ضیاء الحق دور میں ملٹری کورٹ اور حمید بلوچ کا ٹرائل


پانچ جولائی انیس سو ستتر کا بد قسمت دن پاکستان کی تاریخ میں تیسرے ملٹری رول کی ابتدا کا دن تھا جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سبک دوش کرتے ہوئے مسند اقتدار پر خود براجمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ یوں پاکستان کا متفقہ طور پر منظور شدہ انیس سو تہتر کا آئین معطل ہو چکا تھا اور طاقت کی مرضی اور منشاء ہی کار مملکت خداداد سر انجام دینے کے لیے واحد اصول کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اسی رستے پر چلتے ہوئے ایک طرف بھٹو کا عدالتی قتل ہوتا ہے جسے حال ہی میں عزت مآب قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بنچ بھی عدالتی قتل سے تعبیر فرماتا ہے اور اپنی رائے میں قرار دیتا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو آئین پاکستان کا صاف اور شفاف فیئر ٹرائل کا حق جو آرٹیکل دس اے میں ہر ملزم کا حق تسلیم کیا گیا ہے، وہ نہیں دیا گیا اور انہیں اس سے محروم رکھا گیا۔ آج کی تحریر میں ایسی ہی ایک اور مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس کی کارگزاری کی داستان پڑھ کر آپ سوچیں گے اور ضرور سوچیں گے کہ کیا ایسی اندھیر نگری کے بارے میں تصور بھی کیا جا سکتا ہے جو ہماری تاریخ کے سیاہ باب اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں؟

واقعہ کچھ یوں ہے کہ 9 دسمبر انیس سو اناسی کا دن چڑھا تو بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ایک بائیس سالہ نوجوان کارکن عبدالحمید بلوچ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ عبدالحمید بلوچ پر الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے ریاست عمان کے ایک ملٹری افسر کرنل خلفان ناصر پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ ریاست عمان کے یہ ملٹری افسر عمان میں پیدا شدہ بد امنی اور خلفشار کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بلوچستان سے نوجوانوں کی فہرست تیار کر رہے ہوتے ہیں تاکہ وہ ریاست عمان کی رائل عمان آرمی میں بھرتی ہو کر ایسے عناصر سے نبرد آزما ہو سکیں۔ چونکہ یہ گرفتاری ملٹری رول کے دوران وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کا مقدمہ بھی ملٹری کورٹ میں چلایا جاتا ہے جس کی سربراہی لیفٹیننٹ کرنل اکرام نبی بطور ملٹری کورٹ سربراہ کے کرتے ہیں۔

اس قتل کی ایف آئی آر میں حیران کن بات یہ نظر آتی ہے کہ مقتول کا نام اور اس کی پہچان کے لئے علامات کا ذکر موجود نہیں ہوتا ہے۔ جب ٹرائل کے دوران باضابطہ فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو اس وقت پراسکیوشن الزام یہ عائد کرتی ہے کہ جب عبدالحمید بلوچ نے عمانی کرنل خلفان ناصر پر حملہ کیا اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو گولی خلفان ناصر کی بجائے ایک اور شخص غلام رسول کو جا لگی اور وہ قتل ہو گیا جبکہ عمانی کرنل زندہ سلامت بچ گیا۔

ملٹری کورٹ میں جب کارروائی آگے بڑھتی ہے تو ڈیفینس کے لیے کراچی سے ایک وکیل مبشر قیصرانی کی جانب سے مضبوط دلائل اور ثبوت دیکھتے ہوئے پراسکیوشن ایک بار پھر اپنا موقف تبدیل کرتی ہے اور اب کی بار مقتول کا نام غلام رسول کی بجائے عبد الرزاق بتایا جاتا ہے کہ دراصل عبدالحمید بلوچ کی گولی سے قتل ہونے والا مقتول غلام رسول نہیں بلکہ عبد الرزاق تھا۔

ڈیفینس کے وکیل نئے سرے سے عبد الرزاق کے گھر کا پتہ چلاتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں تو حیران کن طور پر عبد الرزاق زندہ سلامت مل جاتا ہے۔ ڈیفنس کی کوششوں سے عبد الرزاق کے والد ملٹری کورٹ میں پیش ہو کر گواہی دیتے ہیں کہ ان کا بیٹا زندہ سلامت ہے اور اسے کسی نے قتل نہیں کیا۔ اس گواہی کے بعد پراسکیوشن ایک بار پھر اپنا موقف تبدیل کرتی ہے کہ مقتول عبد الرزاق نہیں بلکہ غلام رسول ہی تھا۔ ڈیفنس کے دلائل اور ثبوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملٹری کورٹ بالآخر عبدالحمید بلوچ کو سزائے موت کی سزا سنا دیتی ہے۔

سزائے موت کے اس فیصلے کے خلاف عبدالحمید کے وکیل مبشر قیصرانی بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل کرتے ہیں کہ اس سزا کو معطل کیا جائے کیونکہ جس مقتول کے قتل کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی ہے وہ درحقیقت زندہ ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس میر خدا بخش مری اس سزا کو معطل کر کے مچھ جیل حکام کو اس سزا پر عملدرآمد سے روک دیتے ہیں۔

چوبیس مارچ صد انیس سو اکیاسی کو پی سی او کے اجراء کے بعد ہائی کورٹس کے اختیارات ملٹری کورٹس سے سنائے گئے فیصلوں پر ختم کر دیا جاتے ہیں اور یوں گیارہ جون انیس سو اکیاسی کے روز مچھ جیل میں عبدالحمید بلوچ کو سولی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ ضیاء الحق کے ملٹری رول میں ملٹری کورٹ کی اس اندھیر نگری کو جو بھی نام دیا جائے اسے درست کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک اور لارجر بینچ کی ضرور درخواست کی جانی چاہیے تاکہ قاضی صاحب کی کورٹ اپنی حالیہ روایت کو آگے بڑھائے اور عبدالحمید بلوچ کے قتل کا مداوا تو ممکن نہیں مگر تاریخ کے اس سیاہ باب کو درست ضرور کیا جا سکے۔

تاریخ میں اس واقعے کی حقیقت اور تفصیل جاننے کے لئے احمد سلیم کی معروف کتاب ”پاکستان کے سیاسی قتل“ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS