سائیڈ کار والی موٹر سائیکل


نہر کی پٹری پہ فرؔاٹے بھرتی موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پہ براجمان ہم کچھ ڈر رہے تھے کہ چلانے والا احسان پراچہ تھا۔ بالکل نئی موٹر سائیکل ٹرائمف ٹائیگر کب یعنی شیر کی بچی جسے احسان پراچہ کو خریدے ایک ماہ ہو چلا تھا اور وہ سیدھا سائیکل سواری سے بغیر کسی ٹریننگ اور بغیر لائسنس اور بغیر نمبر پلیٹ لئے بس کک مار سٹارٹ کر اس سواری کا ماہر ڈرائیور بن چکا تھا۔ ہم کچھ کچھ مطمئن بھی تھے کہ سرگودھا سے لائل پور کی بس مل جانے کی امید ہو چلی تھی۔

مگر جب پراچہ صاحب تیز ہوا اور کچی سڑک پہ اڑتی دھول سے آنکھیں تقریباً بھینچے بجائے آگے دیکھنے کے سر دائیں گھما اونچی آواز میں موٹر سائیکل کی خوبیاں بیان کرنا شروع کر دیتے۔ تو ہول بھی اٹھتا اور خوشی بھی کہ پہلی بار نئی اور وہ بھی اتنی خوبیوں والی موٹر سائیکل کی سواری کی تھی۔ بس اڈے پہ پہنچنے تک ہمارا شوق ہمارا انتظار نہ کر سکا اور اور تین ہزار روپے میں سودا ہو گیا اور ہم اگلے جمعہ لینے آنے کا کہہ بس میں سوار ہو گئے۔

ہمارے کاروباری تعلق میں ایک منفرد بات یہ رہی کہ اکثر یہ بے تکلف دوستیوں میں بدل گئے۔ چنانچہ آج دیکھتا ہوں کہ اپنے ہم ہم عمروں سے لے پندرہ بیس برس بڑے بھی اتنے ہی بے تکلف دوست بنے جتنے بعد میں ہم سے بیس پچیس برس چھوٹے ان کے بیٹے پوتے۔ اور کاروبار بلکہ ملک چھوڑے تئیس برس ہوتے بھی ان نئی نسلوں میں سے کئی سے گپ شپ ہوتی رہتی ہے۔ اکسٹھ سال قبل اپریل کے اس دن ہم صفدر پراچہ کی بارات کے ساتھ بھیرہ کے قدیم شہر کا فسوں بھی دیکھنے کا شوق بھی پورا کر چکے تھے اور واپسی احسان پراچہ نے آسان کی تھی۔

اب موٹر سائیکل چلانے کی ہماری مہارت بس تین چار روز اپنی دکان کے سامنے بنے موٹر سائیکل ڈرائیونگ سکول کے ماہر انسٹرکٹر سے ابتدائی سبق لینے تک محدود تھی جس کے متعلق دوسرے روز ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ڈرائیونگ سکھانے سے زیادہ مختلف بہانوں سے ٹھگنے میں ماہر تھا۔ مگر تسلی تھی بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق کی تقرری میونسپل کمیٹی کی موبائل ڈسپنسری میں بطور ڈاکٹر ہو چکی تھی اور ڈرائیور انہیں ایک دو دفعہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بٹھا کر ماہر ڈرائیور بنا چکا تھا۔

اگلے جمعہ کی سہ پہر ہم دونوں کچھ مزید سبق پراچہ صاحب سے سیکھ ٹائیگر کب کو کک مار لائل پور کا رخ کر چکے تھے۔ اور باری باری چلانے کا چسکا لے رہے تھے۔ ابھی لائل پور کوئی دس بارہ میل دور تھا کہ اچانک ”ڈولا رے ڈولا، دل ڈولا“ کا سا لگنے پر موٹر سائیکل روکی تو پچھلا ٹائر پنکچر ہو چکا پایا۔ پہلا واہ تے پہلا پھاہ کا محاورہ یاد آیا۔ بڑے بھائی جان جنہیں بتائے بغیر آئے تھے کے غصے کا تصور کانپی لگا گیا۔ ساتھ ہی ان دنوں بناکا گیت مالا پہ سنا ثریا کی آواز میں ”کبھی نہ بگڑے کسی کی موٹر رستے میں، آدمی بن جاتا ہے جوکر رستے میں“ ذہن میں گھوما تو یاد آیا ایسے موقعہ پر ہماری فلموں میں ایک دلربا دشمن ہوش و حواس، سیٹھ کی بیٹی اچانک پاس آ کار روکتی ہے اور ڈرائیور کو موٹر سائیکل اٹھا اپنی بڑی سی ڈگی والی امپالا کار میں رکھوانے میں مدد کا کہہ لفٹ دیتی ہے اور پھر ازلی محبت کی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔

ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اب محبت کا حق کس کو ہو گا ڈاکٹر صاحب کو یا موٹر پارٹس کے عام سے دکاندار کو کہ دور سے آتے ایک ٹرک پہ نظر پڑی۔ اشارہ کیا، بھلے مانس نے ٹرک روکا، درخواست سنی، کلینر کے ساتھ مل موٹر سائیکل اٹھا کسی طریق سے ٹرک میں لدی ریت کے اوپر کھڑی کی۔ کلینر کو اس کے اوپر بیٹھنے کا کہہ ہمیں کیبن میں ساتھ بٹھایا اور دلربا حسینہ سے رومان کے خواب چکنا چور ہو ٹرک ڈرائیور اور کلینر کی صورت فرشتہ بنے افراد کا ممنون بنا گئے۔

ٹرک ڈرائیور سمجھا رہا تھا کہ موٹر سائیکل لٹا کر رکھنے کی صورت میں پٹرول لیک ہو آگ کا خطرہ یا ریت کے ذرے کہیں پھنستے موٹر سائیکل کو مزید مرمت طلب بنا سکتے تھے۔ یہ ہمارے لئے ڈرائیونگ کی زندگی میں سیکھا پہلا ٹوٹکا تھا۔ لائل پور محصول چونگی ( موجودہ بس سٹینڈ سے کوئی ایک کلو میٹر آگے ) پر ہم موٹر سائیکل اتارتے شکریہ ادا کرتے دور سے آتی گدھا گاڑی روکتے اس پہ موٹر سائیکل کھڑی کرتے ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے اپنی دکان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ شیر کی بچی کے ساتھ ڈاکٹر شفیق احمد اور بزنس مین لئیق احمد گدھا گاڑی کے معزز مسافر تھے۔ دکان کے ساتھ مارکیٹ کے اندر موٹر سائیکل کھڑی کرتے گھر پہنچ بڑے بھائی سے سیکنڈ شو میں فلم دیکھنے کا بہانہ کامیاب رہا اور صبح سامنے ٹائر مرمت دکان سے پنکچر لگوا واقعی موٹر سائیکل سوار بن چکے تھے۔

موٹر سائیکل کی سواری ہمیں کبھی کبھار دیکھی جنگ عظیم کے متعلق فلموں میں خاکی رنگ کے بھاری بھرکم موٹر سائیکلوں پہ جاتے فوجی دیکھ بھائی تھی اور کبھی کبھار کوئی بندہ بیس پچیس سال پرانے ماڈل کے فوجی موٹر سائیکل کو ٹھیک ٹھاک کر رعب سے چلاتا سڑک پر بھی گزرتا نظر آتا۔ گو اکثر مکینک ہی ہوتے یا ریٹائرڈ فوجی نکلتے۔ اس وقت ہماری ابتدائی معاشی تگ و دو کی بنیاد جھال خانوآنہ پل سے سمندری روڈ پہ اترتے ہی ڈیزل موبل آئل وغیرہ کے بالکل معمولی سے کاروبار سے ہوئی تھی اور ہم کالج سے واپس آتے ہی تیل سے تر بتر کپڑے پہنے مزدور کا روپ دھارتے اور مٹی کے تیل ڈیزل وغیرہ کے کنستر سائیکل کے کیریئر پہ باندھ کریانہ کے دکانداروں یا نزدیکی چھوٹی فیکٹریوں کو سپلائی کرتے۔ یا پانچ پانچ من کے ڈرم ڈھوتے۔ یوں کالج کے بعد دکاندار کا روپ ہوتا۔ ہمارے شوق کو مہمیز اس دن لگی جب ایک بہت ہی پرانے ماڈل کی مگر بہت چمکتی بھاری فوجی موٹر سائیکل پر سوار ٹیپو انڈسٹریز کے چوہدری زکریا ہماری دکان کے سامنے سے گزرے۔ یوں کہ موٹر سائیکل کے ساتھ لگی سائیڈ کار پر ان کی بیگم مسز زکریا ( بعد میں وائس پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج ) بیٹھی تھیں۔

