ہمارے ڈسکہ میں محرم کے وہ دن
آپ سمبڑیال روڈ سے محلہ ٹھٹھیاراں کی گلی میں داخل ہو چکے ہیں اور آپ کو انچائی چڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اب آپ کے بائیں جانب گردوارے کی عمارت ہے، ہمارے محلے کی پرشکوہ عمارت، اور دائیں جانب بھلے کے بھائیوں کی پتیسہ بنانے کی دکان ہے، اس پتیسہ جیسا ذائقہ اب ان کی دکان کے ساتھ ہی تمام ہو چکا ہے۔ ان کی دکان کے ساتھ جونی کا گھر ہے، ان کے گھر کے ساتھ چاچو ایوب اور سودے، تائے امین عرف تائے مینے کے بیٹے، کا گھر ہے، اور اس گھر کے ساتھ وہ دکان ہے جس کے دکان دار ہمیشہ بدلتے رہے۔
میں نے سب سے پہلے وہاں ریاض نامی ایک آدمی کو دکان کرتے دیکھا، جو بچوں کے کھلونے اور دوسری چیزیں بیچتا تھا۔ اس کی دکان سے تو پہلی مرتبہ میں نے اپنی جمع پونجی سے ٹوتھ پیسٹ بھی خریدی تھی۔ وہ دکان جیرو کے پاس بھی رہی جہاں وہ مزیدار مضر صحت لوبیا چنے اور گولے گنڈے بیچتا تھا۔ اس دکان پر ایک عرصے تک پہلے تایا مینا اور پھر چاچو سُودا دودھ دھی بھی بیچتے رہے۔ آج کل وہاں آچُھو، میرا یار جس کے ہاں میں نے سب سے پہلا دعوتی کھانا کھایا تھا، کے چچا سبزی اور پھل بیچتے ہیں۔
اس دکان کے ختم ہوتے ہی آپ دائیں والی گلی میں مڑیں تو وہ گلی آپ کو بل کھاتے ہوئے راستے میں آنے والے کئی مکان، جن کے مکینوں کا تعارف ابھی ادھار ہے، چھوڑتے ہوئے آپ کو َکلی گروں کے مکان والی گلی سے دو گلیاں آگے نانی فاطمہ اور بھابی شیداں کے مکان کے سامنے جاوید شاہ عرف جیدی شاہ وغیرہ کے گھر والی گلی کے سامنے لے جا کر کھڑا کردے گی۔ آپ کھڑے کیوں ہیں، گلی کے اندر کیوں نہیں جاتے؟ بھائی، میں عمر بھر چاہنے کے باوجود اس گلی، جو کہتے ہیں کہ آگے سے بند ہے، کے اندر نہیں جا سکا، مگر وہ ہمیشہ ہماری توجہ کا مرکز رہی ہے۔
ہمارے محلے میں وہ اہل تشیع احباب کا واحد اور مرکزی گھر تھا۔ میں اس گھر کے دو افراد کو جانتا ہوں، ایک انکل جیدی شاہ اور دوسرا ان کا بھائی قیصر شاہ۔ انکل جیدی شاہ گورے چٹے مگر قیصر شاہ گہرے گندمی رنگ کا حامل تھا۔ قیصر کو ہم نے مسکراتے اور انکل جیدی شاہ کو مسکراہٹ کے بغیر نہیں دیکھا۔ آتے جاتے خوش پوش جیدی شاہ کو ہم نے دیکھا جو ہر بار کمال شیریں لہجے میں ہم سے ہمارے کسی نا کسی چچا یا تایا کا حال پوچھتے، اور ایسا کبھی تو دن میں کئی بار کے ٹاکرے میں ہوتا۔
محرم آتے ہی ان دونوں بھائیوں کے لباس میں یہ تبدیلی آتی کہ پہلے سفید شلوار اور کالی قمیص پہنتے اور نویں اور دسویں کو مکمل سیاہ لباس پہنتے۔ ان کی بیٹھک، جس کا ایک دروازہ بھابی شیداں کے مکان کے سامنے کھلتا، میں آمد و رفت بڑھ جاتی اور نوحوں و مرثیوں کی آواز آنے لگتی۔ چونکہ اسی گلی سے ذوالجناح نے برآمد ہونا ہوتا تھا اس لیے ہماری نظریں اسی پر لگ جاتیں۔ ہم، یعنی میں، منظر، عمران اور دیگر لڑکے اب اس انتظار میں رہتے کہ کب وہ وقت آئے جب جلوس برآمد ہو۔
منظر میرا تایا زاد بھائی تھا جو نوجوانی میں 1993 کی ایک رات پھر کبھی نہ اٹھنے کے لیے سویا اور پھر کہانی ہو گیا۔ مین نے اپنے تایا کو برسوں اس کا سوگ ایسے مناتے دیکھا جیسے ہمارے ہاں غم حسین ابن علی منایا جاتا ہے۔ منظر تھا بڑا پرکشش و جاذب نظر، وہ محلے بھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ وہ جب رخصت ہوا تو پورا شہر اسے رخصت کرنے اُمڈ آیا اور طاق تعداد میں جنازے کی صف بندی کرنے والے علامہ اس کے بغیر ہی جنازے پر آمادہ ہو گئے۔
