سیاسی جماعتوں پر پابندیوں کی آئینی و قانونی حیثیت
جمہور جس کو ہم عوام کی حکومت کہتے ہیں اس کا اطلاق ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے ذریعے سے ہی ہوتا ہے۔ جمہوریت انہی معاشروں میں پنپ سکتی ہے جہاں عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو آمریت کے سائے سے دور آزادی سے پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ مگر ایسے معاشرے جن میں امن مہنگا ہو جائے تو مزاحمت کے ذریعے سے امن اور توازن لایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے کوئی بھی سیاسی جماعت آمریت کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکی۔
پاکستان کی تاریخ سیاسی جماعتوں پر پابندیوں سے بھری پڑی ہے ہر دور میں مختلف سیاسی جماعتوں کو مختلف طریقہ ہائے آمریت سے دبانے کے کوششیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سرسری تاریخ بھی دیکھے تو پتا چلتا ہے کہ 1951 میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں نامور شاعر فیض احمد فیض کو دیگر متعدد افراد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا۔ جولائی 1954 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں پابندی عائد کردی گئی۔
26 مارچ 1971 کو اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کو 8 سال کے دوران دو مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا، پہلے 1971 میں جنرل یحییٰ خان نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی جبکہ دوسری مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی۔ اس کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کی دوبارہ سے تشکیل کی گئی، پہلے اس کا نام نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور پھر عوامی نیشنل پارٹی رکھا گیا۔
مئی 2020 میں وزارت داخلہ نے جئے سندھ قومی محاذ آریسر کو ایک کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی۔ جس کا جرم سی پیک کی مخالفت تھا۔ 2021 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان کو کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی تھی۔ تاہم صرف چار ماہ کے عرصے کے بعد ٹی ایل پی کے احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت نے ایک معاہدے کے تحت جماعت پر عائد پابندی ہٹا دی تھی۔
پاکستان میں الیکشن قوانین کے مطابق سیاسی جماعت پر پابندی سے مراد اس سیاسی جماعت کو تحلیل / ختم کرنا ہے اور اگر کوئی سیاسی جماعت تحلیل کر دی جائے تو اس کے قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ کے منتخب ارکان بھی اسمبلیوں کی بقیہ مدت کے لیے نا اہل ہو جاتے ہیں۔ اور وہ عوام جنہیں نے ان اراکین کو منتخب کیا تھا وہ اپنے حق نمائندگی سے وقتی طور پر محروم ہو جاتے ہیں۔ آئین پاکستان کا ارٹیکل 17 اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 212 اور 213 کے مطابق حکومت پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کر سکتی ہے جو بیرونی امداد پر چلتی ہو یا پاکستان کی ’خود مختاری اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو۔
اگر موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کی طرف جانے کا اعلان کر چکی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کے خلاف وہ مواد موجود ہے جو اسے تحلیل کرنے کے لیے کافی ہو۔ پی۔ ٹی۔ آئی کے خلاف پہلا الزام بیرونی امداد کا تھا جو عدالت میں زیر سماعت ہے اور تاحال الزام حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا ہے، دوسرا الزام نو مئی کا ہے جس کی شہادت عدالت میں داخل کرنے سے حکومت خود کترا رہی ہے، آئی ایم ایف کو خط لکھنا بھی کوئی ایسی وجہ نہیں جس پر اتنی بڑی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہو۔
رہی بات پاکستان کی خودمختاری اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی تو کیا کوئی ذی شعور آدمی ملک خدا داد کو خودمختار ملک گردانتا ہے اور ملک کی ساکھ تو جس طرح چھلے دو سال میں آئین و قانون کی پامالی کے ذریعے حکومت نے متاثر کی ہے مناسب ہوتا حکومتی جماعت خود پر پابندی لگا لیتی اور شاید ایسا کرنے سے ان کی اپنی ساکھ ذرا بہتر ہو جاتی۔ اگر آنکھیں بند کر کے حکومت کی بات مان لی جائے کہ عمران خان کی جماعت پر پابندی ضروری ہے تو کیا حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ پابندی لگا کر اس جماعت کو تحلیل کروا سکے کیونکہ حکومت کو اپنے فیصلے کہ پندرہ دن کے اندر پابندی کا معاملہ ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا ہے اور آئین کے مطابق سپریم کورٹ سے مراد فل کورٹ ہو گی یعنی سولہ ججز اور ایک چیف جسٹس آف پاکستان، تو کیا حکومت اپنے فیصلے کو سپریم کورٹ سے منظور کروا لے گی وہ بھی عین اس وقت جب سپریم کورٹ چند دن قبل پاکستان تحریک انصاف کو ایک قانونی سیاسی جماعت مان چکی ہو۔
اور جب تک سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو تحلیل نہ کر دے وہ سیاسی جماعت اپنی ذمے داریاں بطور سیاسی جماعت ادا کرتی رہے گی۔ ان حالات اور قانونی پس منظر میں لگتا ہے کہ حکومت کی تحریک انصاف پر پابندی کی خواہش دیوانے کا خواب ثابت ہو گی اور اس ساری کارروائی میں حکومتی جماعتوں کو سوائے ذلت کے کچھ نصیب نہ ہو گا۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ملک کو نقصان ہو گا معیشت کو نقصان ہو گا اور ملک کی سالمیت رسک پر رہے گی۔ میرے نزدیک اس ملک میں جمہوریت کی اصل دشمن حکومتیں ہوتی ہے۔ تنقید کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانے والے ہی اپنی اور معاشرے کی فلاح کر پاتے ہیں۔
حقیقی عوامی حکومتیں کبھی جمہور کی آواز کو نہیں دباتیں، معاشرہ میں کبھی گھٹن پیدا نہیں ہونے دیتیں، اخلاقی طور پر بہت مضبوط ہوتی ہیں، صرف مینڈیٹ چور، الیکشن کی بجائے سلیکشن پر یقین رکھنے والے لوگ ہی پابندیوں کے ذریعے حکمرانی کو ترجیع دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے مخالف کا مقابلہ عوام میں کرتی ہیں، مقدمات اور پابندیوں کے ذریعے مخالف سے جان چھڑانا جمہوریت کی نہیں آمریت کی نشانیاں ہوا کرتی ہیں۔