فلموں میں سائیڈ کار پہ فوجی افسر بیٹھا اور ڈرائیور چلانے والا تو دیکھا تھا۔ مگر وہ منظر کچھ ایسا رومانوی تھا کہ آنکھوں میں بس گیا اور ابھی تک نہیں بھولا۔ اور ہم بھی فوجی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سائڈ کار میں بیٹھی بیگم کے ساتھ سہانے سفر کے تصور کو دل میں جگہ دے بیٹھے۔ زکریا اکثر اکیلے مگر کبھی کبھار دونوں آتے جاتے گزرتے نظر آتے۔ ٹیپو انڈسٹریز سے بل وصول کرنے جاتے تو دفتر کے باہر سائیڈ کار والی موٹر سائیکل کو قریب سے دیکھنا بھی نصیب ہو جاتا۔ ان ہی دنوں پاکستان میں ویسپا سکوٹر کا داخلہ ہو چکا تھا ٹاویں ٹاویں کوئی نئی موٹر سائیکل بھی نظر آنا شروع ہوئی۔

انسٹھ کے آخر میں ہمارے کلاس فیلو دوست شیخ ساجد کریم اپنی طرح کی خوبصورت نئی نویلی سوا ہارس پاور کی جاوا موٹر سائیکل پہ کالج آنا شروع ہوئے تو یہ گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں آ کے پارک ہونے والی پہلی دو پہیہ مشینی سواری تھی۔ بی اے پاس کرنے کے بعد قسمت نے سرکلر روڈ پہ چھوٹی سی دکان پہ لا بٹھایا اور یوں ہم کوئی سال بھر بعد موٹر سائیکل چلانا سیکھنے کا اوپر مذکور دو روزہ سبق لے خود پہلی مرتبہ اکڑ کے چلے تھے۔

اور اب ٹرائمف ٹائیگر کب ہمارے نیچے تھی۔ رجسٹریشن کا مرحلہ آسانی سے طے ہو گیا لرننگ ڈرائیونگ لائسنس نے بھی دو تین چکر پولیس لائن کے لگوا ہماری جیب میں جگہ بنا لی مگر جب پکے لائسنس کی باری آئی تو شاید دس بارہ مرتبہ ایک دو گھنٹہ بٹھا امتحان لینے والے ٹریفک سارجنٹ کا منتظر رکھ محرر صاحب پھر آنے کا کہہ دیتے۔ اور یوں ہم نے تین برس لرننگ لائسنس کو ہی لائسنس سمجھا۔ لرننگ کی پلیٹ بھی لگانا بند کردی۔ ہمیں اس وقت تک پتہ ہی نہ تھا کہ محرر کے سامنے لرننگ لائسنس نہیں ٹریفک سارجنٹ کے نام کی ویل رکھیں تو محرر سارجنٹ بن جاتا ہے۔ اور پکا لائسنس مل جاتا ہے۔

اب ہم شہری بابو بن ٹوہر دکھاتے شفاف شیشوں والی عینک لگائے انگلی پہ موٹر سائیکل کی چابی کا چھلا گھماتے اس پہ بیٹھتے کک لگا سٹارٹ کرتے اور پہلی ڈیوٹی بھتیجیوں بھتیجوں کو محلے کا چکر لگوانے والی ادا ہوتی۔ دکان ہماری ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے تھی اور خوش قسمتی یا شومئی قسمت کہ گرلز کالج اور گرلز ہائی سکول اسی سڑک پہ تھے۔ لہٰذا بہت ہی احتیاط اور مہارت دکھاتے سفر کرنا پڑتا۔ پہلا کارنامہ اس وقت سر زد ہوا جب شدید سردی میں نیا گرم سوٹ جسم پر اور فر والے گرم دستانے ہاتھوں پہ چڑھائے ذرا نظر بہکی تو سڑک پہ پڑے کسی چھلکے وغیرہ سے ٹائر پھسلا اور ہم سڑک پہ لڑھک چکے تھے۔