دس محرم کو ان دنوں اس گلی جاوید شاہ کے کئی چکر لگانا ہمارا کام ہوتا، ہم چاہتے تھے کہ ذوالجناح کو برآمد ہوتے دیکھیں۔ ہمیں خوف رہتا کہ ایک بار یہ منظر ہمارے دیکھنے سے پہلے رونما ہو گیا تو پھر سال بھر انتظار کرنا پڑے گا۔ یہاں سے جلوس نکل کر ایک بڑے جلوس کا حصہ بنتا تھا۔
آپ گلی جاوید شاہ سے آگے نکل جائیں اور آپ اشرف ممبر کا گھر بھی پار کر جائیں اس سے اگلی گلی جہاں میرا یار جیدی رہتا تھا، اسے بھی پار کر جائیں اور آپ معصوم شاہ کے دربار کی طرف جا رہے ہوں تو دربار سے پہلے چَھتی ہوئی گلی آتی ہے۔ اس گلی کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں سے ہمیشہ مرثیوں، نوحوں اور ماتم کی آوازیں آتی تھیں۔ یہ ہمارے محلے میں اہل تشیع کا دوسرا گھر تھا۔ نہیں جانتا وہ کون تھے مگر اس کمرے میں ہمیشہ ایک لڑکا بیٹھا رہتا اور کیسٹ چلتی رہتی۔ منظر اکثر اس مکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ مارا کرتے ایسے جیسے ماتم کیا جاتا ہے، اور وہ پکارتا جاتا ”میرا ویر علی اکبر نئی آیا۔“ ۔
اس مکان سے آگے بڑھ کر آپ فوراً ہی بائیں مڑ جائیں تو آپ ڈاکٹر اصغر کے کلینک کے سامنے مین بازار میں نکل آئیں گے۔ اگر اپ اس مکان سے دائیں مڑیں تو اپ معصوم شاہ کے دربار والی بند گلی میں چلے جائیں گے، اس کا تفصیلی ذکر پھر آئے گا۔ اچھا آپ بازار میں آتے ہی دائیں مڑ جائیں چونکہ ہمیں وہاں جانا ہے جہاں ہم دس محرم کی شام سے پہلے جا پہنچتے تھے۔ آپ آگے بڑھیں، اپنے بائیں پہلے ڈاکٹر قریشی کا کلینک چھوڑیں، فانو وغیرہ کی سوَئیوں کی دکان چھوڑیں، دائیں جانب محلہ قصائیاں بھی چھوڑیں اور آگے بڑھتے جائیں۔
منزل پر جانے کے لیے آپ کو دائیں بائیں بہت کچھ چھوڑنا ہو گا۔ آپ چاچے کے دہی بھلے، مولوی کے چنے چاول، خواجہ مبارک کے گھر والی گلی، حتی کہ ڈاکٹر شبیر کا کلینک بھی چھوڑ کر آپ انکل شمس کی حویلی کے دروازے کے چبوترے پر چڑھ کر ایسے کھڑے ہوجائیں کہ آپ کو سامنے مچھلی بازار اور صوبے دار بازار والا چوراہا صاف نظر آنے لگے۔ ہم وہیں کھڑے ہو جاتے کیونکہ دس محرم کے تمام جلوس مغرب اور عصر کے درمیان وہیں چوراہے میں جمع ہوتے اور پھر عزا دار دو لائنوں میں آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے۔
یا حسین کی طلسمی پکار پر سب پہلے آہستہ آہستہ اور پھر تیز تیز، مگر ایسے کہ ردھم نہ ٹوٹے، ماتم کرنے لگتے۔ ایک صف میں صرف ماتم ہوتا مگر دوسری میں زنجیر زنی اور خنجر زنی بھی ہوتی۔ ہم یہ منظر دیکھتے رہتے، اور کبھی تو ان صفوں میں جا گھسنے کا دل کرتا۔ منظر اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے عزاداروں کا ساتھ دیتا۔ مغرب کے قریب جلوس وہاں سے منتشر ہوتا، عزادار لہو لگے جسموں کے ساتھ رخصت ہوتے، ہم بھی کوچ کرتے۔ وہ باپ بیٹا جو محلہ قصائیاں کے ساتھ گنجے کی دکان کے ساتھ پتنگیں بیچتے تھے، وہ جن کی شکلیں ایک جیسی تھیں وہ ہر سال اس چوراہے میں کالی شلوار پہنے ماتم کیا کرتے تھے۔
ہم گھر لوٹتے تو دادی دودھ کے گلاس سبیل کے ڈب میں سے بھر کر دیتی اور کہتی جاتیں تم پھر محرم کا جلوس دیکھ کر آئے ہو ناں۔ مین ہر سال سوچتا یہ تمام لوگ جو ماتم کے دن اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں یہ سال بھر کہاں چلے جاتے ہیں، صرف وہ گنجے کی دکان کے ساتھ والے ایک شکل کے باپ بیٹا ہی کیوں نظر آتے ہیں۔


