیم ہماری آئندہ نسلوں کو اس خواب سے محروم نہ کرے!

پاکستان کی سیاسی تاریخ و نظریات اور تعلقات عامہ پڑھاتے رہنے کے باوجود پروفیسر صاحب نے سپنے اندر ایک جنگل اُگانے کی خواہش کو جگائے رکھا۔ کالم لکھنے اور ٹی وی پہ حالات حاضرہ کی مصروفیات کے باوجود گزشتہ بیس سال سے وہ پودے لگاتے رہے اور توقع اور اُمید کے ساتھ سیراب کرتے رہے۔ آج یہ شاندار سبز درخت ہمیں وطن عزیز میں موسمیاتی بدلاؤ اور آفات کے ساتھ نپٹنے کا عملی درس دیتے نظر آتے ہیں۔ اور

یہی ایک شاخ نہال عزیز و حلیف رکھنے کی ضرورت ہے!

Facebook Comments HS