آج تک حیرانی ہے کہ اتنی تیزی سے کیسے دوبارہ اٹھ موٹر سائیکل اٹھا سٹارٹ کی۔ خود کو تو لگا کہ کسی نے نہیں دیکھا مگر جب آگے جاتے تین چار تانگوں سے ہمیں گزرتے دیکھ کھی کھی کی آوازیں مسکراتی آنکھیں اور چمکتے دانت نظر آئے تو ظاہر ہے شدید سردی سے کانپتے جسم سے پسینے چھوٹے۔ امین پور بازار سے جمعہ پڑھ واپس آتے ایک مرتبہ پھر جو شامت آئی تو کیریر پہ بندھے ما لٹوں کے لفافے نے رقابت دکھائی۔ پھٹ گیا اور مالٹے سڑک پہ یوں بکھرے کہ ”اک دل کے ٹکرے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا“ والا معاملہ بنا اور جب ہم دائیں بائیں بھاگتے جھکتے اٹھتے جیبوں میں مالٹے ٹھونس پھر موٹر سائیکل سوار آگے بڑھے تو اب کے بہت آگے تک باقاعدہ قہقہے سنائی دیے۔ کہ سکول کالج دونوں کی چھٹی کا وقت تھا۔

زمانہ تیزی سے آگے بڑھتے پاکستان کا تھا ہونڈا اور سوزوکی اور دوسری موٹر سائیکل اور کاریں نظر آنے لگی تھیں۔ ویسپا سکوٹر سب سے مقبول ہو چکا تھا گو ہمیں اس لئے پسند نہ تھا کہ بیلنس قائم رکھنے کے لئے تھوڑا ”لک ٹنوں ٹنوں“ کر کے بیٹھنا پڑتا اور ہم تو ویسے ہی اپنے پرویز خٹک کی طرح جسیم تھے۔ اوائل گرما پینسٹھ میں احسان پراچہ ٹرائمف ہم سے واپس خرید ہمیں سوزوکی اسی سی سی کی انتہائی آرام دہ اور ہلکی پھلکی سواری کے سپرد کرا چکا تھا جو ایک گیلن پٹرول میں دو سو دس میل سفر کا دعویٰ بلکہ حقیقتاً ہوتا دکھاتی۔

کچھ دیر بعد ہی ہر چوک پہ ہر موٹر سائیکل سوار کو روک چیک کرنا شروع ہوا۔ جی ٹی ایس چوک پہ متعین سپاہی نے کہ ریل بازار چوکی سے ہوتے ہمیں پہچانتا تھا بتایا کہ اپنے نئے انتہائی نیک نامی کی شہرت رکھنے والے ایس ایس پی حاجی اورک زئی صاحب نے نئی کار خریدنی ہے لہذا ہر چوک پہ سو دو سو روپے ہر ڈیوٹی کے تفویض ہوئے ہیں۔ آپ ہمسائے بس دس روپے دیں۔ پکا لائسنس ابھی تک تھا نہیں۔ لہذا ہم تو قصور وار ہوتے۔ ہر چوک پہ سکوٹر موٹر سائیکل سوار حاجی صاحب کی کار میں حصہ ڈالتے نظر آتے۔

جنگ اخبار میں انعام درانی کے کالم میں خط لکھا وہاں تصدیق کے بعد زبردست کالم شائع ہوا اور سلسلہ کچھ رکا۔ جنگ کے ایک دو ماہ بعد دوبارہ شروع ہوا۔ اور تنگ آتے گپ شپ مارتے جڑانوالہ کے چوہدری سراج نے مئی چھیاسٹھ میں ہمارے ہمسائے چوہدری عنایت اللہ کی مورس منی مائینر عرف صابن دانی کار کی چابیاں ہمیں لا تھمائیں۔ ہم نے حساب کیا تو گزشتہ دس گیارہ ماہ میں ہمارا پٹرول کا خرچہ اسی روپے اور حاجی صاحب کی کار کا حصہ سو روپیہ نکلا۔

شکر کہ ہمارے دوست میاں ریاض اپنے دوست انسپیکٹر ٹریفک پولیس امیر عمر نیازی سے بنوا پکا موٹر ڈرائیونگ لائسنس، کار اور موٹر سائیکل کا، ہماری جیب میں گھسا چکے تھے۔ جب کہ ابھی ہمیں کار کا سٹیئرنگ بھی ٹھیک طرح سنبھالنا نہ آتا تھا۔ پانچ ماہ بعد ہم صابن دانی چھوڑ بہت پرانی فیئٹ گیارہ سو سی سی کے مالک تھے اور اکتوبر کی ایک ٹھنڈی شام پولیس چوکی کے ساتھ والے مجید پوشش ہاؤس کے مجید صاحب کا بیٹا ہماری کار کا ملیشیا کپڑے کا بنا غلاف مانگ رہا تھا کہ چوکی سے حاجی اورک زئی صاحب کی نئی فیئٹ گیارہ سو کار کا غلاف بنا دینے کا حکم ملا ہے اور ہم جھانک مجید کی دکان کے سامنے چمکتی نئی سفید کار کھڑی دیکھ خوش تھے کہ مجید صاحب ایک ہی قسط میں ہم سے زیادہ حصہ کے شریک اس کار میں ہو چکے تھے۔

زمانہ آگے بڑھا۔ انیس سو ساٹھ میں گورنمنٹ کالج ( اب یونیورسٹی ) سے بی اے کر نکلنے والے محنت کش کا بیٹا انیس سو نوے میں اسی کالج میں اپنے بیٹے کو جاتے دیکھ رہا تھا۔ ایک دن بیٹا روہانسا بولا کہ آج واپسی پہ لوکل بس کے پیچھے جنگلے سے لٹکے ہاتھ چھوٹتے بچا ہوں تو اگلے روز شام اسے نئی ہونڈا سیونٹی موٹر سائیکل کی چابیاں پکڑا چلانے کی پریکٹس کرا رہا تھا۔ چند ہفتے بعد ہی پھر پریشان دیکھا۔ کریدا تو پتہ چلا کہ جونہی وہ کالج کے موٹر سائیکل سٹینڈ پہ پہنچتا ہے کالج یونین کے عہدیدار چابیاں لے لیتے ہیں۔ البتہ اس کے پیریڈ ختم ہونے پہ موٹر سائیکل سٹینڈ پر اور چابیاں سٹینڈ انچارج سے مل جاتی ہیں۔ وہیں بیٹھے ایک مہربان کے مشورہ پر کالج سے پہلے النور ہسپتال کے کے موٹر سائیکل سٹینڈ پہ کھڑا کرنا شروع کیا۔ اور اس کے قائد اعظم یونیورسٹی میں جانے سے پہلے ہم موٹر سائیکل آخری مرتبہ چلا کر فروخت کر چکے تھے۔

زمانہ بدلا۔ حالات نے کینیڈا کیلیڈن میں ایک بہت پرانے گیس سٹیشن ( گو اپنا ملکیتی ) پہ باپ بیٹے کو پھر مزدوری کرتے پایا۔ گرمیاں شروع ہوئیں تو یہاں انتہائی بھاری بھرکم چمکتے بہت قیمتی موٹر سائیکل پٹرول لینے آنا شروع ہوئے۔ ان پہ سوار لمبے اونچے بھاری ڈشکرے سے سوار ہوتے۔ ہم اخبار میں یہاں اور یو ایس اے کے بائیکر گینگز اور جرائم مافیاز کے متعلق پڑھتے تھے۔ مگر محبت پیار کی دکانداری کسی بھی گرمیوں کی سیر کے ایسے گروپس میں سے کئی کے اپنے اکٹھے ہونے کا مرکز ہمارا گیس سٹیشن بنا گئی اور ان سے بزنس بھی ملتا اور ہم دیکھنے کی حد تک نئی کار سے مہنگے موٹر سائیکل دیکھنے کی حد تک اور کبھی کبھار گپ شپ میں ان کے کارنامے سنتے چسکا لے پیاس بجھانے لگے۔

یہ گروپ بعض اوقات کئی کئی ہزار کلو میٹر کی سیر کا پروگرام بنا نکلتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر چنیوٹ کا سابق فوجی، انتہائی اعلیٰ ادبی ذوق کا مالک، گہرا دوست بن چکا اور ماہر آٹو الیکٹریشن صوفی صدیق بہت یاد آتا جو ہر سال گرمیوں میں چنیوٹ کے شوقینوں کا گروپ بنا اپنے چالیس کے اوائل کے ملٹری ماڈل موٹر سائیکل کی رہنمائی میں پندرہ بیس موٹر سائیکلوں کی قطار بنا شمالی علاقوں کے دشوار گزار راستوں اور حسین نظاروں کی سیر کراتا۔

اس کی ریٹائر منٹ کے بعد یہ قیادت شکیل آٹوز کے شیخ سلیم نے سنبھالی چند برس قبل کوئی دو گھنٹے کی فون گپ شپ میں اپنی سیاحت کے قصے سناتے رہے۔ دو سال قبل ابدی سفر پہ جا چکے۔ سنا ہے اب بھی چنیوٹ کے شوقین کئی موٹر سائیکل گروپ نکلتے ہیں۔ راہیں بہت دور، بہت دشوار گزار علاقوں تک پہنچنا آسان کر گئیں اور شاید یہ موٹر سائیکل سیاحت بھی بہت ترقی کر چکی۔ کینیڈا وغیرہ کے سرد علاقوں میں لوگ اپنے گیراج میں مہینوں پارک شدہ موٹر سائیکل نکالتے چمکاتے مزے لیتے ہیں۔ انتہائی بھاری بھرکم موٹر سائیکلوں کے ہجوم میں اب ہمارے تارک الوطن جوان بوڑھے بھی سو دو سو سی سی کی موٹر سائیکلیں چلاتے نظر آتے ہیں۔

گرمیاں شروع ہوتے ہی شوقین خود تزئین کردہ یا تزئین کرا بالکل نئی نظر آتی سو سوا سو سال تک پرانی کاریں اور موٹر سائیکل نکال

گلیوں سڑکوں میں گھومتے ہیں کرتب دکھاتے ہیں۔ خصوصی نمائشیں لگتی ہیں اور سو سوا سو برس پرانی ہزار پانچ سو ڈالر مالیت کی گاڑی ساٹھ ستر ہزار سے لاکھوں ڈالر تک میں فروخت ہوتی ہے۔

دو تین روز قبل ایسی ہی ونٹیج ( یادگار، آثار قدیمہ قسم کی ماڈرن بنائی اور تزئین شدہ ) موٹر سائیکل نمائش کا اشتہار نظر پڑا۔ اس میں ایک بہت ہی چمکتے رنگوں والی تیس کی دہائی کی سائیڈ کار لگی بھاری، ملٹری ماڈل لگتی موٹر سائیکل نظر پڑی تو ہم بھی چھیاسٹھ سڑسٹھ سال پیچھے پہنچے۔ ٹیپو انڈسٹریز کے چوہدری زکریا اپنی بیگم کو سائیڈ کار میں بٹھائے جھال خانوآنہ پل کے قریب سمندری روڈ پہ گزر رہے تھے اور تیل سے تر بتر مزدوروں کے لباس میں کالج فرسٹ ائر کا طالب علم ایسی ہی سائیڈ کار لگی موٹر سائیکل پر سوار اپنے جوڑے کا تصور کرتا کھڑا گردن موڑتے جاتے دور تک دیکھتا رہا تھا۔

( وقت کی نوازش کہ آٹھ برس بعد ان ہی چوہدری زکریا سے ان کی کوٹھی چھ سو دو بی بلاک فیصل آباد خرید کے قبضہ لیتے ان سے اسی سائیڈ کار والی موٹر سائیکل والے نظارے اور اپنے خواب کو شیئر کر رہا تھا اور دونوں کے قہقہے فضا میں بکھر رہے تھے۔ )

Facebook Comments HS